Wednesday , January 17 2018
Home / ہندوستان / بجٹ میں زراعت کو فروغ دینے کی ضرورت

بجٹ میں زراعت کو فروغ دینے کی ضرورت

نئی دہلی، 14 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) اگلے مالی سال کے بجٹ کو لے کر ماہرین اقتصادیات، حکام اور سیاستدانوں کے درمیان ہو رہے مباحثے معیشت کے ایک اہم سیکٹر زراعت اور دیہی آمدنی کو بہتر بنانے کی ضرورت کے ارد گرد گھومتی نظر آ رہی ہے اور یہ اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ وزیر خزانہ ارون جیٹلی زراعت کو ترغیبات دینے میں سخاوت مظاہرہ کریں گے ۔ ملک میں حال میں ہوئے انتخابات سے بھی یہ دکھائی دیا کہ زراعت اور دیہی ترقیات کی جانب خصوصی توجہ دیئے جانے کی ضرورت ہے ۔ انتخابات میں دیکھنے میں آیا کہ کسانوں کے بحران کی وجہ سے ووٹروں نے مضبوط پوزیشن والی سیاسی پارٹیوں سے منہ موڑ لیا۔ مثال کے طور پر، بی جے پی کو ان دیہی علاقوں میں بہت کم حمایت حاصل ہوئی، جہاں کے کسان بحران سے گھرے ہوئے ہیں۔ ایسی جگہوں کے کسانوں نے کانگریس جیسی دیگر پارٹیوں کا رخ کیا۔ اس کے علاوہ، کسانوں کی خود کشی کا سبب بن رہے اناج کے کم داموں کی وجہ سے گزشتہ سال ملک کے کئی حصوں میں بہت سی منظم کسان تحریکیں بھی ہوئیں۔ زراعت جی ڈی پی کے 17 فیصد کے لئے ذمہ دار ہے اور ملک کے تقریبا نصف لیبر فورس کا گزر بسر اسی کے بل پر ہوتا ہے ۔ یہ ایک ایسا سیکٹر ہے ، جہاں غیر منافع بخش اقدار اور کاشت پر آنے والی اعلی لاگت اور بڑے فصل انشورنس کی غیر موجودگی نے نہ صرف کسانوں کو خودکشی جیسے اقدامات کرنے کی طرف دھکیلا ہے ، بلکہ یہ بڑے پیمانے پر کسانوں کے شہروں کی طرف ہجرت کا بھی سبب بنے ہیں۔ اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں کہ حال میں جب وزیر اعظم نریندر مودی نے 40 سے زیادہ ماہرین اقتصادیات کے ساتھ بات چیت کی تو اس میں دیہی علاقوں اور زرعی شعبے میں جان ڈالنے پر خصوصی زور دیا گیا۔ ایک تجویز یہ ہے کہ زرعی مصنوعات کی پیداوار کو بڑھانے کی کوشش کرنے کی بجائے ، دیہی آمدنی بڑھانے کی کوشش کئے جانے چاہئے جس میں توقع کے مطابق اضافہ نہیں ہوا ہے ۔ ایسا مانا جا رہا ہے کہ وزیر خزانہ ارون جیٹلی آئندہ فروری میں پیش کئے جانے والے بجٹ کو تیار کرتے وقت ان میں سے کئی تجاویزکو شامل کر سکتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT