Sunday , June 24 2018
Home / سیاسیات / بجٹ مخالف غریب اور موافق کارپوریٹ ‘کالے دھن سے نمٹنے لائحہ عمل نہیں

بجٹ مخالف غریب اور موافق کارپوریٹ ‘کالے دھن سے نمٹنے لائحہ عمل نہیں

نئی دہلی 16 مارچ (سیاست ڈاٹ کام )اپوزیشن جماعتوں نے این ڈی اے حکومت کے پہلے مکمل بجٹ کو شدید تنقیدوں کا نشانہ بنایا اور اسے مخالف غریب اور متوسط طبقہ قرار دیا۔ انہوں نے کارپوریٹ کی تائید و حمایت کا حامل بجٹ قرار دیا ۔ لوک سبھا میں آج عام بجٹ پر مباحث میں حصہ لیتے ہوئے مختلف سیاسی جماعتوں جیسے کانگریس‘ انا ڈی ایم کے‘ ترنمول کانگریس او

نئی دہلی 16 مارچ (سیاست ڈاٹ کام )اپوزیشن جماعتوں نے این ڈی اے حکومت کے پہلے مکمل بجٹ کو شدید تنقیدوں کا نشانہ بنایا اور اسے مخالف غریب اور متوسط طبقہ قرار دیا۔ انہوں نے کارپوریٹ کی تائید و حمایت کا حامل بجٹ قرار دیا ۔ لوک سبھا میں آج عام بجٹ پر مباحث میں حصہ لیتے ہوئے مختلف سیاسی جماعتوں جیسے کانگریس‘ انا ڈی ایم کے‘ ترنمول کانگریس اور بی جے ڈی ارکان نے کہا کہ حکومت نے سماجی بہبود کیلئے مختص رقم میں کمی کردی ہے۔ اس کے علاوہ انسداد غربت پروگرامس کو بھی نظر انداز کرتے ہوئے کارپوریٹ شعبہ کو فائدہ پہنچایا گیا ہے اور غیر ملکی راست سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کئی ارکان نے خاص طور پر سروس ٹیکس میں اضافہ ‘انکم سلاب میں کوئی تبدیلی نہ لانے اور پٹرولیم اشیاء کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ صارفین کو نہ پہنچانے کے موضوعات اٹھائے۔ بعض غیر این ڈی اے اور غیر کانگریس ارکان نے بھی الزام عائد کیا کہ یہ بجٹ یو پی اے بجٹ کی بدلی ہوئی شکل ہے ۔ بی جے پی نے تاہم بجٹ کا دفاع کیا اور کہا کہ یہ موافق غریب ہے۔ پارٹی نے اپوزیشن پر تنقید برائے تنقید کا الزام عائد کیا۔ مباحث کا آغاز کرتے ہوئے ویرپن موئیلی (کانگریس)نے کہا کہ بجٹ میں جن پروگرامس کا اعلان کیا گیا ہے وہ یو پی اے دور میں شروع ہوچکے ہیں۔ حکومت اس لحاظ سے خوش قسمت ہے کہ تیل کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ اسے مل رہا ہے اور 14 ویں فینانس کمیشن سے بھی حکومت فائدہ حاصل کررہی ہے حالانکہ یہ پیشرو یو پی اے دور میں قائم کیا گیا۔ انہو ںنے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ساز گار مالیاتی ماحول ہونے کے باوجود حکومت نے مالی زیر غور پروگرام کو ایک سال کیلئے ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت بین الاقوامی مارکٹ میں کروڈ آئیل کی قیمتوں میں کافی گراوٹ آئی ہے اور حکومت کیلئے یہ وقت موزوں تھا۔ وزیر فینانس ارون جیٹلی کا بجٹ گڈس اینڈ سرویسس ٹیکس (GST) پر عمل آوری کیلئے روڈ میاپ فراہم کرنے میں بھی ناکام رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یکم اپریل 2016 سے GST پر عمل آوری یا کارپوریٹ ٹیکس کو 30 فیصد سے کم کر کے 25 فیصد کرنے کے بارے میں بجٹ میں کوئی صراحت نہیں کی گئی ۔ موئیلی نے کہا کہ بجٹ میں اسپیشل اکنامک زونس کا تذکرہ نہیں ہے اور این ڈی اے حکومت نے کالا دھن سے نمٹنے کیلئے کوئی اقدامات نہیں کئے ۔ انہوں نے انوسٹمنٹ بینکر مورگن اسٹینلی اور نامور بینکر دیپک پاریکھ کی جانب سے معاشی صورتحال پر کئے گئے تبصرے پر تشویش ظاہر کی ۔

TOPPOPULARRECENT