Tuesday , July 17 2018
Home / مذہبی صفحہ / بانی جامعہ نظامیہ ایک گوہر نایاب شخصیت

بانی جامعہ نظامیہ ایک گوہر نایاب شخصیت

سیدہ رضوانہ فاطمہ
نابغہ روزگار، صوفی باصفا، شمس العلماء عارف باللہ حضرت مولانا حافظ انوار اللہ فاروقی رحمۃ اللہ علیہ کی ذات پاک سے کثیر خلق خدا کو بے شمار فائدہ پہنچا، گویا آپ ایسا سمندر رہے کہ جس کا کوئی کنارہ نہیں۔ بانی جامعہ نظامیہ کی شخصیت محتاج تعارف نہیں، آپ صرف بانی جامعہ ہی نہیں، بلکہ ریاست حیدرآباد کے دو سابق حکمرانوں میر محبوب علی خاں اور میر عثمان علی خاں کے استاد بھی رہے۔
آپ کا اسم گرامی محمد انواراللہ فاروقی، کنیت ابوالبرکات، خطاب فضیلت جنگ، خان بہادر، لقب شیخ الاسلام اور عارف باللہ ہے۔ آپ کا سلسلہ نسب انتالیسویں پشت میں خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ سے جا ملتا ہے۔ آپ کے والد ماجد کا نام حضرت حافظ ابو محمد شجاع الدین تھا، جب کہ آپ کے جد اعلی حضرت شہاب الدین علی، جن کا لقب فرخ شاہ کابلی تھا، رؤسائے کابل میں شمار کئے جاتے تھے۔ حضرت شیخ الاسلام کا وطن مالوف قندھار (ضلع ناندیڑ) تھا اور وہی آپ کی جائے ولادت بھی ہے۔حضرت شیخ الاسلام نے ناظرہ اور حفظ قرآن کی تکمیل کے بعد ابتدائی تعلیم اپنے والد ماجد مولانا شجاع الدین رحمۃاللہ علیہ سے حاصل کی اور علوم دینیہ کی تعلیم کے لئے مولانا عبدالحلیم فرنگی محلی، مولانا عبد الحئی فرنگی محلی اور مولانا فیاض الدین اورنگ آبادی کے آگے زانوئے تلمذ تہہ کیا، جب کہ تفسیر اور حدیث کا درس آپ نے حضرت شیخ عبد اللہ یمنی سے حاصل کیا۔
حضرت شیخ الاسلام کے عظیم کارناموں کی فہرست بہت طویل ہے۔ آپ کی خدمات اور کارنامے ناقابل فراموش ہیں۔ آپ کے زہد و تقویٰ کا یہ عالم تھا کہ متقی حضرات آپ کا تقویٰ دیکھ کر انگشت بدنداں رہ جاتے۔ آپ کو مالگزاری میں سرکاری ملازمت دی گئی، دیڑھ سال بعد آپ کے پاس قرض کے معاملے میں ایک ایسی دستاویز آئی، جس میں سود بھی شامل تھا، جسے دیکھنے کے بعد آپ نے استعفی پیش کردیا اور دین متین کی خاطر اپنی ملازمت کو ٹھکرادیا۔کہا جاتا ہے کہ جس شان سے آپ دربار شاہی میں تشریف لے جاتے تھے، اسے دیکھ کر حضرت امام یوسف رحمۃ اللہ علیہ کا ہارون رشید کے دربار میں جانا یاد آجاتا تھا۔ الغرض آپ نے ایک عظیم مدبر، مصلح امت اور مجدد کی حیثیت سے ملک و ملت کی ہر طرح سے اصلاح فرمائی۔ آپ کی گراں قدر خدمات ہر شخص پر روز روشن کی طرح عیاں ہیں۔بہ اشارہ حبیب پاک صلی اللہ علیہ وسلم حضرت شیخ الاسلام نے ۱۸۷۵ء میں جامعہ نظامیہ کی داغ بیل ڈالی، جس سے فرزندان اسلام آج تک مستفید ہو رہے ہیں۔ اس عظیم مرکزی دینی درسگاہ کی شہرت صرف حیدرآباد کی حد تک نہیں ہے، بلکہ سارے ہندوستان میں اسے شہرت حاصل ہوئی۔
حضرت شیخ الاسلام کو مختلف علوم پر دسترس حاصل تھی، آپ نے قرآن و حدیث کے دلائل سے معمور کئی کتابیں لکھ کر لوگوں کو سوز عشق رسول صلی الہ علیہ وسلم کی طرف مائل کیا۔ آپ کی مشہور تالیفات مجموعہ منتخب من الصحاح الستہ، دروس فتوحات مکیہ، مقاصد الاسلام (گیارہ حصے)، افادۃ الافہام، انوار احمدی اور حقیقۃ الفقہ ہیں۔ آپ عجز و انکساری کے پیکر تھے اور کھانے پینے، سونے، جاگنے میں ہمیشہ سادگی پسند فرماتے۔ حضرت شیخ الاسلام نے سلوک و طریقت کی تعلیم تو اپنے والد بزرگوار سے حاصل کی، تاہم ۱۲۹۴ھ میں جب حرم شریف پہنچے تو حضرت مہاجر مکی رحمۃ اللہ علیہ کے دست اقدس پر بیعت کی۔ آپ سلسلہ چشتیہ سے تعلق کی بناء پر کبھی کبھی سماع کا بھی اہتمام فرماتے۔ حضرت شیخ الاسلام کا وصال ۲۹؍ جمادی الاول ۱۳۳۶ھ کو ہوا۔

TOPPOPULARRECENT