Saturday , November 18 2017
Home / آپ کے سوال / بداخلاق بہو اور تماشائی بیٹا

بداخلاق بہو اور تماشائی بیٹا

سوال :  بڑے افسوس کے ساتھ میرے گھریلو معاملہ کو شائع کررہا ہوں۔ معاملہ یہ ہے کہ میرا بہو سے جھگڑا ہوگیا۔ بات بڑی چھوٹی تھی لیکن وہ مجھے گالیاں بکنے لگی اور میرے فرزند بھی صرف تماشائی ہے۔ میں جائیداد بھی بیٹے کو دے دیا ۔ میں صرف ایک کمرہ میں رہتا ہوں اور مجھے گھر سے چلے جانے کا حکم دے رہی ہے۔ کیا میری بہو کو میرے ساتھ بدتمیزی کرنے کی سزا اللہ تعالیٰ دے گا یا نہیں ؟
ایک قاری
جواب :   اسلام پاکیزہ مذہب ہے جو اپنے متبعین کو حکم دیتاہے کہ وہ اپنے بڑوں کا احترام کریں اور چھوٹوں سے پیار و شفقت سے پیش آئیں۔ عمر میں ، رتبہ میں ، رشتہ میں بڑے ہر شخص کا احترام ضروری ہے ۔ خسر کا درجہ والد کے مانند ہے۔ بہو پر ان کی تعظیم کرنا ، ادب سے گفتگو کرنا ، حسن سلوک سے پیش آنا لازمی ہے ۔ اگر ان سے کچھ کوتاہی یا غلطی ہوجائے تو مؤدبانہ انداز میں ان کو سمجھاناچاہئے اور اگر کوئی بہو ناحق اپنے خسر سے بد کلامی کرے ، گالی گلوج کرے ، ان کی ایذا رسانی کرے تو شرعاً وہ تنبیہ و تعزیر کی مستحق ہے۔
در مختار برحاشیہ ردالمحتار ج : 3 ، ص : 187 میں ہے ۔ و عزر کل مرتکب منکر اوموذی مسلم بغیر حق بقول او فعل ولو بغمز العین۔
بیٹے کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے والد کا پاس و لحاظ رکھے، ان کو خوش رکھنے کی کوشش کرے، ایسی کوئی حرکت ہونے نہ دے جس سے والد کی دل شکنی ہوتی ہو اور ان کے دل کو ٹھیس پہنچتی ہو۔ اگر بہو اپنے خسر سے بدتمیزی سے پیش آتی ہے تو شوہر پر لازم ہے کہ وہ اپنی اہلیہ کو حد ادب میں رہنے کی تلقین کرے اور اگر وہ خاموش رہے اور اپنی اہلیہ کی بدسلوکی پر ناراضگی کا اظہار نہ کرے تو بیٹا اور بہو دونوں عنداللہ ماخوذ ہوں گے اور آخرت میں سخت عذات کے مستحق ہوںگے ۔ ترمذی شریف کی حدیث شریف میں ہے :  رضا الرب فی رضاالوالد و سخط الرب فی سخط الوالد ۔
رب کی خوشنودی والد کی خوشنودی میں ہے اور رب کی ناراضگی والد کی ناراضگی میں ہے ۔
مذکورہ در سوال صورت اگر آپ نے اپنے بیٹے کو اپنا مملوکہ مکان ہبہ کیا ہے تو ہبہ کے صحیح ہونے کے لئے قبضہ کامل شرط ہے۔ یعنی اگر آپ نے اپنے مکان سے نکل کر اس سے دستبردار ہوکر اس کا قبضہ اپنے بیٹے کو دیا ہے تو ہبہ مکمل ہے اور اگر آپ اس مکان میں رہتے ہوئے اس مکان کو بیٹے کے نام کئے ہیں اور آپ اس میں ابھی مقیم ہیں تو بیٹے کو قبضہ نہ دینے کی وجہ سے ہبہ نامہ نامکمل ہے ۔ آپ ہی اس مکان کے مالک اور قابض ہیں۔ در مختار ج : 4 کتاب الھبۃ میں ہے : (و) شرائط صحتھا (فی الموھوب أن یکون مقبوضا) غیر مشاع ممیزا  غیر مشغول ۔ آپ کے بیٹے کو یہ بھی معلوم ہونا چاہئے کہ اگر والد مفلس و محتاج ہوجائے اور اس کو اپنی تنگدستی دور کرنے کے لئے بیٹے کو دیا ہوا مکان واپس لئے بغیر کوئی اور صورت نہیں ، ایسی صورت میں والد کو یہ اجازت ہے کہ وہ مکان اپنے بیٹے سے واپس لے لے۔ فتح القدیر ج : 7 ، ص : 501  میں ہے۔ قال فی البدائع : فانہ یحل لہ اخذہ من غیر رضا الولد ولا قضاء القاضی اذا احتاج الیہ للانفاق علی نفسہ ، و قال فی الکفایۃ من شروح ھذا الکتاب فانہ یستقل بالرجوع فیھا یھب لولدہ  عند احتیاجہ الی ذلک للانفاق علی نفسہ۔

غیر مسلم کاجانور ، اللہ کے نام پر ذبح کرنا
سوال :   احقر کے آباء و اجداد زمانے سے ’’ ملا گیری ‘‘ کی خدمت پر مامور ہیں۔ مسلم و غیر مسلم سب ہی کے ذبائح کی خدمت انجام دیتے آرہے ہیں اور احقر بھی اپنے اجداد کی وارثۃً یہ خدمت انجام دیتا آرہا ہے اور ہمارے علاقے کے غیرمسلم بھی بغیر اسلامی طریقے سے ذبح کئے ہوئے ذبیحہ کو کھانا اچھا نہیں سمجھتے ۔ لیکن ان ذبائح میں وہ بکری بھی ہوتی ہے جس کو کوئی مسلم کسی درگاہ پر ذبح کے لئے لاتا ہے، یا پھر غیر مسلم کے ذبائح میں وہ بکری بھی ہوتی ہے جس کو کوئی آتش پرست آتش کدہ کے لئے لاتا ہے اور کوئی بت پرست اپنے بتوں اور اصنام کیلئے لاتا ہے تو احقر کو مذکورہ بکری کے ذبح کا کام احاطہ درگاہ یا احاطہ دیوی / مندر میں انجام دینا ہوتا ہے لیکن احقر کی نیت کسی غیر اللہ کے نام پر ذبح کرنا نہیں ہوتی بلکہ میں اس بکری کو اسلامی طریقے پر یعنی وقت ذبح اللہ کا نام لے کر قبلہ رخ ، باوضو ، ایک ایسی جگہ پر جہاں جانور کے سامنے کوئی بت نہیں ہوتا ذبح کرتا ہوں اور اس پر اجرت بھی لیتا ہوں۔
اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ مذکورہ بالا ذبائح کا کیا حکم ہے ؟ کیا وہ (وماذبح علی النصب) یا (وما اھل لغیر اللہ) کی قبیل سے ہیں یا نہیں ؟ اور کیا ذبیحہ میں ذابح کے علاوہ دوسروں (بکری کے مالک وغیرہ) کی نیت کا بھی اثر ہوتا ہے ؟ اور کیا ذبیحہ میں جگہ (احاطہ درگاہ یا احاطہ مندر) کا بھی کچھ اثر ہوتا ہے ؟ اور ’’ ذابح ملا ‘‘ اور اس کی اجرت کا کیا حکم ہے ؟ کیا ملا نے اوپر مذکورہ جانوروں کو اسطرح اسلامی طریقے پر ذبح کر کے شرک یا تعاون علی الشرک کا ارتکاب کیا ہے یا کسی اور گناہ کا ؟
ہمارے گاؤں میں کچھ حضرات کا کہنا ہے کہ ذابح ملا ۔ یعنی احقر ۔ اوپر مذکورہ بکری کے ذبح کی وجہ سے امامت و مؤذنی اور ذبح کی اہلیت سے محروم ہوگیا ہے اور اس کی اجرت بھی ناجائز ہے ، لہذا احقر مساجد میں اذان نہ دے اور وقت ضرورت امامت نہ کرے اور کوئی مسلم ایسے ملا سے جانور ذبح نہ کروائے ۔( بینوا و توجروا )۔
سید سیف الدین بن سید فخرالدین، ضلع بیڑ
