Wednesday , July 18 2018
Home / مضامین / بجٹ 2018    حکومت کو ساکھ بچانے کا آخری موقع۔ چند تجاویز

بجٹ 2018    حکومت کو ساکھ بچانے کا آخری موقع۔ چند تجاویز

عرفان جابری
یکم فبروری کو مودی حکومت کے سالانہ بجٹ 2018 ء کی پیشکشی مقرر ہے۔ کوئی بھی مرکزی بجٹ اختصار میں کہیں تو گزرے مالی سال کی روداد اور آنے والی اتنی ہی مدت کیلئے معاشی منصوبوں سے قوم کو واقف کرایا جاتا ہے، مقننہ ضروری غوروخوض کے بعد اسے منظوری دیتا ہے اور پھر عاملہ اس کو عمل میں لانے کا کام کرتا ہے۔ ہندوستان ترقی پذیر ملک ہے اور اس کا مرکزی بجٹ روایتی طور پر خسارہ کے ساتھ پیش ہوتا رہا ہے۔ گزشتہ پندرہ ماہ میں مودی حکومت نے معاشی محاذ پر بدترین اقدامات کے ذریعہ ملک کی اقتصادی صورتحال پر کاری ضرب لگائی ہے۔ نوٹ بندی کے بعد یہ دوسرا اور ’جی ایس ٹی‘ (گڈز اینڈ سرویسز ٹیکس) کے بعد پہلا مرکزی بجٹ ہے جو مودی حکومت کی میعاد کا آخری مکمل بجٹ بھی ہے کیونکہ 2019ء جنرل الیکشن کا سال ہے اور تب مکمل نہیں بلکہ علی الحساب بجٹ ہی پیش کرنا ہوتا ہے۔ اس لئے مودی حکومت کیلئے عوام میں اپنی تیزی سے گرتی ساکھ بچانے کا یہ آخری موقع ہے۔
مودی نے بڑے جتن کے بعد کانگریس زیرقیادت یو پی اے سے حاصل کردہ اقتدار کے قیمتی پونے چار سال یونہی گنوا دیئے۔ مشکل یہ ہے کہ مودی اور اُن کی چاہے نہ چاہے تائید و حمایت کرنے والے گوشے والوں کو رنگ ڈھنگ ہی نرالے ہیں۔ وہ جھوٹ، وعدہ فراموشی، لفاظی، گھٹیاپن اور اوٹ پٹانگ اقدامات کو ’’حکمرانی‘‘ اور ’’سب کا ساتھ ، سب کا وکاس‘‘ سمجھتے ہیں۔ اب اسے احمقانہ پن نہیں تو اور کیا کہیں گے مرکزی حکومت نے ’’وکیل‘‘ کو ’’ماہراقتصادیات‘‘ بناکر معیشت کی باگ ڈور ہاتھوں میں تھما دی ہے۔ اگر یہ درست ہے اور ایسا کرنے سے دیش کی ترقی یقینی ہوتی ہے تو پھر ہمیں آنے والے دور میں میڈیکل کالجس سے اچھے انجینئرز، کامرس کے اداروں سے کامیاب ڈاکٹرز اور ادبی اداروں سے عمدہ سائنس دانوں کو حاصل کرنا پڑے گا! بہرحال اس طرح کچھ بھی طنز کرلیں اور تیر و نشتر چلا لیں مگر کم از کم 2019ء تک تو یہی حکومت کو بھگتنا ہے۔ آئیے! معاشیات و اقتصادیات کے نقطہ نظر سے بجٹ 2018ء کا اندازہ لگاتے ہیں اور دیکھیں گے کہ کن باتوں سے عام آدمی کے شخصی مالیہ پر ٹیکس کا کم سے کم بوجھ عائد ہو اور اُس کے معاشی حالات بگڑنے نہ پائیں۔
پارلیمنٹ میں فینانس بل کی پیشکشی سے قبل کے کئی ہفتوں کے دوران شاید یہی سوال سب سے زیادہ زیرگشت رہتا ہے کہ کیا آنے والا بجٹ ٹیکسوں میں کمی کرے گا؟ لیکن ہندوستان ٹیکسوں سے جڑی قوم ہونے کے باوجود یہ چونکا دینے والی حقیقت ہے کہ جملہ آبادی کے صرف 3% (4.1 کروڑ ہندوستانی) حصہ نے 2014-15ء میں انکم ٹیکس ریٹرنس داخل کئے۔ صرف 1.6% نے درحقیقت انکم ٹیکس ادا کیا۔ ریٹرن داخل کرنے والے ہر دو ہندوستانیوں میں سے ایک نے اپنی قابل محصول آمدنی صفر بتائی۔پھر بھی ٹیکس حدوں، کٹوتیوں اور استثناء سے متعلق بجٹ تجاویز ہر ہندوستانیوں کی گہری نظر ہوتی ہے۔ گزشتہ بجٹ میں لگ بھگ ہر کسی نے توقع کی تھی کہ وزیر فینانس متوسط طبقہ کو نمایاں ٹیکس راحت دیں گے تاکہ نوٹ بندی کے تکلیف دہ داغ پر مرہم لگانے کا کام ہوسکے۔ تاہم، اگرچہ بجٹ نے اوسط ٹیکس دہندہ کا ٹیکس بوجھ گھٹایا گیا، لیکن اس نے بعض فوائد چھین بھی لئے ۔ ہوم لون پر سود میں کٹوتی کی حد ان گوشوں کیلئے بڑا جھٹکہ رہا جن کے مکانات کرایہ پر ہیں۔
