Friday , December 15 2017
Home / Top Stories / بدر الدین اجمل سے ٹکر لینے کاحوصلہ صرف بی جے پی میں ہے

بدر الدین اجمل سے ٹکر لینے کاحوصلہ صرف بی جے پی میں ہے

آسام کے انتخابات میں مسلم لیڈر کے خلاف امیت شاہ کی نفرت کا اظہار
نامبری( آسام ) ۔/5اپریل، ( سیاست ڈاٹ کام ) وزیر اعظم نریندر مودی سے دو سالہ حکومت کی کارکردگی کی رپورٹ طلب کرنے پر صدر کانگریس سونیا گاندھی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے صدر بی جے پی امیت شاہ نے انہیں یاد دلایا کہ آسام میں منعقدہ انتخابات لوک سبھا کیلئے نہیں بلکہ اسمبلی کیلئے ہیں۔ آسام میں 11اپریل کو دوسرے اور آخری مرحلہ کے انتخابات کے پیش نظر ایک ریالی کو مخاطب کرتے ہوئے امیت شاہ نے کہا کہ انتخابی مہم کیلئے سونیا گاندھی یہاں آئیں اور نریندر مودی سے حکومت کی 2سالہ کارکردگی کی رپورٹ ( حساب کتاب ) پیش کرنے کا مطالبہ کیا جبکہ سونیاگاندھی کو یہ بھی نہیں معلوم ہے کہ آسام میں لوک سبھا کیلئے نہیں اسمبلی کے انتخابات منعقد ہورہے ہیں جس میں صرف مقامی مسائل اٹھائے جاتے ہیں۔ امیت شاہ نے کہا کہ ہم جب 2019 میں ( لوک سبھا انتخابات ) یہاں آئیں گے ہمارے تمام کارناموں اور خدمات کا حساب کتاب پیش کیا جائیگا اور تمہیں اس خصوص میں سوال کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔ بی جے پی سربراہ نے کہا کہ آسام کے عوام نے گزشتہ 15سال سے کانگریس کو مسند اقتدار پر بٹھایا ہے حتیٰ کہ سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کو بھی 10سال تک یہاں سے راجیہ سبھا کیلئے روانہ کیا کیا ہے ۔ سونیا میڈم ، آسام کے عوم چاہتے ہیں کہ کارکردگی کی رپورٹ طلب کرنے کے بجائے آپ خود اپنی رپورٹ پیش کریں۔ واضح رہے کہ آسام میں ترون گوگوئی کی زیر قیادت کانگریس کی حکومت ہے۔

یہ اعتماد ظاہر کرتے ہوئے کہ کل منعقدہ پہلے مرحلہ کے انتخابات میں عوام کی کثیر تعداد کی جانب سے حق رائے دہی سے استفادہ پر کانگریس کی بیدخلی کے امکانات روشن ہوگئے ہیں۔ مسٹر امیت شاہ نے ووٹروں سے اپیل کی کہ دوسرے مرحلہ کے انتخابات میں بی جے پی ۔ اے جی پی اتحاد کے حق میں فیصلہ دیں تاکہ ریاست میں تبدیلی لاتے ہوئے کرپشن سے پاک حکومت فراہم کی جاسکے۔ انہوں نے صدر آل انڈیا یونائٹیڈ ڈیموکریٹک فرنٹ کا تذکرہ کرتے ہوئے دریافت کیا کہ اب تمہاری ( کانگریس ) حمایت کون کریگا، کیا تم چیف منسٹر بننے کیلئے بدر الدین اجمل کی تائید حاصل کرو گے؟ مسٹر امیت شاہ نے یہ ادعا کیا کہ کانگریس انہیں ( اجمل ) کو روک نہیں سکتی صرف بی جے پی میں یہ دَم خَم ہے۔ ہم نے گزشتہ 50سال سے اپوزیشن میں بیٹھنے کو ترجیح دی ہے اجمل کی تائید سے حکومت تشکیل دینے کی کوشش نہیں کی۔بصورت دیگر یہ آسام کے عوام کی توہین کے مترادف ہوتا۔ انہوں نے یہ وعدہ کیا کہ بی جے پی آسام کو ایک ترقی یافتہ ریاست بناتے ہوئے اس کے مستقبل کو سنوارے گی۔ انہوں نے عوام سے کہا کہ پرانی اور بوسیدہ کانگریس حکومت کو اُکھاڑ پھینکیں اور ایک نئی بی جے پی۔ اے جی پی حکومت کا قیام عمل میں لائیں۔ کانگریس پر تنقید کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے بی جے پی لیڈر نے الزام عائد کیا کہ چیف منسٹر ترون توگوئی اور بدر الدین اجمل بظاہر مد مقابل ہیں لیکن یہ دونوں راتوں رات متحد ہوسکتے ہیں۔ بنگلہ دیشی باشندوں کو آسام میں دخل اندازی پر انہوں نے کہا کہ کانگریس حکومت عمداً مداخلت کاروں کو راہداری فراہم کررہی ہے تاکہ انہیں ووٹ بینک کے طور پر استعمال کیا جاسکے جس کا خمیازہ آسامی نوجوانوں کو بھگتنا پڑرہا ہے کیونکہ یہ تارکین وطن مقامی ملازمتوں پر قبضہ کررہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT