Monday , June 18 2018
Home / Top Stories / بحران کی یکسوئی کیلئے بیرونی مداخلت نہ ہو : سینئر جج جوزف

بحران کی یکسوئی کیلئے بیرونی مداخلت نہ ہو : سینئر جج جوزف

نئی دہلی ، 13 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) جسٹس کرین جوزف جو چار سپریم کورٹ ججوں میں سے ہیں جنھوں نے عملاً چیف جسٹس کے خلاف بغاوت کی ہے، آج کہا کہ اس مسئلہ کی یکسوئی کیلئے کوئی بیرونی مداخلت کی ضرورت نہیں، جبکہ فاضل عدالت کی بار اسوسی ایشن نے اس معاملہ پر اجلاس کاملہ میں غوروخوض کرنے پر زور دیا ہے۔ جسٹس رنجن گوگوئی جو چاروں ججوں میں سے ہی ہیں، انھوں نے کولکاتا میں نیوز ایجنسی ’پی ٹی آئی‘ کو بتایا کہ کوئی بحران نہیں ہے۔ انھوں نے ایک پروگرام میں شرکت کے موقع پر یہ ریمارک کیا۔ جسٹس جوزف نے کہا کہ اس معاملہ کو صدرجمہوریہ ہند کے پاس نہیں اٹھایا گیا کیونکہ انھیں سپریم کورٹ یا فاضل عدالت کے ججوں کے بارے میں کوئی دستوری ذمہ داری حاصل نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ سی جے آئی کی طرف سے کوئی دستوری لغزش نہیں ہوئی ہے لیکن انھیں اپنی ذمہ داری نبھاتے ہوئے مروجہ طریقہ کار، رواج و روایت کی پاسداری کرنا ہوگا (جسٹس جوزف کا تفصیلی وضاحتی بیان صفحہ 5 پر)۔ سپریم کورٹ بار اسوسی ایشن نے سی جے آئی دیپک مصرا کے ساتھ چار سینئر ترین ججوں کے اختلاف پر گہری تشویش ظاہر کی۔ اسوسی ایشن کی ایگزیکٹیو کمیٹی نے ایمرجنسی میٹنگ میں قرارداد منظور کی کہ مفاد عاملہ کے تمام معاملے بشمول زیرتصفیہ مقدمات سے خود سی جے آئی نمٹیں یا انھیں یکسوئی کیلئے چار سینئر ترین ججوں کے سپرد کریں جو فاضل عدالت کے کالجیم کا حصہ ہیں۔

TOPPOPULARRECENT