Wednesday , December 19 2018

بجٹ اجلاس کو پرسکون بنانے حکومت کا سیاسی جماعتوں سے رابطہ

لوک سبھا و راجیہ سبھا میں تمام جماعتوں کے قائدین کے ساتھ آج وزیر پارلیمانی امور وینکیا نائیڈو کا اجلاس

لوک سبھا و راجیہ سبھا میں تمام جماعتوں کے قائدین کے ساتھ آج وزیر پارلیمانی امور وینکیا نائیڈو کا اجلاس
نئی دہلی 6 جولائی ( سیاست ڈاٹ کام ) پارلیمنٹ کے ایک ماہ طویل بجٹ اجلاس سے قبل مرکزی حکومت ایوان کی کارروائی کے پرسکون انعقاد کو یقینی بنانے تمام سیاسی جماعتوں سے رابطہ کی کوشش کر رہی ہے ۔ بجٹ اجلاس کا کل 7 جولائی سے آغاز ہونے والا ہے ۔ وزیر پارلیمانی امور مسٹر ایم وینکیا نائیڈو نے کل صبح پارلیمنٹ بجٹ اجلاس کے آغاز سے قبل تمام سیاسی جماعتوں کے لوک سبھا و راجیہ سبھا قائدین کا ایک اجلاس طلب کیا ہے ۔ مسٹر نائیڈو نے یہ واضح کیا کہ حکومت چاہتی ہے کہ ایوان کے کام کاج میں سب کو ساتھ لے کر چلا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کسی بھی مسئلہ پر مباحث کی مخالفت نہیں کریگی اگر کرسی صدارت سے اس کی اجازت مل جائے ۔

مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین چاہتے ہیں کہ قیمتوں میں اضافہ کے مسئلہ پر ‘ ریل کرایہ میں اضافہ کے مسئلہ پر اور ملک کے وفاقی ڈھانچہ کے تعلق سے سشن میں مباحث کئے جائیں ۔ اپوزیشن جماعتوں کا ادعا ہے کہ حکومت کو مختلف مسائل پر نشانہ بنانے کیلئے ان کے پاس کافی مواد موجود ہے ۔ وہ حکومت کی جانب سے سابق سالیسیٹر جنرل گوپال سبرامنیم کو سپریم کورٹ کا جج مقرر کرنے سے حکومت کے انکار پر پیدا شدہ تنازعہ پر اور مرکزی وزیر مسٹر نیہال چند کے ایک مبینہ عصمت ریزی وقاعہ میں ملوث رہنے اور ملک میں خواتین پر مظالم میں اضافہ جیسے مسائل پر حکومت کو نشانہ بنانا چاہتی ہیں۔ پارلیمنٹ بجٹ اجلاس کی جملہ 28 نشستیں ہونگی اور اس میں 168 گھنٹے کام کاج کیا جائیگا ۔ ابھی مختلف وزارتوں کی اسٹانڈنگ کمیٹیوں کی حکومت کی جانب سے تشکیل عمل میں نہیں لائی گئی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT