Monday , June 18 2018
Home / مذہبی صفحہ / بانی جامعہ اور تصوف

بانی جامعہ اور تصوف

مولانا قاضی سید لطیف علی قادری، ملتانی نفوس کی پاکی اخلاق کی صفائی اور ظاہر و باطن کو یکسا نیت کے نور سے آراستہ کرنے کا نام تصوف ہے ، اور تصوف کا مقصد اصلی ابدی سعادت کا حصول ہے تصوف کی اصل وہ حدیث ہے جو حدیث جبرئیل سے مشہور ہے جس میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا : اُعبدکانک تراہ فان لم یکن تراہ فانہ یراک۔

مولانا قاضی سید لطیف علی قادری، ملتانی
نفوس کی پاکی اخلاق کی صفائی اور ظاہر و باطن کو یکسا نیت کے نور سے آراستہ کرنے کا نام تصوف ہے ، اور تصوف کا مقصد اصلی ابدی سعادت کا حصول ہے تصوف کی اصل وہ حدیث ہے جو حدیث جبرئیل سے مشہور ہے جس میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا : اُعبدکانک تراہ فان لم یکن تراہ فانہ یراک۔
تصوف چند اشغال ورسوم کا نام نہیں بلکہ معرفت ، طریقت، حقیقت، سلوک ،مجاہدہ او رخدا کی محبت واطاعت میں کامل ہونا بھی ہے۔ شریعت اور تصوف ایک دوسر ے کی راہ میں ہرگز متصادم نہیں بلکہ دونوں ایک دوسرے کے لئے لازم وملزوم ہیں۔ اگر شریعت جسم ہے تو تصوف کو اسکی روح کا درجہ حاصل ہے۔
اگر تصوف خداسے محبت کے دعوے کانام ہے توشریعت اس کا ثبوت ہے۔ تصوف علم وعمل اور اخلاص واطاعت ہی کا دوسرا نام ہے۔
صوفی وہ شخص ہے جو اپنے آپ کو غیراللہ سے محفوظ رکھے دل میں کوئی شیطانی خطرہ نہ آنے دے، عبادت اورریاضت میں اصول شرع اور سنت رسول پر قائم رہے۔ حضرت شیخ الاسلامؒ حضرت امام محمد انوار ا ﷲفاروقی رحمۃ اﷲ علیہ نے سلوک یا تصوف کی تعلیم اپنے والد گرامی قدر حضرت قاضی ابومحمد شجاع الدین فاروقیؒ سے حاصل کی تھی، اور تمام سلاسل میں آپ سے بیعت اور خلافت بھی حاصل کی۔اس طر ح والدگرامی نے رازہائے سربستہ اپنے ہونہار صاحبزادے کے سینہ میں منتقل کردئے ، اس کے علاوہ ۱۲۹۴؁ھ میں حرمین شریفین کے پہلے سفر کے موقع پر شیخ وقت امام العلماء حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی رحمۃ اللہ علیہ سے تصوف کے تمام سلاسل میں تجدید بیعت کی۔ اسی موقع پر شیخ العرب والعجم نے بلاطلب اپنا خرقہ خلافت بھی سرفرازفرمایا اور دکن کے مریدوطالبان کو یہ ہدایت فرمائی کہ وہ سلوک وتصوف کی تکمیل اور مشکلات کے حل کے لئے حضرت شیخ الاسلامؒ کی خدمت میں رجوع ہوکر مدد حاصل کریں۔

TOPPOPULARRECENT