Wednesday , December 12 2018

بجٹ میں گریٹر حیدرآباد بُری طرح نظر انداز

بلدیہ ،آبرسانی اور ایچ ایم ڈی محکموں کو ان کا حق نہیں ملا ، شہر کو ترقی دینے کا دعوی کھوکلا ثابت

حیدرآباد /16 مارچ ( سیاست نیوز ) شہر گریٹر حیدرآباد کو کبھی سنگاپور ، کبھی استنبول اور کبھی ہانک کانگ کی طرز پر ترقی دینے کا اعلان کرنے والی ٹی آر ایس حکومت نے اپنے بجٹ 2018-19 میں گریٹر حیدرآباد کو بری طرح نظر انداز کردیا ہے ۔ شہر کی ترقی کیلئے مطلوب بجٹ کے بجائے سرسری بجٹ مختص کرتے ہوئے کئی محکموں کو مایوس کردیا ہے ۔ شہر کی سڑکوں کو درست کرنے بارش کے پانی کے ڈرینج کو بہتر بنانے کے علاوہ شہریوں کو صاف ستھرا پینے کا پانی فراہم کرنے کیلئے خاطر خواہ رقومات کی ضرورت پڑتی ہے ۔ اس سلسلے میں گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن ، حیدرآباد میٹرو پولیٹن واٹر سپلائی اینڈ سیوریج بورڈ اور حیدرآباد میٹرو پولیٹن اتھاریٹی نے توقع ظاہر کی تھی کہ انہیں بجٹ میں ترقیاتی کاموں کی انجام دہی کیلئے توقع کے مطابق رقومات حاصل ہوں گے ۔ لیکن ٹی آر ایس حکومت نے ان محکموں کو انگوٹھا دکھاتے ہوئے مایوس کردیا ہے ۔ حقیقت تو یہ ہے کہ شہر حیدرآباد سے ریاست کی حکومت کو تقریباً 70 فیصد ریونیو حاصل ہوتا ہے ۔ اس مالیہ سے وہ بہترین نظم و نسق انجام دیتے ہوئے کئی ترقیاتی کام انجام دے سکتی ہے لیکن ٹی آر ایس حکومت نے حیدرآباد کی آمدنی سے اپنے سیاسی بقاء کو یقینی بنانے کیلئے بجٹ کا زیادہ تر حصہ اپنے مقبول عام اسکیموں کو روبہ عمل لانے کی جانب مشغول کردیا ہے ۔ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن نے شہر کی ترقی اور انتظامات کیلئے 1,663.52 کروڑ روپئے کی تجاویز پیش کی تھی اسی طرح محکمہ آبرسانی نے 3915 کروڑ روپئے اور ایچ ایم ڈی اے 1651 کروڑ روپئے جملہ 7228 کروڑ روپئے کی تجاویز پیش کی تھی لیکن حکومت نے مجموعی طور پر صرف 2000ہزار کروڑ روپئے کا بجٹ منظور کیا ہے ۔ محکمہ بلدیہ کو ترقیاتی کاموں کی انجام دہی یا بڑے پراجکٹس مکمل کرنے کیلئے کوئی بجٹ مختص نہیں کیا گیا ۔ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن پر حکمراں پارٹی ٹی آر ایس کا ہی قبضہ ہے ۔ اس نے بلدی انتخابات کے دوران شہریوں سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اس شہر کی خوبصورتی میں اضافہ کرے گی اور شہریوں کو ہر ممکنہ سہولتیں فراہم کریں گی لیکن بجٹ سے واضح ہوجاتا ہے کہ حکومت نے شہر حیدرآباد اور اس کے شہریوں کو خاطر میں نہیں لایا ہے۔ گریٹر حیدرآباد میں نان پلان گرانٹس کے تحت نئی اسکیمات پر کام کرنا باقی ہے ۔ اس کیلئے کارپوریشن نے گریٹر حیدرآباد میں سڑکوں کو بہتر بنانے کیلئے 500 کروڑ روپئے طلب کئے تھے اور بارش کے پانی کی نالیاں تعمیر کرنے کیلئے 300 کروڑ روپئے جملہ 800 کروڑ روپئے حکومت سے جاری کرنے کی خواہش کی تھی لیکن اسے خاص بجٹ نہیں دیا گیا ۔ایچ ایم ڈی اے نے بھی 1651 کروڑ روپئے طلب کئے تھے اور آوٹر رنگ روڈ کیلئے 915.16 کروڑ روپئے کی تجویز رکھی گئی تھی ۔ لیکن حکومت نے اس پر توجہ نہیں دی ۔ایم ایم ٹی ایس کیلئے صرف 50 کروڑ روپئے دئے گئے ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT