Tuesday , December 11 2018

بانسواڑہ میں کانگریس اور ٹی آر ایس میں کانٹے کا مقابلہ

کسی بھی امیدوار کی معمولی ووٹوں سے کامیابی کا امکان ، 83.66 فیصد رائے دہی

بانسواڑہ ۔ 8 ۔ دسمبر : ( سیاست نیوز ) : بانسواڑہ میں رائے دہی پرامن اختتام 83.66 فیصد رائے دہی بانسواڑہ میں اسمبلی انتخابات 2018 کا پرامن اختتام ہوا ۔ بانسواڑہ حلقہ کے دو مواضعات بولم اور ناسپلی رات 7-30 بجے تک عوام نے ووٹ کا استعمال کیا ۔ بانسواڑہ میں جمعہ رہنے پر رائے دہی صبح کی اولین ساعتوں میں سست رہی بعد ازاں آہستہ آہستہ ووٹرس کا اضافہ ہوتا ہوا دیکھا گیا ۔ جو طویل قطاروں میں تبدیل ہوگئی ۔ رائے دہی کے دوران پولیس کا کافی بندوبست رہا ۔ عوام صبح کے اولین ساعتوں میں پولنگ مراکز تک پہنچتے دیکھا گیا ۔ سرکل انسپکٹر پولیس مہیش گوڑ نے بھاری جمعیت کے ہمراہ تمام پولنگ بوتھ پر گشت کررہے تھے ۔ اسلام پورہ ، دال ملک پہاڑ، CUPS اسکول ، گلرس اسکول ، پر خواتین کی بڑی قطاروں کو دیکھا گیا ۔ ٹی آر ایس امیدوار پوچارام سرینواس ریڈی نے اپنی اہلیہ کے ہمراہ آبائی وطن پوچارام پہونچ کر اپنے حق میں ووٹ کا استعمال کیا ۔ دوسری طرف کانگریس پارٹی امیدوار کے بلراج نے اپنے خاندان کے ہمراہ آبائی وطن بانسواڑہ میں اپنے حق میں ووٹ کا استعمال کیا ۔ لیکن پورانا بانسواڑہ ، گلرس اسکول اور دوسرے پولنگ مراکز میں تقریبا خواتین اور مرد حضرات کو رائے دہی فہرست میں نام درج نہ ہونے کی بنا پر مایوس جاتے ہوئے دیکھا گیا ۔ ضلع نظام آباد میں سب سے زائد بانسواڑہ حلقہ میں 83.66 فیصد رائے دہی ریکارڈ کی گئی ۔ بودھن میں 68.23 ، بالکنڈہ 79.14 ، آرمور 72.15 ، نظام آباد رورل 78.70 اور نظام آباد ( اربن ) میں 60.95 فیصد رائے دہی ہوئی ۔ ان تمام میں حلقہ بانسواڑہ 83.66 فیصد ریکارڈ درج ہے ۔ اس طرح بانسواڑہ حلقہ میں کانگریس اور ٹی آر ایس کے درمیان دو رخی مقابلہ ہے ۔ یہاں پر ٹی آر ایس پارٹی اور کانگریس پارٹی کے قائدین اپنی اپنی کامیابی کے دعوے کررہا ہے ۔ یہ گمان کیا جارہا ہے کہ کوئی بھی امیدوار بالکل کم ووٹوں کی سبقت سے کامیابی حاصل کرنے کی امید ظاہر کی جارہی ہے لیکن عوام کا رجحان کانگریس کے امیدوار کی کامیابی پر دیکھائی دے رہا ہے اور خوشی کا اظہار کررہے ہیں ۔ رائے دہی پرامن اختتام کو پہونچی کہیں سے کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا ۔۔

TOPPOPULARRECENT