Sunday , January 21 2018
Home / Top Stories / بحرین میں مستقل برطانوی فوجی اڈہ کے لئے معاہدہ

بحرین میں مستقل برطانوی فوجی اڈہ کے لئے معاہدہ

مناما۔ 7؍دسمبر (سیاست ڈاٹ کام)۔ برطانیہ 1971ء کے بعد سے پہلی بار مشرق وسطی میں اپنا مستقل فوجی اڈہ قائم کرنے جا رہا ہے۔ بحرین کے ساتھ کیے جانے والے ایک معاہدے کے تحت برطانیہ کی شاہی بحریہ کے لیے خلیج میں ڈیڑھ کروڑ برطانوی پاؤنڈ سے ایک اڈہ بنایا جائے گا۔ برطانیہ کے وزیر دفاع مائیکل فیلن نے کہا کہ ’یہ شاہی بحریہ میں توسیع ہے‘ اور اس سے

مناما۔ 7؍دسمبر (سیاست ڈاٹ کام)۔ برطانیہ 1971ء کے بعد سے پہلی بار مشرق وسطی میں اپنا مستقل فوجی اڈہ قائم کرنے جا رہا ہے۔ بحرین کے ساتھ کیے جانے والے ایک معاہدے کے تحت برطانیہ کی شاہی بحریہ کے لیے خلیج میں ڈیڑھ کروڑ برطانوی پاؤنڈ سے ایک اڈہ بنایا جائے گا۔ برطانیہ کے وزیر دفاع مائیکل فیلن نے کہا کہ ’یہ شاہی بحریہ میں توسیع ہے‘ اور اس سے خلیج اور برطانیہ میں استحکام کی بحالی ہوگی۔ اطلاعات کے مطابق برطانوی بحریہ کا یہ فوجی اڈہ منا سلمان بندرگاہ پر ہوگا۔ ہمارے نمائندے کا کہنا ہے کہ دولت اسلامیہ کے جاری خطرات کے پیش نظر بھی خلیجی شاہی حکومتیں اس بات پر راضی ہوئی ہیں کہ برطانوی فوج کو اپنی سرزمین پر فوجی اڈہ قائم کرنے کی دعوت دیں۔ واضح رہے کہ امریکہ پہلے سے ہی اس علاقے میں مستقل فوجی موجودگی رکھتا ہے جبکہ کہ فرانسیسی فوج کا متحدہ عرب امارت میں فوجی اڈہ ہے۔ فی الحال منا سلمان بندرگاہ پر برطانیہ کے مائن ہنٹر نامی چار جہاز لنگڑ انداز ہیں جبکہ برطانیہ اس علاقے میں فوجی جہازوں کی تعداد بڑھانے کا خواہش مند ہے۔

بحرین کے وزیر خارجہ شیخ خالد احمد بن محمد الخلیفہ نے کہا: ’بحرین آج کے انتظامات پر جلد از جلد عمل آوری کا خواہشمند ہے اور وہ برطانیہ اور دوسرے اتحادیوں کے ساتھ علاقائی سکیورٹی خطرات کے پیش نظر مل کر کام کرنا چاہتا ہے۔‘ برطانیہ قلیل مدت کے لیے کئی دہائیوں سے خلیجی ممالک میں اپنے جہاز اور طیارے کے علاوہ بری فوج بھی بھیجتا رہا ہے۔‘ خلیجی عرب ممالک میں سے بیشتر شاہی حکومتیں ہیں جو اپنے دفاع کے لئے امریکہ، برطانیہ اور فرانس پر انحصار کرتی ہیں۔ خلیجی ممالک میں بہار عرب کے تسلسل میں مختلف مقامات پر حکومت مخالف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تاہم ان کی خبروں کو نمایاں اہمیت دے کر پیش نہیں کیا جارہا ہے، تاہم تمام عرب ممالک میں ایک بے چینی پھیلی ہوئی ہے۔ بظاہر سکون معلوم ہوتا ہے، لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ طوفان سے پہلے کی خاموشی ہے۔ عرب عوام مغربی ممالک کی افواج کی اپنی سرزمین پر موجودگی قطعی پسند نہیں کرتے۔

TOPPOPULARRECENT