Thursday , September 20 2018
Home / ہندوستان / بایاں بازوکی اکٹوبر انقلاب صدی تقاریب کا انعقاد

بایاں بازوکی اکٹوبر انقلاب صدی تقاریب کا انعقاد

سی پی آئی(ایم) پولیٹ بیورو رکن حنان ملا کی پی ٹی آئی سے بات چیت
کولکتہ ۔ 12نومبر ( سیاست ڈاٹ کام ) بایاں بازو جسے مغربی بنگال میں سیاسی بحران کا سامنا ہے اکٹوبر انقلاب کی صدی تقاریب منارہا ہے کیونکہ بایاں محاذ کا احساس ہے کہ اس کے بنیادی کارکنوں کو دوبارہ اپنے قدم جمانے کا موقع ملے گا تاکہ ملک میں انتشار پسند طاقتوں کا مقابلہ کرسکیں ۔ بایاں بازو کی پارٹیاں بنگال میں جیسے سی پی آئی (ایم) اور سی پی آئی کا احساس ہے کہ انقلاب کا پیغام نوجوان نسل کو اُن کی جانب راغب کرے گا ۔ سی پی آئی (ایم) مرکزی کمیٹی کے رکن واسودیو آچاریہ نے پی ٹی آئی سے کہا کہ ہاں یہ سچ ہے کہ ہمیں بحران کا سامنا ہے ‘ یہی وجہ ہے کہ اکٹوبر انقلاب کی تعلیمات اور کامیابی ہمارے لئے زیادہ اہمیت رکھتی ہے تاکہ اس سے تحریک حاصل کی جاسکے ۔یہ اس لئے بھی اہم ہے کہ انتشار پسند طاقتوں کا مقابلہ کرنے کیلئے ایک لائحہ عمل تیار کیا جائے ۔ سی پی آئی ( ایم ) اور دیگر بایاں بازو کی پارٹیوں نے ایک مہینہ طویل سیاسی پروگرام ریاست گیر سطح پر منظم کیا ہے تاکہ اکٹوبر انقلاب کی 100ویں سالگرہ منائی جاسکے ۔

اس سوال پر کہ یہ تقاریب اس طرح بایاں بازو کو اپنا کھویا ہوا مقام واپس حاصل کرنے میں مدد کریں گی ۔ سی پی آئی ( ایم) پولیٹ بیورو کے رکن حنان ملا نے کہا کہ یو ایس ایس آر نے غربت ‘ پسماندگی اور ناخواندگی کا صفایا کر کے ریکارڈ بنایا تھا ۔ سویٹ یونین نے لوگوں میں معیار کے قیام اور قومیت کا معیاری احساس بھی پیدا کیا تھا ۔ اس لئے یہ انقلاب ہمیں سوشلزم کی طاقت کا درس دیتا ہے ۔ ہندوستان میں انتشار پسند سیاست عروج پر ہے اور صرف سوشلزم اور اس کی پالیسیاں ہی اس سے جنگ کرسکتی ہے ۔ تاہم ملا نے اپوزیشن پارٹیوں کی تنقید کو اہمیت دینے اور جوابی وار کرنے سے انکارکردیا جبکہ اپوزیشن پارٹیاں بایاں بازو پر الزام عائد کرتی ہیں کہ وہ روس ‘ چین اور کیوبا کیلئے نرم گوشہ رکھتا ہے ۔ سی پی ائی اور سی پی آئی (ایم) کا بار بار مذاق اڑایا گیا ہے کہ وہ چین میں اور سابق سویٹ یونین میں اپنے ہم منصبوں سے روابط رکھے تھے ۔

TOPPOPULARRECENT