Friday , February 23 2018
Home / شہر کی خبریں / بتکماں کی ساڑیوں سے چیف منسٹر تلنگانہ کو پھانسی دینے پر زور

بتکماں کی ساڑیوں سے چیف منسٹر تلنگانہ کو پھانسی دینے پر زور

ساڑیوں کے کمیشن سے سنگارینی انتخابات میں ٹی آر ایس کی کامیابی ، ایل رمنا صدر تلنگانہ تلگو دیشم کا ریمارک
حیدرآباد ۔ 6 ۔ اکٹوبر : ( سیاست نیوز ) : صدر تلنگانہ تلگو دیشم پارٹی ایل رمنا نے بتکماں کی ساڑیوں سے چیف منسٹر کے سی آر کو پھانسی دینے کا ریاست کے عوام سے مطالبہ کیا ۔ بتکماں ساڑیوں کی کمیشن سے سنگارینی انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کا ٹی آر ایس پر الزام عائد کیا ۔ آج ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایل رمنا نے ٹی آر ایس حکومت کی کارکردگی اور چیف منسٹر کے سی آر کی من مانی پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی مفاد پرستی کی خاطر کے سی آر نے جمہوری اقدار کو پامال کردیا ۔ جھوٹی تشہیر کے ذریعہ حکومت کی ناکامیوں سے عوام کی توجہ ہٹانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ بتکماں ساڑیوں کی خریدی میں بڑے پیمانے پر بدعنوانیاں ہوئی ہیں اس سے جو کمیشن حاصل کیا گیا ہے اس کو سنگارینی کے انتخابات میں پانی کی طرح بہایا گیا ہے ۔ سرکاری مشنری کا بیجا استعمال کیا گیا دولت اور طاقت کے بل بوتے پر انتخابات میں کامیابی حاصل کی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایک دن آئے گا یہی بتکماں ساڑیوں کے ذریعہ عوام کے سی آر کو پھانسی دیں گے ۔ ٹی آر ایس کا دور حکومت مایوس کن ہے ۔ سماج کا کوئی بھی طبقہ حکومت کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہے ۔2014 کے انتخابی منشور میں تلنگانہ کے عوام سے ٹی آر ایس نے جو وعدے کئے تھے اس میں ایک وعدے کو بھی چیف منسٹر نے ابھی تک پورا نہیں کیا ہے ۔ عوام کو ڈبل بیڈ روم مکانات نہیں ملے نہ ہی دلتوں کو تین ایکڑ اراضی دی گئی ہے ۔ مسلمانوں اور ایس ٹی طبقات کو 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کا وعدہ کرتے ہوئے دھوکہ دیا گیا ہے ہر طرف بدعنوانیوں کا بازار گرم ہے ۔ حکمران جماعت کے ارکان اسمبلی اراضی قبضوں میں ملوث ہیں ۔ کلکٹر کی جانب سے رپورٹ پیش کرنے کے بعد جنگاؤں کے رکن اسمبلی کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی ۔ چیف منسٹر اس مسئلہ پر فوری ردعمل کا اظہار کریں اور واقعہ کی عدالتی تحقیقات کرائے ۔۔

Top Stories

مولانا آزاد کی برسی پر تقریب کا انعقاد دہلی ومرکزی حکومت کی جانب سے بڑے لیڈران نے شرکت نہیں کی‘ صدر جمہوریہ ہند کی جانب سے ان کی مزار پر گل پوشی اور نائب صدر جمہوریہ نے اپنا پیغام بھیجا نئی دہلی۔آزادہندو ستا ن کے پہلے وزیر اتعلیم مولانا آزاد کے ساٹھ ویں یوم وفات کے موقع پر آج ان کے مزار واقع مینابازار میں ایک تقریب کا انعقاد ائی سی سی آر کی جانب سے کیاگیا۔افسوس کی بات یہ رہی کہ اس مرتبہ بھی مولانا آزاد کی وفات کے موقع پر دہلی ومرکزی حکومت کی جانب سے کسی بڑے لیڈران نے شرکت نہیں کی۔ چونکہ جامع مسجد پر کناڈہ کے وزیراعظم کو آناتھا اس لئے تقریب کو بہت مختصر کردیا گیاتھا۔ اس دوران صدرجمہوریہ ہند کی جانب سے ان کی مزار پر گل پوشی کی گئی او رنائب صدر جمہوریہ ہند نے اپنا پیغام بھیجا۔ ائی سی سی آر کے ڈائریکٹر نے مولانا آزاد کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہاکہ جہاں تک مولانا آزاد کا تعلق ہے اور انہوں نے جو خدمات انجام دیں انہیں فراموش نہیں کیاجاسکتا۔ ہندو مسلم میں اتحاد قائم کیااس کی مثال ملنا مشکل ہے انہوں نے بھائی چارہ کوفروغ دیا۔ انٹر فیتھ ہارمنی فاونڈیشن آف انڈیاکے چیرمن خواجہ افتخار احمد نے کہاکہ مولانا آزاد نے لڑکیوں کی تعلیم پر بہت زیادہ توجہ دی۔ جب حکومت قائم ہونے کے بعد قلمدان کی تقسیم ہونے لگے تو مولانا آزاد نے تعلیم کا قلمدان لیاتاکہ لڑکیو ں کی تعلیم پر خاص دھیان دیاجاسکے۔ خاص طور سے مسلم لڑکیو ں کی تعلیم پر زیادہ دھیان دیاجائے۔کیونکہ مسلم لڑکیو ں کو پڑھنے کے زیادہ مواقع نہیں مل پاتے ۔ معروف سماجی کارکن فیروز بخت احمد مولانا سے منسوب ایک پروگرام میں پونے گئے ہوئے تھے۔ انہوں نے نمائندہ کو فون پر بتایا کہ مولانا آزاد کی تعلیمات کو قوم نے بھلادیا ہے۔ آج تک ان جیسا لیڈر پیدا نہیں ہوسکا اور افسوس کی بات ہے کہ مولانا آزاد کی برسی یا یوم پیدائش کے موقع پر دہلی یامرکزی حکومت کی جانب سے کوئی بڑا لیڈر شریک نہیں ہوتا۔ ایسا معلوم ہوتا کہ حکومت نے مولانا آزاد کو بھلادیا ہے۔ اس دوران سی سی ائی آر کی ایک کمار مولانا ابولکلام آزاد فاونڈیشن کے چیرمن عمران خان سمیت کافی لوگ موجود تھے۔
TOPPOPULARRECENT