Monday , December 18 2017
Home / ہندوستان / بجٹ اجلاس کا طوفانی آغاز متوقع، کل جماعتی اجلاس کا اشارہ

بجٹ اجلاس کا طوفانی آغاز متوقع، کل جماعتی اجلاس کا اشارہ

نئی دہلی ۔ 22 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) بجٹ اجلاس کے طوفانی آغاز کی نشانیاں کل جماعتی اجلاس میں آج ظاہر ہوگئیں اور اندیشہ ہیکہ پارلیمنٹ کی کارروائی میں خلل اندازی پیدا ہوگی۔ کل جماعتی اجلاس میں اپوزیشن نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ خلل اندازی کے لئے ایجنڈہ کو بالائے طاق رکھ رہی ہے حالانکہ اپوزیشن سے ربط پیدا کرکے اس کی رضامندی حاصل کی گئی تھی کہ تمام مسائل بشمول جواہر لال نہرو یونیورسٹی تنازعہ پر بحث کی جائے گی۔ کل جماعتی اجلاس کو جو مرکزی وزیر برائے پارلیمانی امور ایم وینکیا نائیڈو نے طلب کیا تھا، صرف ایک ’’رسمی‘‘ کارروائی قرار دیتے ہوئے اپوزیشن نے مسترد کردیا اور کہا کہ بی جے پی نے اشتعال انگیز بیانات دینے پر ایک ہی لیڈر کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی ہے۔ اپوزیشن نے ایوان کی کارروائی چلانے کی ذمہ داری اس طرح حکومت پر عائد کردی۔ اپوزیشن حکومت کو گھیرنے کیلئے مستحکم اتحاد کرچکا ہے جبکہ بی جے پی کا احساس ہیکہ اسے مباحث کو محب وطن اور قوم دشمن کے درمیان تقابل پر فائدہ حاصل ہوگا۔ بی جے پی کے ایک لیڈر نے کہا کہ اپوزیشن پر واضح کردیا گیا ہیکہ اجلاس کے نصف اول میں کوئی بھی اہم بل پاس نہیں کیا جائے گا۔ قائد اپوزیشن راجیہ سبھا غلام نبی آزاد اور لوک سبھا میں کانگریس کے قائد ملک ارجن کھرگے کہہ چکے ہیں کہ اپوزیشن بلز کی منظوری صرف ان کے حسن و قبح کی بنیاد پر کرنے کی اجازت دے گی۔ جس کے بارے میں پہلے ہی سے اتفاق رائے ہوچکا ہے۔ متنازعہ بلز پیش نہیں کئے جائیں گے۔ صرف وہ بلز پیش کئے جائیں گے جن کے بارے میں عام معاہدہ ہوچکا ہے۔ جی ایس ٹی جیسے بلز اجلاس کے نصف اول میں پارلیمنٹ میں پیش نہیں کئے جائیں گے۔ انہوں نے راست جواب دینے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ یہی موقف اس وقت اختیار کیا گیا تھا۔ کل جماعتی اجلاس میں کئی اپوزیشن پارٹیوں اور بی جے پی کے قائدین نے جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے تنازعہ پر عاجلانہ مباحث کا مطالبہ کیا۔ سی پی آئی ایم کے جنرل سکریٹری سیتارام یچوری نے ملک کی موجودہ صورتحال کو خون سرد کردینے والی صورتحال کے مترادف قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں اس کے نتیجہ میں جرمنی کی طرح فاشیزم کو عروج حاصل ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت ایجنڈہ کو پارلیمنٹ کی کارروائی میں خلل اندازی کے بہانے بالائے طاق رکھنے کی تیاری کررہی ہے حالانکہ ااجلاس کا ابھیآغاز ہی نہیں ہوا ہے۔ ہم نے دیکھا ہیکہ بی جے پی ایسے حالات ملک میں پیدا کررہی ہے جن کے نتیجہ میں پارلیمنٹ کی کارروائی میں خلل اندازی ہوسکتی ہے۔

TOPPOPULARRECENT