Sunday , November 19 2017
Home / Top Stories / بجرنگ دل بھی داعش اور حزب المجاہدین کے نقش قدم پر گامزن

بجرنگ دل بھی داعش اور حزب المجاہدین کے نقش قدم پر گامزن

لکھنؤ۔/26مئی، ( سیاست ڈاٹ کام ) اتر پردیش میں بجرنگ دل کا ہتھیار بند تربیتی کیمپ سیاسی جماعتوں کے درمیان لفظی جنگ کا سبب بن گیا ہے جبکہ بہوجن سماج پارٹی سربراہ مایاوتی نے غیرقانونی تربیتی مشق کو ریاستی گورنر رام نائیک کی حمایت پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور سماج وادی پارٹی نے یہ الزام عائد کیا ہے کہ اسمبلی انتخابات کے پیش نظر بی جے پی ریاست میں فرقہ وارانہ جذبات بھڑکانے کی کوشش کررہی ہے۔ تاہم بی جے پی ترجمان وجئے بہادر پاٹھک نے الزام عائد کیا کہ اکھلیش یادو حکومت بجرنگ دل کے حسب معمول سالانہ تربیتی کیمپ کو سیاسی رنگ دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے کیمپس منعقد کرنے میں کوئی قباحت نہیں ہے۔ بی ایس پی سربراہ مایاوتی نے ایک بیان میں کہا کہ بجرنگ دل کا مسلح تربیتی کیمپ بالکلیہ غیر قانونی ہے اور حکومت اتر پردیش کو چاہیئے کہ فی الفور پابندی عائد کرتے ہوئے منتظمین کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ مایاوتی کا یہ تبصرہ ایودھیا میں 14مئی کو منعقدہ دائیں بازو کی تنظیم کے خفیہ تربیتی کیمپ کی اطلاع منظر عام پر آنے کے بعد آیاہے جہاں سے بجرنگ دل کے کارکنوں نے مسلم دہشت گردوں اور فسادیوں کو ہلاک کرنے کا تمثیلی مظاہرہ کیا تھا۔ بی ایس پی سربراہ نے کہا کہ گورنر نائیک کی جانب سے قابل اعتراض کیمپس کی تائید تشویشناک بات ہے اور اس معاملہ میں گورنر کو دستور کا پاسدار  ہونا چاہیئے تھا۔ انہوں نے استفسار کیا کہ اگر سماج کے تمام طبقات یا غلبہ حاصل کرنے کیلئے ہتھیاروں کے استعمال کی تربیت کی اجازت  دے دی گئی تو کس قدر نتائج برآمد ہوں گے، سماج اور ملک پر اس کے اثرات کیا ہوں گے؟۔

فرقہ وارانہ اشتعال انگیزی اور غیر قانونی مشقوں پر سماجوادی اپرٹی حکومت کی بے عملی پر انگشت نمائی کرتے ہوئے مایاوتی نے الزام عائد کیا کہ پھر ایک بار یہ ثابت ہوگیا ہے کہ فرقہ وارانہ جذبات مشتعل کرنے کیلئے بی جے پی کے ساتھ ساز باز کرلی ہے تاکہ 2017 کے اسمبلی انتخابات میں  سیاسی فائدہ اٹھایا جاسکے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس طرح کی کارروائیوں ( ٹریننگ کیمپ ) کا اعادہ نہ ہونے کیلئے پولیس، انتظامیہ اور انٹلی جنس شعبہ کو چوکس کردیا جائے۔ دریں اثناء سینئر سماجوادی لیڈر اور پارٹی ترجمان راجندر چودھری نے بی جے پی اور سنگھی تنظیم پر الزام عائد کیا کہ اتر پردیش میں اسمبلی انتخابات کے پیش نظر فرقہ وارانہ جنون بھڑکانے کی کوشش میں ہے۔ سابق میں بھی بی جے پی نے ریاست میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی متاثر کرنے کیلئے لوجہاد اور گھرواپسی جیسے مسائل کے ساتھ مظفر نگر کا فساد بھڑکایا تھا اور اب ایودھیا میں بجرنگ دل کا کیمپ ووٹروں کی صف بندی کیلئے بی جے پی کے وسیع منصوبہ کا ایک حصہ ہے۔ سینئر کانگریس لیڈر اکھلیش سنگھ نے مطالبہ کیا کہ مستقبل میں اس طرح کے کیمپس کی روک تھام کیلئے ریاستی حکومت موثر اقدامات کرے جبکہ بی جے پی ارکان پارلیمنٹ ونئے کٹیار اور یوگی آدتیہ ناتھ نے بجرنگ دل کارکنوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے پر ریاستی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ اگرچیکہ بجرنگ دل نے اپنی سرگرمیوں کی مدافعت کرتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں میں قوم پرستی کے جذبات پروان چڑھانے کیلئے اس طرح کے کیمپس کارآمد ثابت ہوں گے جبکہ حکمران سماجوادی پارٹی نے تربیتی اجتماعات کو دہشت گردی کی ٹریننگ کے مترادف قرار دیا ہے۔ پارٹی ترجمان سید عاصم وقار نے کہا کہ اس طرح کی تمثیلی مشق صرف سرکاری ادارے منعقد کرسکتے ہیں۔ لیکن اب بعض نظریاتی تنظیمیں آئی ایس آئی ایس، حزب المجاہدین اور نکسلائیٹس کی تقلید کررہے ہیں میری نظر میں یہ ایک دہشت گردانہ تربیت ہے۔

TOPPOPULARRECENT