Saturday , December 16 2017
Home / اداریہ / بجٹ سیشن اور مودی حکومت

بجٹ سیشن اور مودی حکومت

بھٹکتا چلا جارہا کارواں ہے
مگر ہم اسے راہ پر لارہے ہیں
بجٹ سیشن اور مودی حکومت
ہندوستان میں افلاس اور غربت کا خاتمہ کرنے اور اچھے دن لانے کا وعدہ کرتے ہوئے اقتدار پر پہنچنے والے نریندر مودی حکومت نے پارلیمنٹ کے دوسرے بجٹ سیشن کا آغاز کیا ہے۔ اس بجٹ سیشن کی اہمیت یہ ہیکہ یہاں عوام الناس کو کچھ نہیں ملے گا بلکہ حکومت اور اپوزیشن ایک دوسرے کی طاقت کا مظاہرہ کریں گی۔ اپوزیشن نے مختلف مسائل کی فہرست تیار کرلی ہے تو حکومت ہر مسئلہ سے بچنے کا حربہ اختیار کر رکھی ہے۔ ہندوستان میں افلاس اور غربت کی فہرست سے ہر غریب آدمی واقف ہے جہاں حکمرانوں کی نااہلی کی وجہ سے وسائل کی قلت پیدا ہوئی ہے، دولت کی نایابی نے متوسط طبقہ اور غریبوں کو امیروں کی تعیشات زندگی اور حکمرانوں کی بے حسی نے ربا کر رکھ دیا ہے۔ تشدد، خواہشات اور پھر ان سے جنم لینے والا احساس کمتری کے باعث پھوٹ پڑنے والے حالات ہریانہ، حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی یا جواہر لال نہرو یونیورسٹی واقعات کی شکل میں نمودار ہوتے ہیں۔ مودی زیرقیادت بی جے پی حکومت کو اپنے دوسرے بجٹ سیشن میں سیاسی اور معاشی نوعیت سے نہایت ہی بے اطمینانی کی کیفیت سے دوچار ہونا پڑے گا۔ حکومت نے سال 2015-16ء کے دوران پیداواری صلاحیت کو 7.6 فیصد بنانے کا عزم ظاہر کیا تھا لیکن تشویش کی بات یہ ہیکہ اس 7.6 فیصد کے قریب تک بھی پہنچنے کے کوئی آثار نظر نہیں آتے۔ عالمی معیشت میں نشیب و فراز نے خانگی شعبہ کی فکر کو مثبت ہونے سے روک رکھا ہے۔ ملک کی معیشت میں بہتری اس وقت آنے کی توقع کی جاسکتی ہے جب خانگی سرمایہ کاری سے زیادہ عوامی سرمایہ کاری کو زیادہ سے زیادہ ترجیح دی جائے لیکن نریندر مودی حکومت نے مخصوص سرمایہ دار گروپس کے تلوے چاٹ کر اس ملک کو مٹھی بھر طاقتور صنعتکاروں کے آگے گروی رکھنے کی کوشش کی ہے نتیجہ میں آج معاشی صورتحال کا گراف گرتا جارہا ہے۔ مسائل بڑھتے جارہے ہیں۔ ان معاشی مسائل کی ابتری کو پوشیدہ رکھنے کیلئے حکومت حیدرآباد یونیورسٹی، جواہر لال نہرو یونیورسٹی اس کے بعد جاٹ طبقہ کے کوٹا احتجاج کو ہوا دے کر عوام کی توجہ کہیں اور مبذول کرانے کی کوشش میں لگی ہوئی ہے۔ پارلیمانی بجٹ سیشن سے قبل اپوزیشن کو راضی کرانے کیلئے اس نے روایتی اجلاس طلب کئے اور سطحی تیقنات دے کر ہر مسئلہ پر بحث و مباحث کرنے سے اتفاق کیا۔ وزیراعظم نریندر مودی نے اپوزیشن سے کہا کہ وہ بی جے پی کے وزیراعظم نہیں بلکہ ہندوستان کے وزیراعظم ہیں۔ لہٰذا وہ عوام کے مسائل کو اٹھانے اور ان کی سماعت کرنے کیلئے تیار ہیں مگر حکومت اس بات پر ہرگز خوش نہیں ہے کہ اس نے حقیقتاً معاشی اصلاحات کا عمل پورا نہیں کیا ہے۔ حصول اراضی بل میں ترمیم کرنے اور گڈس اینڈ سرویس ٹیکس (GST) بل کو محض اپوزیشن کانگریس کے اعتراضات و احتجاج کی وجہ سے پارلیمنٹ میں منظور کرانے سے قاصر رہی۔ اس مرتبہ بھی ان بلوں کی منظوری حکومت کیلئے لوہے کے چنے چبانے کے مترادف ہوگی کیونکہ اپوزیشن سے ان بلوں سے زیادہ ملک کی جامعات کی صورتحال اور آر ایس ایس ایجنڈہ کو تعلیمی اداروں پر مسلط کرنے کی درپردہ کوششوں کے خلاف احتجاج کرنے کا تہیہ کرلیا ہے۔ ایوان میں حکومت کو ان ہی مسائل کی جانب توجہ دلائی جائے گی۔ بی جے پی نے 2014ء کے عام انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد یہ اندازہ قائم کرلیا تھا کہ اب اس کو کسی قسم کا سیاسی چیلنج نہیں ہے۔ لہٰذا وہ اپنی مرضی سے حکومت کرسکے گی لیکن گذشتہ 20 ماہ کی حکمرانی نے بی جے پی اور آر ایس ایس کے ایجنڈہ کو عیاں کردیا ہے جس کے بعد اپوزیشن نے اپنی کمزور استطاعت کے ساتھ حکومت کی غلطیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے محاذ آرا ہوئی ہے۔ جواہر لال نہرو یونیورسٹی اور حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی کی صورتحال پر قابو پانے میں حکومت کی ناکامی کو سب سے شدت سے نوٹ کیا جارہا ہے۔ وزیرداخلہ کی حیثیت سے راجناتھ سنگھ اور وزیر فروغ انسانی وسائل کے طور پر سمرتی ایرانی نے اپنی ذمہ داریوں کو بچکانہ طور پر ادا کرنے کی کوشش کی جس سے حالات پیچیدہ ہوگئے۔ جاٹ طبقہ جو طاقتور گروپ مانا جاتا ہے اپنے لئے تعلیمی اداروں اور سرکاری ملازمتوں میں تحفظات چاہتا ہے۔ ایسے حالات میں وزیراعظم مودی پہلی مرتبہ اپنی حکومت اور اس سے بڑھ کر خود کی مدافعت کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ اب وہ عوام کے سامنے ایک مجبور اور بے بس وزیراعظم بن کر آرہے ہیں۔ انہوں نے اوڈیشہ میں جلسہ عام سے یہی شکایت کی کہ چائے والے کو وزیراعظم بنتا دیکھ کر بعض گروپس سازشیں شروع کی ہیں۔ انہیں بدنام کرنے اور ان کی حکومت کو گرانے کی کوشش کی جارہی ہیں۔ اس طرح کی باتیں ایک حکمراں اسی وقت کرتا ہے جب ذہنی طور پر الجھن کا شکار ہوتا ہے اور ایک حکمراں کیلئے الجھن معیشت کیلئے فال نیک نہیں سمجھی جائے گی۔

TOPPOPULARRECENT