Thursday , June 21 2018
Home / Top Stories / باہمی اعتماد میں اضافہ پر نریندر مودی ۔ ژی جن پنگ تبادلہ خیال

باہمی اعتماد میں اضافہ پر نریندر مودی ۔ ژی جن پنگ تبادلہ خیال

ژیان 14 مئی ( سیاست ڈاٹ کام )وزیر اعظم نریندر مودی اور صدر چین ژی جن پنگ نے آج ’’اعتماد ‘‘میں اضافہ اور سرحد پر ہندوستان اور چین کے درمیان امن برقرار رکھنے پر تبادلہ خیال کیا ۔ دونوں ممالک کے تعلقات میں برسوں پرانے سرحدی تنازعہ کی وجہ سے اکثر کشیدگی پیدا ہوتی رہتی ہے۔نریندر مودی کا گذشتہ سال وزیر اعظم کاعہدہ سنبھالنے کے بعد یہ اول

ژیان 14 مئی ( سیاست ڈاٹ کام )وزیر اعظم نریندر مودی اور صدر چین ژی جن پنگ نے آج ’’اعتماد ‘‘میں اضافہ اور سرحد پر ہندوستان اور چین کے درمیان امن برقرار رکھنے پر تبادلہ خیال کیا ۔ دونوں ممالک کے تعلقات میں برسوں پرانے سرحدی تنازعہ کی وجہ سے اکثر کشیدگی پیدا ہوتی رہتی ہے۔نریندر مودی کا گذشتہ سال وزیر اعظم کاعہدہ سنبھالنے کے بعد یہ اولین دورہ چین ہے ۔ مودی کا صدر چین ژی نے گرمجوش استقبال کیا۔ اس سلسلہ میںانہو ںنے پروٹوکول کو بھی نظر انداز کردیا۔ عام طور پر بیرونی اہم شخصیات کا بیجنگ کے باہر استقبال نہیںکیا جاتا لیکن گذشتہ سال ستمبر میں وزیر اعظم ہند نے صدر چین کا اپنے آبائی شہر احمد آباد میںاستقبال کیا تھا اور صدر چین کا آج کا استقبال جوابی خیر سگالی کا مظاہرہ تھا۔ نریندر مودی نے چین کی 46 ارب امریکی ڈالر سرمایہ کاری پر بھی بات چیت کی

جو اُس نے پاکستانی مقبوضہ کشمیر سے گذرنے والی معاشی راہداری پر کی ہے جس کے خلاف ہندوستان احتجاج کرچکا ہے۔اس سرمایہ کاری کا اعلان صدر ژی کے گذشتہ ماہ دورہ پاکستان کے موقع پر کیا گیا تھا ۔ ایک اور متنازعہ مسئلہ جو مودی نے اٹھایا مبینہ طور پر چین کی جانب سے ارونا چل پردیش کے شہریوں کو منسلکہ ویزا جاری کرنے کا مسئلہ تھا ۔ چین کا دعوی ہے کہ ارونا چل پردیش جنوبی تبت کا حصہ ہے جو چین کے قبضہ میں ہے تاہم ہندوستان نے اس ادعا کو مکمل طور پر مسترد کردیا ہے ۔ باہمی اعتماد اور روابطہ میں اضافہ پر بھی کافی تبادلہ خیال کیاگیا ۔

دونوں قائدین نے سرحدی مسئلہ بشمول امن اور خیر سگالی کے مظاہرے کے علاوہ سرحد پار دریاووں کے بارے میں بھی بات چیت کی ۔ سرحدی مسئلہ دونوں بڑے ایشیائی ممالک کے درمیان ایک متنازعہ مسئلہ ہے اور دونوں ممالک اپنے خصوصی نمائندوں کی بات چیت کے ذریعہ اس کی یکسوئی کیلئے کوشاں ہیں۔ ملاقات کا ماحول بہت آرامدہ تھا ۔ دونوں قائدین کے درمیان گذشتہ ستمبر سے خوشگوار تعلقات قائم ہیں۔ مودی اور ژی نے تجارت میں عدم توازن اور اس کی یکسوئی کے مسئلہ پر بھی بات چیت کی۔ دونوں قائدین نے سرمایہ کاری کے ماحول اور اصلاحات کو در پیش چیلنجوں کا بھی تذکرہ کیا ۔ قبل ازیں نریندر مودی نے شہر ژیان میں دیوار چین کا مشاہدہ کیا ۔ یہ قدیم ترین اور وسیع ترین دیوار ہے جسے ایک روایت کے مطابق تانگ خاندان نے تعمیر کروایا تھا اور یہ ایک تاریخی حیثیت رکھتی ہے ۔ مودی نے دیوار کے نیچے سے اوپر تک کا فاصلہ طئے کیا۔یہ دیوار50تا 60چوڑی اور بالائی حصہ میں 40فیٹ چوڑی ہے ۔ قبل ازیں صدر چین کے ساتھ اُن کی تفصیل سے بات چیت ہوئی تھی۔

چین میں نریندر مودی کا ٹیراکوٹا فوجی میوزیم کا دورہ
ژیان ۔ 14 مئی (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم نریندر مودی نے آج مشہور ٹیراکوٹا جنگ بازوں کے میوزیم کا دورہ کیا جہاں سنگ تراشی کیلئے ذریعہ چین کے پہلے شہنشاہ قن شی ہوانگ کی فوج کا نقشہ کھینچا گیا ہے۔ مودی آج صبح ہی تین روزہ دورہ پر یہاں پہنچے، جہاں ان کا زبردست استقبال کیا گیا۔ نریندر مودی بیجنگ اور شنگھائی بھی جائیں گے۔ میوزیم کے متعدد انکلوژرس کا انہوں نے انتہائی ذوق و شوق سے مشاہدہ کیا اور تقریباً ایک گھنٹہ وہاں گذارا ۔ میوزیم سے قریب کھدوائی کا کام جاری تھا جس کے بارے میں مودی نے تفصیلات حاصل کیں۔ میوزیم میں رکھی گئی ’’وزیٹرس بک‘‘ میں انہوں نے تحریر کیا کہ وہ میوزیم دیکھ کر بیحد متاثر ہوئے کیونکہ یہاں کی نادر اشیاء کو انتہائی حفاظت سے رکھا گیا ہے۔ ٹیراکوٹا فوجیوں اور ان کے زیراستعمال گھوڑوں کی سنگتراشی کے نمونوں کے علاوہ شہنشاہ قن کا مزار بھی موجود ہے۔ ژیان زمانہ قدیم کا ایک شہر ہے، جہاں چینی اور بودھ ثقافت کا دور دورہ ہے۔ نریندر مودی کا یہ پہلا سرکاری دورہ ہے۔ شہنشاہ قن کا مقبرہ بھی فن تعمیر کا اعلیٰ نمونہ ہے اور چین کی تاریخ کا اعظم ترین مقبرہ ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہیکہ سنگتراشی کے ذریعہ ٹیراکوٹا فوجیوں کو بنانے میں 700,000 ورکرس نے اپنی مہارت استعمال کی تھی۔

TOPPOPULARRECENT