اِس سال ٹیکس دہندہ کیلئے موافق بجٹ کی توقعات مزید بڑھ چکی ہیں، کیونکہ پانچ ریاستوں میں 2018ء میں اسمبلی انتخابات اور مزید تین میں 2019ء میں چناؤ ہونے والے ہیں۔ عمومی طور پر ماہرین معاشیات کا یہی خیال ہے کہ حکومت مقبول عام بجٹ پیش کرنا چاہے گی۔ مگر یہ اعتراف کرنا پڑے گا کہ حکومت بعض اقدامات کی متحمل نہیں ہوسکے گی جیسے ایجوکیشن لون کی کٹوتی کیلئے طویل تر میعاد، خالص حفاظتی میعادی منصوبوں کیلئے علحدہ حد کٹوتی یا این پی ایس (نیشنل پنشن اسکیم) کے سرمایوں کو ٹیکس سے آزاد بنادینے سے آمدنی کی وصولیات پر اثر پڑے گا۔ حکومت جس پر پہلے ہی مالی خسارہ کو قابو میں رکھنے کا دباؤ ہے، اس طرح کے تمام اقدامات کو متعارف کرنے سے قاصر ہوسکتی ہے۔ لیکن دیگر کئی اقدامات بھی ہیں جن کا وصولیات پر اثر نہیں پڑے گا؛ بلکہ ان سے ٹیکس دہندگان، سرمایہ کاروں اور صارفین کیلئے زندگی کچھ تو آسان ہوگی۔
٭  انکم ٹیکس ایکٹ کے سیکشن 80E کے تحت کسی اہل قرض دہندہ سے ایجوکیشن لون پر ادا شدہ سود کو ٹیکس کٹوتی کی حیثیت سے واپس لیا جاسکتا ہے۔ لیکن یہ سہولت صرف زیادہ سے زیادہ آٹھ مالی سال کیلئے دستیاب ہے۔ جب اس کٹوتی کو 2006ء میں متعارف کیا گیا تھا تب چار سالہ انجینئرنگ کورس کیلئے لاگت تقریباً 3-4 لاکھ روپئے اور میڈیکل ڈگری کیلئے 5-6 لاکھ روپئے ہوا کرتی تھی۔ تب سے اعلیٰ تعلیم کیلئے اخراجات میں غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے۔ ایجوکیشن لونس کیلئے سود کی موجودہ شرحیں 10.5% تا 13.5% ہیں۔ فرض کیجئے کہ شرح 11.5% ہو تو آٹھ سال کیلئے 25 لاکھ روپئے کے قرض کی EMI تقریباً 40,000 روپئے ہوگی۔ اوسط قرضدار کو یہ قرض آٹھ سال سے کہیں آگے تک بڑھانا پڑسکتا ہے۔ لہٰذا، ٹیکس کٹوتی کیلئے گنجائش کو بھی وسیع کیا جانا چاہئے۔ جیسا کہ ہوم لون میں ہوتا ہے، اسے بھی قرض کی مکمل مدت کیلئے دستیاب کرانا چاہئے۔ اس سے نوجوان ہندوستانیوں کو معیاری تعلیم کے حصول کا حوصلہ ملے گا۔
٭  سیکشن 80CCD(1) کے تحت اس ٹیکس کٹوتی پر حد قائم ہے جو خودروزگار والے ٹیکس دہندگان این پی ایس میں جمع رقومات پر حاصل کرنے کا دعویٰ پیش کرسکتے ہیں۔ بجٹ 2017ء نے اس حد کو مجموعی آمدنی کے 10% سے 20% تک بڑھایا، تاکہ تنخواہ یافتہ اور خودروزگار والے ٹیکس دہندگان کے درمیان مساوات لائی جاسکے۔ تاہم، خودروزگار والے ٹیکس دہندگان کیلئے اس کٹوتی سیکشن 80CCE کے تحت مجموعی حد کٹوتی 1.5 لاکھ روپئے کے تحت آتی ہے۔ دوسری طرف، کوئی ملازم اپنی آمدنی کے 10% تک کٹوتی کا سیکشن 80CCD (1) کے تحت مجموعی حد کے اندرون دعویٰ پیش کرسکتا ہے، اور 80CCD(2) کے تحت آجر کے حصہ پر مزید کٹوتی تنخواہ کے 10% تک کسی مجموعی حد کے بغیر بھی حاصل کرسکتا ہے۔ اس فرق کو دور کرنے کیلئے خودروزگار والے ٹیکس دہندگان کیلئے مجموعی حد کو بڑھانا چاہئے تاکہ تنخواہ یافتہ ملازمین کو دستیاب فوائد سے مماثلت ہوسکے۔
