Wednesday , February 21 2018
Home / Top Stories / بجٹ سے نئے ہندوستان کا ویژن مستحکم ہوگا ۔ مودی کا رد عمل

بجٹ سے نئے ہندوستان کا ویژن مستحکم ہوگا ۔ مودی کا رد عمل

غریب عوام کی خواہشات کو نئی جہت ملے گی ۔ بی جے پی صدر امیت شاہ کا بیان

نئی دہلی ۔ یکم فبروری ( سیاست ڈاٹ کام ) مرکزی بجٹ برائے 2018 – 19 کو ترقی کیلئے سازگار قرار دیتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ اس بجٹ میں دیہی علاقوں کی ضرورت پر توجہ مرکوز کی گئی ہے اور اس سے نئے ہندوستان کا ویژن مستحکم ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ اس بجٹ میں تمام شعبوں پر توجہ دی گئی ہے اور ان میں زراعت سے انفرا اسٹرکچر سبھی کچھ شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ بجٹ کسان دوست ‘ عام شہری کا دوست ‘ کاروباری ماحول کا دوست اور ترقی کیلئے سازگار بجٹ ہے ۔ بجٹ کی پیشکشی کے بعد اپنے رد عمل میں مودی نے وزیر فینانس ارون جیٹلی اور ان کی ٹیم کو مبارکباد پیش کی اور کہا کہ اس ٹیم نے جو بجٹ تیار کیا ہے اس سے دیہی ہندوستان کیلئے نئے مواقع دستیاب ہونگے ۔ نریندر مودی نے کہا کہ اس سے ملک کی ترقی کو رفتار حاصل ہوگی ۔ حکومت نہ صرف تجارت کو سہل بنانے پر توجہ دے رہی ہے بلکہ وہ زندگی کو سہل بنانے کیلئے بھی اقدامات کر رہی ہے ۔ یہ این ڈی اے حکومت کا آخری مکمل بجٹ تھا جبکہ 2019 میں لوک سبھا انتخابات ہونے والے ہیں۔ اپنی حکومت کی مختلف اسکیمات کا تذکرہ کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ بجٹ میں تمام شعبوں پر توجہ دی ہے اور بجٹ میں زراعت سے لے کر انفرا اسٹرکچر تک کا احاطہ کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے بیت الخلا کی تعمیر ‘ ہاوزنگ کی فراہمی ‘ برقی اور سب کیلئے صحت جیسے شعبوں کا احاطہ کیا ہے ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ بجٹ کے نتیجہ میں زندگی کو سہل بنانے میں مدد ملے گی ۔ اس دوران بی جے پی صدر امیت شاہ نے آج کہا کہ مرکزی بجٹ سے غریب عوام کی خواہشات کو نئے حوصلے ملیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ میں کسانوں ‘ انفرا اسٹرکچر ‘ دیہی شعبہ اور چھوٹے و اوسط درجہ کی صنعتوں پر خاص توجہ دی گئی ہے ۔ انہوں نے بجٹ کی پیشکشی پر کئی ٹوئیٹس کرتے ہوئے اپنے رد عمل کا اظہار کیا ۔ امیت شاہ نے کہا کہ دیہی شعبہ کیلئے بجٹ میں قابل لحاظ بجٹ مختص کیا گیا ہے اور اس کے نتیجہ میں زراعت کو تقویت حاصل ہوگی اور دیہی علاقوں کی ترقی یقینی ہو سکے گی ۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر فینانس ارون جیٹلی کی ستائش کی اور اقل ترین امدادی قیمت میں اضافہ کو تاریخی فیصلہ قرار دیا ۔ انہوں نے کہا کہ اس سے کسانوں کی حالت میں بہتری پیدا ہوسکتی ہے اور ان کی آمدنی دوگنی ہوجائیگی ۔ انہوں نے کہا کہ اس بجٹ سے جہاں کسانوں کو فائدہ ہوگا وہیں مڈل کلاس طبقہ کو بھی اس سے سہولیات ملیں گی ۔
انہوں نے ادعا کیا کہ اس بجٹ کے نتیجہ میں سماج کے تمام طبقات کو با اختیار بنانے اور انہیں خوشحال بنانے میں مدد ملے گی ۔

TOPPOPULARRECENT