Saturday , November 18 2017
Home / Top Stories / بحرالکاہل کے علاقہ میں چینی اثر و رسوخ کا انسداد ضروری

بحرالکاہل کے علاقہ میں چینی اثر و رسوخ کا انسداد ضروری

New Delhi: President Pranab Mukherjee interacting with the media delegation during his way back to India from Auckland on Monday. PTI Photo (PTI5_3_2016_000187A)

وطن واپسی کے دوران خصوصی طیارہ میں صدرجمہوریہ ہند پرنب مکرجی کی پریس کانفرنس

ایرانڈیا کی خصوصی پرواز سے ۔ 3 مئی (سیاست ڈاٹ کام) صدرجمہوریہ پرنب مکرجی نے کہاکہ ہندوستان کو چاہئے کہ ایشیائے کوچک کے علاقہ میں اپنے وجود کو بہتر بنائے اور چین کے بڑھتے ہوئے اثر کے انسداد کی کوششیں کرے۔ اس طرح بحرالکاہل کے علاقہ میں طاقت کا توازن برقرار رکھے۔ صدرجمہوریہ ایر انڈیا کی خصوصی پرواز میں اخباری نمائندوں سے اپنے 6 روزہ سرکاری دورہ سے وطن واپسی کے دوران بات چیت کررہے تھے۔ اُنھوں نے کہاکہ ہندوستان نیوزی لینڈ کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدہ کی عاجلانہ تکمیل کے لئے تیار ہے۔ اُنھوں نے ہندوستان کی آمادگی کی اطلاع نیوزی لینڈ کو کردی ہے اور باہمی اندیشوں کے اطمینان بخش ازالہ کی توقع رکھتے ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ ہم خاموش نہیں ہیں۔ آزاد تجارتی معاہدہ کے لئے 10 مرحلوں کی بات چیت ہوچکی ہے۔ 2010 ء میں بات چیت کا آغاز ہوا تھا لیکن بدقسمتی سے اِس کو ہنوز قطعیت نہیں دی جاسکی۔

اُنھوں نے کہاکہ زرعی مصنوعات کے بارے میں بعض مسائل درپیش ہیں لیکن اُن کے خیال میں اِس کے لئے کافی وقت لگے گا کہ زراعت کے شعبہ کو تحفظ فراہم کیا جائے کیوں کہ ہم دودھ کی مصنوعات بڑے پیمانہ پر خرید رہے ہیں۔ اِس لئے سبز انقلاب کے علاوہ سفید انقلاب بھی ضروری ہے۔ صدرجمہوریہ نے کہاکہ حکومت 1960 ء اور 1970 ء بلکہ 80 کی دہائیوں میں جس پالیسی پر عمل کررہی تھی، وہ 2015-16 ء میں کارآمد باقی نہیں رہی۔ اُنھوں نے کہاکہ وہ سمجھتے ہیں کہ حکومت اِس پہلو پر احتیاط سے توجہ دے رہی ہے۔ ہمیں آزادانہ اور تجارتی معاہدے کرنے چاہئے اِس سے باہمی تجارت پائیدار ہوسکتی ہے۔ اُنھوں نے سری لنکا کی مثال دی جس کے ساتھ تجارتی معاہدہ کے بعد باہمی تجارت 20 گنا زیادہ ہوچکی ہے۔ اُنھوں نے مودی حکومت کی ستائش کی جس نے بحرالکاہل کے جزائری ممالک میں دو چوٹی کانفرنسوں کا اہتمام کیا۔ تیسری چوٹی کانفرنس پاپوا نیو گینی میں منعقد کی جائے گی اور اُمید ہے کہ ہندوستانی وفد میں اعلیٰ سطحی نمائندے شامل ہوں گے۔ اُنھوں نے کہاکہ چنانچہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اِس مسئلہ کو فطری طور پر اِس کے منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔ مکرجی نے کہاکہ وہ نیوزی لینڈ اور پاپوا نیو گینی کے دورہ سے مطمئن ہیں۔

TOPPOPULARRECENT