٭  ڈیویڈنڈ ڈسٹری بیوشن ٹیکس (DDT) کمپنیوں کی نفعوں کی تقسیم میں حوصلہ شکنی کرتا ہے، جس سے سرمایہ کار کا اعتماد ماند پڑتا ہے۔ ڈی ڈی ٹی کو برخاست کردینا چاہئے تاکہ سرمایہ کار کا حوصلہ بڑھے۔
٭  وزیر فینانس نے گزشتہ بجٹوں کی طرح اِس سال کارپوریٹ ٹیکس کی شرحیں گھٹانے کا اشارہ دیا ہے۔ انھیں انفرادی ٹیکس شرحوں یا ’سلاب‘ کی حدوں میں اضافے پر بھی غور کرنا چاہئے۔ جہاں دیگر شہری اخراجات کی منہائی کے بعد ٹیکس ادا کرتے ہیں، وہیں تنخواہ یاب طبقہ مجموعی سطح پر ہی ٹیکس ادا کرنے پر مجبور ہے۔ یہ غیرمنصفانہ نظام ہے۔ اس کی یکسوئی کا بہترین طریقہ یہی ہے کہ ’اسٹانڈرڈ ڈیڈکشن‘ کا سسٹم واپس لائیں۔ معیاری کٹوتی کا مختص تناسب تنخواہ یاب طبقہ کیلئے مقرر کیا جاسکتا ہے، جس سے ان کے اور دیگر ٹیکس دہندگان کے درمیان مساوات بحال ہوگی۔ یہ اس لئے بھی ضروری ہے کیونکہ عمومی طور پر ملازم کی تنخواہ میں سالانہ جو اضافہ ہوتا ہے ، اُس سے کہیں زیادہ مہنگائی یعنی لازمی اخراجات میں اضافہ ہوچکا ہوتا ہے۔
٭  ٹیکس قوانین میں تبدیلی درکار ہے تاکہ عطیہ اور سکیورٹیز جیسے اسٹاکس اور میوچول فنڈز کے گفٹ کی سہولت ٹیکس اثرات کے بغیر مل سکے،۔ گفٹ یا عطیہ کی قد کا حساب منتقلی کی تاریخ پر سکیورٹیز کی واجبی مارکیٹ ویلیو کے طور پر لگا سکتے ہیں۔ اس سے عطیہ دہندہ یا گفٹ دینے والے دو فوائد حاصل ہوں گے: سکیورٹیز پر کیاپیٹل گینس ٹیکس سے استثنا، اور ان کی آمدنی والی رقم پر ٹیکس چھوٹ۔ موجودہ طور پر سکیورٹیز میں مشغول رقم کو گفٹ یا عطیہ دینے کے عمل میں سکیورٹیز کو ختم کرتے ہوئے ان کو نقد رقم میں منتقل کرنا پڑتا ہے۔
٭  جی ایس ٹی نے فینانشیل سرویسز پر ٹیکس کو ابتدائی 15% سے 18% تک بڑھا دیا ہے۔ اس سے انشورنس کے معاملے مہنگے ہوچلے ہیں، بالخصوص ’پیور پروٹیکشن‘ اور ’انڈومنٹ‘ پلانس۔ ہندوستان میں کوئی جامع سوشل سکیورٹی میکانزم نہیں ہے، اور انشورنس کسی فرد یا فیملی کو اقتصادی سلامتی کا ابتدائی سہارا فراہم کرتا ہے۔ اس لئے انشورنس پراڈکٹس کو ٹیکس سے استثنا یا انھیں 5% جی ایس ٹی کے زمرے میں لانا ضروری ہے۔
٭  ہندوستان میں متعدی اور طرز زندگی سے جڑی بیماریوں کے وقوع میں قابل لحاظ اضافہ ہوگیا ہے، جس میں غیرصحت بخش کھانے کی عادتوں اور لائف اسٹائل کا بڑا رول ہے۔ صورتحال میں ابتری طبی اخراجات میں مسلسل اضافے نہ پیدا کردی ہے، جو موجودہ طور پر سالانہ 18-20% کی شرح پر بڑھ رہے ہیں۔ اس لئے کسی اوسط گھرانے کے طبی اخراجات15,000 روپئے سالانہ کی میڈیکل الاؤنس حد سے بہ آسانی تجاوز کرسکتے ہیں۔ کمپنیاں بالعموم 15,000 روپئے کی ٹیکس سے چھوٹ والی حد تک ہی میڈیکل الاؤنس دیتے ہیں۔ اگر اس حد کو نظرثانی کرتے ہوئے بڑھا دیا جائے تو کمپنیوں کو بھی الاؤنس میں اضافہ کرنے کا حوصلہ ملے گا۔               (جاری ہے)
TOPPOPULARRECENT