Monday , July 16 2018
Home / Top Stories / باہر سے سیلنڈرس کا حصول زندگی بچانے کا ضامن نہیں

باہر سے سیلنڈرس کا حصول زندگی بچانے کا ضامن نہیں

چیف منسٹر اترپردیش یوگی آدتیہ ناتھ کا ہاسپٹل کے دورہ کے موقع پر تبصرہ

نئی دہلی ۔18مارچ ( سیاست ڈاٹ کام ) آپ سمجھتے ہیں کہ باہر سے سیلنڈرس منگواکر آپ نے زندگیاں بچائی ہیں اور ہیرو ہیں‘ ہم اس معاملہ کا جائزہ لیں گے ۔ چیف منسٹر اترپردیش یوگی آدتیہ ناتھ نے نوجوان ڈاکٹر کفیل خان سے اپنے دورہ بابا راگھو داس ہاسپٹل گورکھپور کے دوران یہ بات کہی ۔ گورکھپور ان کا آبائی حلقہ انتخاب ہے ۔ 70بچے آکسیجن کی کمی کی وجہ سے ہلاک ہوگئے تھے ۔ جس کی وجہ آکسیجن Encephalitsکے علاج میں اہم شئے ہے ۔ ڈاکٹر خان اس وقت مشہور ہوگئے تھے جب کہ انہوں نے بچوںکا علاج کرنے کے بجائے آکسیجن حاصل کرنے کیلئے جدوجہد کی تھی ‘ تاکہ مرتے ہوئے بچوں کی جان بچائی جاسکے ۔ اس حقیقت کو گورکھپور کی طبی برادری نے تسلیم کیا تھا کہ اس نوجوان ڈاکٹر نے یہ اقدام کیا تھا ۔ بصورت دیگر اموات کی تعداد اور بھی زیادہ ہوسکتی تھی ۔ تاہم ان کا شکریہ ادا کرنے کے بجائے اور انہیں انعام دینے کے بجائے ریاستی حکومت نے انہیں دھمکیاں دیں ۔چیف منسٹر آدتیہ ناتھ نے انہیں کئی ارکان عملہ کے روبرو ہاسپٹل کے اپنے دورہ کے موقع پر انہیں جھڑکیاں دیں ۔ وہ انچارج نہیں تھے ‘ وہ صرف دوسرے وارڈ میں ملازمت کررہے تھے لیکن انہوں نے بچوں کی جان بچانے کیلئے جدوجہد کی ۔ رات بھر علاج میں مصروف رہے ‘ ٹی وی کے عملہ نے اس کی تصویریں لیں ۔ ڈاکٹر سے انٹرویو لیا کیونکہ انہوں نے ابتدائی ردعمل کے طور پر آکسیجن کی قلت کو محسوس کرلیا تھا اور بعد ازاں انہیں علم ہوا کہ معاہدہ کی تجدید نہیں کی گئی تھی کیونکہ بقایا جات کی ادائیگی نہیں ہوئی تھی ‘ اس کے باوجود انہوں نے پشپا سیلس نامی ادارہ کو جو ہاسپٹل کو آکسیجن گیس سربراہ کرتا تھا اور ریاستی حکومت کو قطعی انتباہ روانہ کیا کہ اگر سربراہی بحال نہ کی جائے تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے لیکن کمپنی نے بقایا جات کی ادائیگی تک سربراہی بحال کرنے سے انکار کردیا ۔ آدتیہ ناتھ کی جانب سے ان کے رویہ پر سبق سکھانے کی دھمکی کے کچھ ہی دیر بعد یہ اطلاع ملی کہ ڈاکٹر خان کو معطل کردیا گیا ہے ۔ اس وقت شہریوں نے ان سے بات چیت کی اور انہیں صدمہ سے دوچار پایا ۔ وہ ایک لفظ بھی کہنے سے خوفزدہ نظر آرہے تھے ۔ انہوں نے صرف اتنا کہا کہ وہ لوگ ہاتھ دھوکر میرے پیچھے پڑگئے ہیں ‘ میں کچھ بھی نہیں کہہ سکتا ۔ میرا فون تک بند کردیا گیا ہے ۔ گورکھپور میں ان سے واقف لوگوں نے کہا کہ وہ خوفزدہ تھے اور زبردست ذہنی دباؤ کے تحت تھے ۔ ڈاکٹر خان ایک اچھا شخص ہیں ‘ مجبور ہیں اور ذہین ہیں ۔ انہوں نے وہی کیا جو کہ ایک حساس ڈاکٹر کرسکتا ہے لیکن انہیں سزا دی گئی اور ایک ایسے جرم میں قید کردیا گیا جو انہوں نے نہیں کیا تھا ۔ڈاکٹر خان کو گرفتاری کی توقع تھی لیکن ان کا خیال تھا کہ انصاف غالب آئے گا لیکن وہ غلط تھے ۔ گذشتہ سال ستمبر میں انہیں دیگر دو ڈاکٹروں کے ساتھ گرفتار کرلیا گیا ۔ ابتداء میں انہیں ان ڈاکٹروں کے ساتھ رکھا گیا لیکن دو دن بعد انہیں قریبی مجرموں کے وارڈ میں منتقل کردیا گیا ۔ ان سے حال ہی میں ملاقات کی کوشش ناکام ہوئیں ۔ ان کو بیمار ہونے کے بہانے دوسروں سے ملاقات کرنے کا موقع نہیں دیا جارہا ہے ۔ ڈاکٹر خان جیل میں تقریباً چھ ماہ سے ہیں ۔ ان کی ضمانت پر رہائی کی درخواست مسترد کردی گئی ہے ۔ ان کے خلاف ریاستی حکومت کے 9 افراد نے ایف آئی آر درج کروائی ہے ۔ بعد ازاں انہیں ایس ٹی ایف نے گرفتار کرلیا جو اسی مقصد سے تشکیل دی گئی تھی ۔ اس کے بعد ضلع مجسٹریٹ کی جانب سے اعلیٰ سطحی تحقیقات کروائیں گئی ۔ اس کے بعد چیف سکریٹری اور ڈاکٹر خان کو ملزم قرار دیا گیا لیکن اس کی اطلاع سینئرس کو نہیں دی گئی اور نہ ان سے مناسب اجازت حاصل کی گئی ۔

TOPPOPULARRECENT