جواب :  مذبوحہ جانور کے لئے شرعاً ذبح کے وقت نیت کا لحاظ و اعتبار کیا گیا۔ فتاوی ردالمحتار کی جلد 5 ، ص 203 میں ہے : واعلم ان المدار علی القصد عند ابتداء الذبح بناء بریںاگر کوئی مسلمان ، کسی غیر مسلم کا جانور اللہ تعالیٰ کا نام لیکر ذبح کرے تو یہ جانور حلال ہوگا ۔ فتاوی عالمگیری جلد 5 ص : 286 میں ہے : مسلم ذبح شاۃ المجوسی لبیت نارھم أوالکافر لالھتھم توکل لأنہ سمی اللہ تعالیٰ صورت مسئول عنہا میں حسب صراحت سوال سید سیف الدین کا احاطہ مندر میں غیر مسلم کا جانور اللہ کے نام پر ایسی جگہ ذبح کرنا جہاں جانور کے سامنے کوئی بت یا مورتی نہ ہو شرعاً درست ہے، فسق و فجور اور تعاون علی الشرک نہیں۔ مخفی مبارکہ آیاتِ قرآنی مذکور در سوال کا اطلاق متذکرہ بالا عمل ذبح پر نہیں ہوتا، کیونکہ دونوں آیات قرآنی کا مفہوم و مدلول ایک ہی ہے کہ غیر اللہ کے نام پر جانور ذبح کیا جائے تو وہ حرام ہے۔ پس موروثی ملا کا عمل اور اس کی اجرت درست اور ان کی امامت و موذنی جائز ہے۔

میاں، بیوی کے مختلف مسائل
سوال :  کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ میں کہ میاں بیوی میں جھگڑا ہوا۔ میاں نے کہا کہ ’’ گھر کام نہیں کرنا ہے ‘‘ یا ’’ میرا کام نہیں کرنا ہے ‘‘ یا ’’ میری بات نہیں ماننا ہے ‘‘ تو ’’ گھر سے نکل جا‘‘ ، ’’ چلی جا ‘‘ کہہ کر دھکیل دیا ۔ برائے مہربانی قرآن و حدیث کی روشنی میں مدلل جواب عنایت فرمائیں۔ برائے مہربانی فقرہ واری جواب عنایت فرمائیں ۔
۱۔  ’’ گھر سے نکل جا‘‘ تین مرتبہ کہتے ہوئے دھکیل دینے پر کیا حکم ہے ؟
۲ ۔  بیوی کے ذمہ شوہر کے بالغ (5 یا 6 ) بھائیوں کا کام کرنا ہے یا نہیں ۔ اس کا کیا حکم ہے ؟
۳ ۔ بیوی اگر بیمار ہو تو اس کے ذمہ ماں باپ یا شوہر کی خدمت بیماری کی حالت میں کرنا لازم ہے یا نہیں اس کا کیا حکم ہے ؟
۴ ۔  شوہر کہے کہ میرے ماں باپ اور بھائیوں کی خدمت کرو وہ اگر خوش ہیں تو میں بھی خوش ہوں ورنہ میں بھی تم سے ناراض ہوں تو اس کے لئے کیا حکم ہے ؟
۵ ۔  بیوی بیماری کی وجہ سے شوہر سے یہ کہے کہ آپ کو صبح جانا ہے اس لئے میں آپ کا جو کام ہے وہ صبح آپ کے جانے سے پہلے کردیتی ہوں اب اس وقت میری طبیعت بہت خراب ہے اور شوہر کہے کہ ’’ نہیں ابھی یعنی رات میں ہی یہ کام کردو‘‘ اور پھر اسی بات پر شوہر مذکورہ بالا فقرہ نمبر (۱) کہتا ہوا دھکیل دیا تو اس کے لئے کیا حکم ہے ؟
۶ ۔  تین منزلہ بلڈنگ میں اوپری تیسری منزل پر باورچی خانہ ہے اور دوسری اور پہلی منزل پر رہائش ہے تو صبح سے شام تک اوپر سے نیچے آنے جانے میں بیوی کے پیروں میں درد ہوگیا ہے تو اس کیلئے شوہر پر کیا ذمہ داری ہے جبکہ شوہر کہتا ہے  کچھ بھی ہو تم کو کام کرنا ہی کرنا ہے تو اس کیلئے کیا حکم ہے ؟ (اور اسی وجہ سے حمل بھی ضائع ہوتا جارہا ہے)
