Friday , December 15 2017
Home / Top Stories / بجٹ سیشن کا راجیہ سبھا میں ہنگامہ خیز آغاز، کارروائی متواتر ملتوی

بجٹ سیشن کا راجیہ سبھا میں ہنگامہ خیز آغاز، کارروائی متواتر ملتوی

BSP Chief Mayawati at the press conference in New Delhi on Tuesday. Express Photo by Prem Nath Pandey. 22.09.2015.

مراعات شکنی کے خلاف ارکان کو انتباہ پر صورتحال ابتر ۔ بی ایس پی ارکان کا مایاوتی کی قیادت میں احتجاج
نئی دہلی ۔ 24  فبروری۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) راجیہ سبھا میں بجٹ سیشن کے پہلے کام کے دن کا ہنگامہ خیز آغاز ہوا ۔ ایوان میں اپوزیشن کے احتجاج کی وجہ سے مسلسل رکاوٹ پیدا ہوئی اور ایوان کی کارروائی کو متواتر ملتوی کرنا پڑا ۔ دلت طاب علم روہت ویمولا کی خودکشی پر احتجاج کرتے ہوئے ارکان نے نعرے لگائے۔ شوروغل کے ساتھ بی ایس پی ارکان نے اپنی لیڈر مایاوتی کی قیادت میں ایوان کے وسط میں پہونچ کر احتجاج کیا اور یہ لوگ بار بار ایوان کے وسط میں پہونچ کر بعض مرکزی وزراء کے استعفیٰ کا مطالبہ کررہے تھے ۔ اس صورتحال سے برہم راجیہ سبھا چیرمین حامد انصاری نے ریمارک کیا کہ وقفہ سوالات کو درہم کرنے سے ارکان کو انفرادی طورپر حاصل مراعات کی سنگین خلاف ورزی ہوتی ہے ۔ انھوں نے مراعات شکنی کے مرتکب ارکان کو انتباہ بھی دیا ۔ انھوں نے احتجاجی ارکان سے کہاکہ وہ انھیں دی گئی مراعات کا غلط استعمال نہ کریں اور نہ ہی اپنے ساتھیوں کو ایسا کرنے کی حوصلہ افزائی کریں۔ بی ایس پی ارکان کی جانب سے مسلسل احتجاج کے درمیاں وزیر فروغ انسانی وسائل سمرتی ایرانی نے کہاکہ اپوزیشن اس متوفی لڑکے ( روہت ویمولا ) کو ایک سیاسی آلۂ کار کے طورپر استعمال کررہی ہیں۔ اس کی موت کو اپنی حکمت عملی بناکر احتجاج کررہی ہیں ۔ انھوں نے اپوزیشن سے کہاکہ وہ فوری اس مسئلہ پر بحث شروع کریں۔ راجیہ سبھا کے اجلاس کے دوران ماقبل دوپہر کے کھانے تک بی ایس پی ارکان نے پانچ مرتبہ کارروائی کو ملتوی کردینے کیلئے مجبور کردیا ۔ ان ارکان نے نریندر مودی حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور کہاکہ یہ حکومت دلت دشمن اور مخالف امبیڈکر ہے اور ہم اس حکومت کو مزید اقتدار پر رہنے کی اجازت نہیں دیں گے ۔ بہوجن سماج پارٹی کی صدر مایاوتی نے دلت اسکالر روہت کی موت کو ملک کے پانچ کروڑ دلتوں کی توہین قرار دیا ۔ انھوں نے حکومت سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ وہ فوری اپنے دومرکزی وزراء کو برطرف کردے جن کا تعلق اس خودکشی واقعہ سے ہے ۔ مسئلہ کو اُٹھاتے ہوئے مایاوتی نے کہا کہ دلت اسکالر روہت ویمولا کی حیدرآباد یونیورسٹی میں موت ایک سنگین معاملہ ہے ۔

راجناتھ سنگھ ، ارون جیٹلی ، پیوش گوئل ، سمرتی ایرانی ، نرملا سیتارامن ، پرکاش جاویڈکر ، تھاورچند گیہلوٹ اور مختار عباس نقوی جیسے مرکزی وزراء ایوان میں موجود تھے ۔ اس شوروغل اور ہنگامہ کے دوران راجناتھ سنگھ ایوان سے اُٹھ کر چلے گئے ۔ ایوان بالا میں ہنگامہ کارروائی کے آغاز کے ساتھ ہی شروع ہوا ۔ اس مسئلہ کو بحث کیلئے حکومت نے فہرست میں شامل کرلیا تھا ۔ بی ایس پی لیڈر مایاوتی چاہتی تھیں حکومت ان کے مطالبہ کو قبول کرتے ہوئے مرکزی وزراء سے استعفیٰ طلب کرلیں۔ مرکز میں جب سے بی جے پی حکومت آئی ہے آر ایس ایس نظریہ کو عوام پر مسلط کرنے کی گھناؤنی سازش رچی گئی ہے ۔ انھوں نے کہا کہ حیدرآباد یونیورسٹی ، علیگڈھ مسلم یونیورسٹی ، جامعہ ملیہ اور جواہر لال نہرو یونیورسٹی جیسے یادگار تاریخی اداروں میں مداخلت کرکے ان کے تشخص کو نقصان پہونچانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ روہت ویمولا کی خودکشی پہلا کیس نہیں ہے ۔ مرکز میں کانگریس زیرقیادت یو پی اے حکومت کے دوران بھی کئی دلت طلبہ نے خودکشی کی تھی ۔

TOPPOPULARRECENT