Monday , April 23 2018
Home / ہندوستان / بجٹ کی پیشکش سے قبل وزیراعظم مودی کی پریس کانفرنس

بجٹ کی پیشکش سے قبل وزیراعظم مودی کی پریس کانفرنس

کانگریس ،بجٹ ، جی ایس ٹی ، عدلیہ ، پاکستان کی دہشت گردی اور تہواروں پر اظہار خیال
نئی دہلی ۔ /21 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم نریندر مودی نے آج کہا کہ ان کا نعرہ کانگریس سے پاک ہندوستان ، اہم اپوزیشن پارٹی کی سیاسی موت کی طرف اشارہ نہیں کرتا بلکہ ملک کو کانگریس کلچر سے نجات دلانے کی بات کرتا ہے جو ذات پات پر مبنی ، خاندانی ، بدعنوانی کی اور اقتدار پر قبضہ کرنے کے علاوہ دیگر برائیوں میں ملوث ہے ۔ آئندہ بجٹ کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ ایک مقبول عوام بجٹ نہیں ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ اگر عام آدمی اس بجٹ سے آزادیوں اور ترغیبات کی توقع رکھتا ہے تو یہ صرف ایک وہم ہے ۔ وہ ٹائمس ناو ٹی وی کو انٹرویو دے رہے تھے جو آج رات نشر کیا گیا ۔ جی ایس ٹی کے بارے میں وزیراعظم نریندر مودی نے کہا کہ وہ جی ایس ٹی میں تبدیلیوں ، اس کی کوتاہیوں کو دور کرنے اور اسے زیادہ کارکرد بنانے کے سلسلے میں کھلا ذہن رکھتے ہیں ۔ وزیراعظم نے کہا کہ جی ایس ٹی 6 ماہ قبل منظر عام پر آیا تھا جب سے اب تک اس میں کئی تبدیلیاں ہوچکی ہیں اور آئندہ بھی اس میں تبدیلیوں کے سلسلے میں وہ کھلا ذہن رکھتے ہیں ۔ اپوزیشن کو اس سلسلے میں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔ عدلیہ کے بارے میں حالیہ بحران کے بعد پہلی بار تبصرہ کرتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی نے کہا کہ حکومت اور سیاسی پارٹیوں کو عدلیہ سے دور رہنا چاہئیے تاکہ عدلیہ پر عوام کا اعتماد بحال رہے ۔ عدالت پر بھرپور اعتماد ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم مل بیٹھ کر بات چیت کریں گے اور تمام مسائل کا حل دریافت کریں گے ۔ انہوں نے پاکستان کے بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان کو الگ تھلگ کرنے کیلئے جدوجہد نہیں کررہے ہیں بلکہ ان کی کوششیں دہشت گردی کے خلاف پوری دنیا کو متحد کرنے کیلئے ہے ۔ انہوں نے اس الزام کو مسترد کردیا کہ ہندوستان اتنی سخت محنت پاکستان کو یکا و تنہا کرنے کیلئے کررہا ہے ۔ مودی نے کہا کہ ان کی کوششوں کا مقصد پوری دنیا کی طاقتوں کو دہشت گردی کو شکست دینے کیلئے متحد کرنا ہے کیونکہ ان کا ملک برسوں سے اس لعنت کی وجہ سے پریشان رہا ہے ۔ ہندوستان کے تہواروں کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی نے کہا کہ ہندوستانی تہوار صدیوں سے قومی اور سماجی اقدار کو فروغ دیتے رہے ہیں ۔ وہ عوام کو اس بات کی تعلیم دیتے رہے ہیں کہ وہ اپنے رسم و رواج ، اپنی آئندہ نسلوں کو سونپ دیں اور انہیں بھی تلقین کرے کہ قومی اور سماجی اقدار کا احترام کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ ڈاؤس میں وہ عالمی قائدین کے ساتھ ہندوستان کے نظریہ کے بارے میں تبادلہ خیال کریں گے ۔

TOPPOPULARRECENT