۷ ۔  شوہر صبح سات (7) بجے جاکر رات میں (11) یا (12) بجے تک آتا ہے ۔ اس اثناء میں ماں طعنہ تشنہ سے کام  لیتی ہے جس کی وجہ سے بیوی کو مرض دق لاحق ہوگیا ہے تو اب اس پر شوہر کی کیا ذمہ داری ہے اور اس کا حکم کیا ہے ؟
۸ ۔ بیوی اب اپنے ماں باپ کے پاس ہی ہے مزاج کی ناسازی کی وجہ سے شوہر کے لوگ بات چیت کے لئے آرہے ہیں۔ برائے مہربانی قرآن و حدیث کی روشنی میں بیوی کے لئے کیا حکم ہے ، بتائیں تو مہربانی ہوگی ؟
نام ندارد
جواب :  ۱ ۔ ’’گھر سے نکل جا‘‘ ’’ چلی جا‘‘ کنایہ کے الفاظ ہیں اور اسمیں نیت کا اعتبار ہے طلاق کی نیت تھی تو طلاق ہوگی ورنہ نہیں۔
۲ ۔ بیوی کے ذمہ یہ کام واجب نہیں ہے۔
۳ ۔ حسب طاقت شوہر کی خدمت کرے۔ ساس سسر کی خدمت کرنا واجب نہیں۔
۴ ۔ شوہر کو راضی رکھنے کیلئے خدمت کرسکتی ہے۔
۵ ۔  شوہر کا عمل غیر شرعی ہے۔ نیت طلاق کی تھی تو طلاق ہوگی ورنہ نہیں۔
۶ ۔ دونوں آپس میں صلح کرلیں۔ بیوی بھی انسان ہے، انسانیت کو پیش نظر رکھیں۔ بیوی موزوں وقت اوپر جاکر باورچی خانہ کا مکمل کام کر کے اترے
۷ ۔  شوہر پر لازم ہے کہ ایسا انتظام کرے کہ بیوی کو اپنی ساس کے طعنے سننے کا موقع نہ ہو یا علحدہ مکان لے کر رکھے۔

والدین کو برائی سے روکنا یا نہیں
سوال :  میرے والد نہایت اچھے انسان ہیں، وہ ہمارا بہت خیال رکھتے ہیں لیکن ان میں ایک خامی ہے کہ وہ کبھی کبھی شراب پیتے ہیں، مجھے بہت تکلیف ہوتی ہے اور وہ نمازوں کا زیادہ اہتمام نہیں کرتے ۔ میں نماز پابندی سے پڑھتا ہوں۔ مجھے ڈر ہوتا ہے کہ ان کو شراب پینے اور نماز ترک کرنے کی وجہ سے آخرت میں عداب ہوگا ۔ اس کے علاوہ دنیوی اعتبار سے وہ بہت اچھے انسان ہیں۔ ایسی صورت میں مجھے کیا کرنا چاہئے میں ان کو سمجھا نہیں سکتا ۔ مجھے ڈر ہوتا ہے ۔ مجھے کیا کرنا چاہئے ۔
عبدالاحد، ورنگل
جواب :  امر بالمعروف اور نہی عن المنکر، ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے ۔ اگر کوئی لڑکا اپنے والدین میں  غیر شرعی عمل کو دیکھے تو اس کو اجازت ہے کہ وہ نہایت ادب و احترام کے ساتھ ان کی خدمت میں اس عمل کی برائی کو ظاہر کرے اور نہایت سنجیدگی اور نرمی سے ان کو اس عمل سے روکے لیکن ان کو شدت سے نہیں روکنا چاہئے ۔ اگر وہ بات قبول کرلیں تو ٹھیک ورنہ ان کے لئے اللہ سے دعائیں کرتے رہے۔ نفع المفتی والسائل ص : 107 میں ہے : فان الامر بالمعروف والنھی عن المنکر فیہ منفعۃ من امرہ و لتھاہ عن المنکر والاب والام أحق بأن ینفع لھما … لکن ینبغی ان لا یعنف علی الوالدین فان قبلا فبھا والا سکت و اشتغل بالا ستغفار لھما کذا فی نصاب الاحتساب۔

TOPPOPULARRECENT