Thursday , December 13 2018

بجٹ کے ذریعہ عوام اور ایوان کو گمراہ کرنے کی کوشش

حیدرآباد /11 مارچ (سیاست نیوز) ڈپٹی لیڈر تلنگانہ قانون ساز کونسل محمد علی شبیر نے بجٹ کو فرضی قرار دیتے ہوئے کہا کہ صرف اعداد و شمار کے الٹ پھیر کے ذریعہ ایوان اور عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ آج کونسل کے میڈیا پوائنٹ پر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ بحیثیت سابق وزیر برقی یہ کہنے کے موقف میں ہوں کہ 2016ء تک تلنگانہ

حیدرآباد /11 مارچ (سیاست نیوز) ڈپٹی لیڈر تلنگانہ قانون ساز کونسل محمد علی شبیر نے بجٹ کو فرضی قرار دیتے ہوئے کہا کہ صرف اعداد و شمار کے الٹ پھیر کے ذریعہ ایوان اور عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ آج کونسل کے میڈیا پوائنٹ پر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ بحیثیت سابق وزیر برقی یہ کہنے کے موقف میں ہوں کہ 2016ء تک تلنگانہ سے برقی قلت دور کرنا ممکن نہیں ہے، لہذا وہ چیف منسٹر کو اپنا وعدہ پورا کرنے کا چیلنج کرتے ہیں، اگر وعدہ پورا کردیا گیا تو وہ کسی بھی سزا کے لئے تیار ہیں اور اگر نہیں کیا گیا تو کیا چندر شیکھر راؤ بھی سزا کے لئے تیار رہیں گے؟۔ انھوں نے سال 2015-16ء کے بجٹ کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ چیف منسٹر اور وزراء کے وعدوں کے علاوہ ٹی آر ایس کے انتخابی منشور میں عوام سے جو وعدے کئے گئے تھے، انھیں حل کرنے کے لئے حکومت کی جانب سے کوئی دلچسپی نہیں دکھائی گئی۔ انھوں نے کہا کہ گزشتہ سال کی بہ نسبت جاریہ سال تلنگانہ کے لئے 115,689 لاکھ کروڑ روپئے کا مجموعی بجٹ پیش کیا گیا ہے،

جب کہ 2014-15ء کا منظورہ بجٹ 50 فیصد بھی خرچ نہیں کیا گیا، یعنی صرف عوام کو گمراہ کرنے کے لئے ایک لاکھ کروڑ روپئے کا بجٹ پیش کیا جا رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ پلان بجٹ میں 63,306 کروڑ اور نان پلان بجٹ میں 52,383 کروڑ کی گنجائش فراہم کی گئی ہے، تاہم سرمایہ کاری کے حصول کی توثیق نہیں کی گئی، جب کہ 531 کروڑ روپئے کے فاضل بجٹ کا ادعا کیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ مرکزی امداد کی کمی کا بہانہ بناکر حکومت اپنی غلطیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے، جب کہ ریاستی وزیر فینانس اعتراف کرچکے ہیں کہ غذائی اجناس کی پیداوار 10.30 فیصد گھٹ گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ 2014-15ء کے اقلیتی بجٹ میں سے صرف 43 فیصد خرچ کئے گے ہیں، لہذا اقلیتوں اور پسماندہ طبقات پر خرچ نہ کئے جانے والے فنڈس کو سال 2015-16ء کے بجٹ میں شامل کرکے حکومت کو خرچ کرنا چاہئے۔ انھوں نے حکومت سے استفسار کیا کہ جب حکومت کی جانب سے فاضل بجٹ کا ادعا کیا جا رہا ہے تو کسانوں کے قرضہ جات کی ادائیگی کے لئے فنڈس جاری کردینا چاہئے، اقساط پر اکتفاء کیوں کیا جا رہا ہے؟۔ انھوں نے کہا کہ مسلمانوں اور قبائلی طبقات کو 12 فیصد تحفظات کی فراہمی کا کوئی اشارہ نہیں دیا گیا۔

TOPPOPULARRECENT