Tuesday , December 12 2017
Home / دنیا / بحران کی یکسوئی ممکن ، فیفا ورلڈ کپ 2022ء کی میزبانی سے قطر دستبردارہوجائے

بحران کی یکسوئی ممکن ، فیفا ورلڈ کپ 2022ء کی میزبانی سے قطر دستبردارہوجائے

: بلی تھیلے سے باہر آگئی :
بحران کی یکسوئی ممکن ، فیفا ورلڈ کپ 2022ء کی میزبانی سے قطر دستبردارہوجائے

l اماراتی اعلیٰ سطحی عہدیدار کی تجویز
l مخالفین کا ورلڈ کپ کی میزبانی حاصل کرنے
قطر پر بدعنوانی کا نیا الزام
l فیفا عہدیداروں کو بدعنوانی کے کوئی ثبوت نہیں ملے

دوبئی ۔ 9 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) متحدہ عرب امارات کے ایک اعلیٰ سطحی عہدیدار کا کہنا ہیکہ قطر کو فی الحال جس سفارتی بحران کا سامنا ہے اس کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے بشرطیکہ قطر 2022ء میں فیفا ورلڈکپ کی میزبانی سے دستبردار ہوجائے۔ یاد رہیکہ گذشتہ کئی ماہ سے جاری اس بحران کی یکسوئی کیلئے پہلی بار کسی ایسے ملک کے کسی عہدیدار نے لب کشائی کی ہے، جنہوں نے قطر کا بائیکاٹ کر رکھا ہے۔ یوں تو دوبئی کے سیکوریٹی لیفٹننٹ جنرل ذبیح خلفان ٹوئیٹر پر اپنے خیالات کا دوٹوک اظہار کرتے رہتے ہیں۔ تاہم گذشتہ شب انہوں نے جو ٹوئیٹ کیا تھا اس سے یہی ظاہر ہوجاتا ہیکہ قطر کا بائیکاٹ کرنے والے ممالک دراصل فیفا ورلڈ کپ 2022ء کی میزبانی سے بھی کم و بیش حسد میں مبتلاء ہیں اور انہوں نے اپنی تنقیدوں کے دوران اس کا کئی بار ڈھکے چھپے انداز میں اظہار کیا تھا لیکن اماراتی عہدیدار نے پہلی بار واضح طور پر کہہ دیا کہ قطر اگر بحران سے نجات کا خواہاں ہے تو اسے فوری طور پر فیفا ورلڈ کپ کی میزبانی سے دستبردار ہوجانا چاہئے۔ دوسری طرف ورلڈکپ منعقد کرنے کیلئے ٹورنمنٹ سربراہ نے اسوسی ایٹیڈ پریس سے بات کرتے ہوئے اس بات کی تردید کی کہ قطر پر عائد کی گئی تحدیدات سے ٹورنمنٹ کے انعقاد کو کوئی خطرہ لاحق ہے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہیکہ بحرین، مصر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے جاریہ سال 5 جون کو قطر کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کردیئے تھے۔ ان کا استدلال ہیکہ قطر دہشت گرد تنظیموں کی تائید کرتا ہے اور ایران کے ساتھ اس کے گہرے روابط ہیں جبکہ قطر نے اس پر عائد کئے گئے الزامات کی ہمیشہ تردید کی ہے اور اس بحران کے دوران ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات کا مکمل طور پر احیاء کیا۔ گذشتہ شب خلفان نے پہلی بار اپنے ٹوئیٹ کے ذریعہ فیفا ورلڈکپ کی میزبانی پر انگلی اٹھائی۔ انہوں نے کہا کہ فیفا ورلڈ کپ کا انعقاد کوئی آسان بات نہیں ہے اور جس زمانے میں (ان کا اشارہ قطر کے سابق حکمراں امیر شیخ حمد بن خلیفہ الثانی اور ان کے فرزند یعنی موجودہ امیر شیخ تمیم بن حمدالثانی کی جانب تھا) اس کا اعلان کیا گیا تھا۔ اس وقت مصارف کچھ اور تھے لیکن اب اس کے مصارف میں کئی گنا اضافہ ہوگیا ہے۔ خلفان کے بارے میں ہمیشہ یہ کہا جاتا ہیکہ وہ متنازعہ ٹوئیٹس تحریر کرتے ہیں جن میں اسرائیل اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ بھی شامل ہیں۔ انہوں نے بعدازاں اپنی تحریر میں مزید یہ بھی کہا کہ قطر اس وقت ان کیلئے باعث تشویش نہیں ہے۔ حالانکہ کویت، امریکہ اور یوروپی ممالک نے اس بحران کی یکسوئی کیلئے ثالثی کے فرائض بھی انجام دیئے لیکن وہ بھی قطر کے مخالفین کو باور کروانے میں ناکام رہے اور اس طرح قطر کے مخالفین کو قطر کی جانب سے فیفا ورلڈکپ کی میزبانی پر تنقید کرنے کا مزید موقع مل گیا۔ انہوں نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ قطر نے فیفاورلڈ کپ کی میزبانی کیلئے لگائی گئی بولی میں بدعنوانیوں سے کام لیتے ہوئے بولی اپنے حق میں کرلی۔ علاوہ ازیں مخالفین نے یہ بھی کہا کہ ورلڈ کپ کے انعقاد کیلئے جن انفراسٹرکچرس کی تعمیر کی جارہی ہے اس میں ورکرس کے تحفظ اور صحت کا کوئی خیال نہیں رکھا جارہا ہے بلکہ انتہائی ناقص حالات میں ان سے کام لیا جارہا ہے۔ فیفا عہدیداران کی جانب سے کی گئی تحقیقات کے بعد یہ بات بھی سامنے آئی کہ قطر نے 2010ء میں لگائی جانے والی بولی میں اپنی تمام اسپورٹس ایجنسیز کا استعمال کرتے ہوئے میزبانی حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی اور حکام نے بھی اس بات کی توثیق کی ہیکہ بولی لگانے والی ٹیم کے ذریعہ کسی بھی نوعیت کی بدعنوانی کے کوئی ثبوت نہیں ملے ہیں۔ جب قطر کی واحد زمینی سرحد جو سعودی عرب سے ملتی ہے، کو بند کردیا گیا تھا اور بائیکاٹ کی وجہ سے سمندری ٹریفک بھی منقطع کردی گئی تھی اس وقت بھی ورلڈ کپ منتظمین کو ایک ’’پلان ۔ بی‘‘ پر عمل آوری کرنے پر دباؤ ڈالا گیا تھا جس میں تمام تعمیری سازوسامان کو براہ ترکی قطر لایا جانا بھی شامل تھا۔

TOPPOPULARRECENT