Friday , April 20 2018
Home / Top Stories / بحر ہند میں غیر علاقائی اقوام کی دخل اندازی باعث تشویش: نرملا

بحر ہند میں غیر علاقائی اقوام کی دخل اندازی باعث تشویش: نرملا

 

غیر مملکتی عناصر کا تیزی سے ابھرائو بھی تشویشناک

پاناجی۔یکم نومبر (سیاست ڈاٹ کام) وزیر دفاع نرملا سیتارامن نے آج تشویش ظاہر کی کہ بحر ہند کے علاقے میں کچھ نہ کچھ بہانے سے ملٹری تعیناتی اور غیر علاقائی اقوام کی دخل اندازی معمول بن چکا ہے۔ اس طرح ملٹری تعیناتی میں اضافہ اس خطہ کے ممالک کے لیے پیچیدگیاں بڑھاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بحرہند گزشتہ چند دہوں سے پرامن خطہ رہا ہے۔ تاہم ہمارا اجتماعی فیصلہ کہ اس امر سے فائدہ اٹھایا جائے یا نہیں اور کس طرح ہم ابھرتے چیلنجوں کا سدباب کریں گے وہ مستقبل میں علاقائی امن و سلامتی پر نمایاں اثر ڈالے گا۔ وزیر موصوفہ جنہوں نے کسی ملک کا نام نہیں لیا، گوا میریٹائم کانکلیوو کی افتتاحی تقریب سے خطاب کررہی تھیں، جس کا مقصد اس خطہ میں پیش آنے والے بحری چیلنجوں سے نمٹنا ہے۔ نرملا نے کہا کہ بحرہند میں ملٹری کی موجودگی میں اضافہ اس خطہ میں دو مربوط شکلوں میں سامنے آیا ہے۔ ’’ہم نے یہ بھی مشاہدہ کیا ہے کہ غیر علاقائی اقوام اس خطے کے اندرون لگ بھگ ہمیشہ کسی نہ کسی وجہ سے اپنی اثر و رسوخ برقرار رکھتی ہیں اور ضمن میں یہ ممالک جن کا اس خطہ سے تعلق نہیں ہوتا، بحری اڈے قائم کررہے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ خطے میں انفراسٹرکچر کا دوہرا استعمال بھی کررہے ہیں۔ اس قسم کی ملٹری موجودگی علاقے کے مماک کے لیے پیچیدگیاں بڑھاتی ہے۔‘‘ وزیر دفاع نے خطہ میں غیر مملکتی عناصر کے ابھرائو پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ غیر مملکتی عناصر کا نظریہ کوئی نئی بات نہیں کیوں کہ ممالک اس مسئلہ سے خود اپنی سرزمین اور بحری علاقوں میں بھی ہمیشہ سے نمٹتے آئے ہیں۔ تاہم غیر مملکتی عناصر کی تعداد بھی حالیہ اضافے نے ان کی رسائی بڑھادی ہے ان کے وسائل بھی غیر معمولی ہوچلے ہیں جس کی وجہ سے یہ مسئلہ سنگین شکل اختیار کرتا جارہا ہے اور ٹھوس کارروائی کا متقاضی ہے۔ اس ضمن میں مرکزی وزیر نے کہا کہ بحری خزانوں میں غیر معمولی وسائل موجود ہیں جنہیں کھوجنا اور ان سے استفادہ کرنا بڑا چیلنج ہے۔ صاف ستھری اور قابل تجدید توانائی کے وسائل سے استفادہ عصر حاضر میں بڑا اہم کام بن چکا ہے جو کسی بھی ملک کی معیشت میں نمایاں رول ادا کرسکتا ہے۔ جہاں یہ اچھی تبدیلی ہے کہ عالمی معیشت کی مجبوری نے معاشیات کو اقوام کے درمیان رشتوں کی وجہ بنادیا لیکن بعض اقوام کی طرف سے غیر واضح حکمت عملی ان رشتوں پر اثرانداز ہورہی ہے جس کا ازالہ ہونا چاہئے۔

TOPPOPULARRECENT