Friday , December 15 2017
Home / ہندوستان / بال ٹھاکرے نے قومی مفاد میں ’’ہندوؤں کا خوف ‘‘ پیدا کیا تھا

بال ٹھاکرے نے قومی مفاد میں ’’ہندوؤں کا خوف ‘‘ پیدا کیا تھا

ممبئی ۔ 18 اگست ۔ ( سیاست ڈاٹ کام )شیوسینا نے آج اپنے بانی بال ٹھاکرے کے نظریہ کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے ’’ہندوؤں کا خوف ‘‘ صرف قومی مفاد کے تحت پیدا کیا تھا۔ ایک ہفتہ وار رسالہ میں پارٹی کے آنجہانی صدر کے خلاف شائع شدہ مضمون پر تنقید کرتے ہوئے شیوسینا کے ترجمان سامنا میں اداریہ شائع کیا گیا ہے ۔ جس میں کہا گیا ہے کہ رسالہ میں شائع شدہ مضمون کا مواد بکواس ہے ۔ سینا کے کارکنوں نے کل نریمان پوائنٹ جنوبی ممبئی میں رسالہ کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا تھا اور اس کی نقلوں کو چاک کردیا اور نذر آتش کیا تھا ۔ یہ کارروائی مضمون کے سلسلے میں تھی ۔ تنظیم نے آج کہا کہ ہندوؤں کو ملک میں فخر کے ساتھ جینا چاہئے اور اُن (ہندوؤں کی ) آواز کسی شیر ببر کی دھاڑ کی مانند ہونی چاہئے ۔

اداریہ میں کہا گیا ہے کہ اگر پاکستانی انتہاپسندوں کو جواب دینا ہے تو ہندوؤں کو بھی انتہائی مذہب پرست بننا پڑے گا ۔ اداریہ میں بال ٹھاکرے کے افکار و نظریات کا دفاع کرتے ہوئے شیوسینا نے کہا کہ اگر پاکستانی انتہاپسندوں کے خلاف اُن کا موقف اُن کے اپنے لب ولہجہ میں پاکستان کا جواب ہونا چاہئے تو اُسے دہشت گردی قرار دیا جاسکتا ہے اس قسم کی دہشت گردی قومی مفاد میں ہوگی ۔ بال ٹھاکرے تمام مذاہب کو مساوی سمجھتے تھے ۔ اُس وقت کی وزیراعظم اندرا گاندھی کے 1984 ء میں قتل کے بعد اُنھوں نے ریاست میں سکون اور امن برقرار رکھنے کی اپیل کی تھی ۔ ایسا اس لئے ہوا تھا کیونکہ سکھ برادری بھی ممبئی میں امن سے رہ سکے اور ریاست کے دوسرے علاقوں میں بھی اطمینان سے رہے ۔ آج اگر ہم اس رسالہ کو غیرضروری طورپر تشہیر دینا نہیں چاہتے تو غلط معلومات پر مبنی مضمون کی جو بالا صاحب کے بارے میں ہیں برداشت نہیں کریں گے لیکن اگر لوگ برہم ہوجائیں تو پہلے ہی سے یہ مردہ رسالہ اُن کی جانب سے بازار میں مزید کچل دیا جائے گا ۔

TOPPOPULARRECENT