Wednesday , November 22 2017
Home / Top Stories / بدعنوان افراد کو بچانے اپوزیشن ‘نوٹ بندی کی مخالفت کر رہی ہے

بدعنوان افراد کو بچانے اپوزیشن ‘نوٹ بندی کی مخالفت کر رہی ہے

پاکستان بھی اسی طرح دہشت گردوں کو بچانے سرحد پار سے فائرنگ کرتا ہے ۔ وزیر اعظم نریندر مودی کا بنارس ہندو یونیورسٹی میں خطاب
وارناسی 22 ڈسمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) نوٹ بندی مسئلہ پر پارلیمنٹ کی کارروائی روکنے والی اپوزیشن جماعتوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے آج الزام عائد کیا کہ یہ جماعتیں بدعنوان افراد کو بچانے کی اسی طرح کوشش کر رہی ہیں جس طرح پاکستان دہشت گردوں کی حفاظت کیلئے سرحد پار سے فائرنگ کرتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ نوٹ بندی کی وجہ سے کالے دھن کا انکشاف ہوگیا ہے اس کے علاوہ کئی افراد کے کالے من ( سیاہ دل ) کا بھی انکشاف ہوگیا ہے ۔ مودی نے بنارس ہندو یونیورسٹی کیمپس میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کئی لوگ کہتے ہیں کہ میں نے اتنا بڑا قدم اٹھاتے ہوئے اس کے نتائج و عواقب کے تعلق سے غور نہیں کیا ۔ حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے جس بات پر غور نہیں کیا تھا وہ یہ ہے کہ کئی سیاسی جماعتیں اور قائدین بدعنوان افراد کو بچانے کیلئے آگے ٓئیں گے ۔ لیکن انہیں خوشی ہے کہ کالے دھن کو بے نقاب کرنے کیلئے شروع کردہ مہم کے نتیجہ میں کئی کالے من بھی منکشف ہوگئے ہیں۔ وزیر اعظم 500 اور 1000 روپئے کے کرنسی نوٹوں کا چلن بند کئے جانے کے بعد پہلی مرتبہ اپنے حلقہ انتخاب کے دورہ پر آئے ہیں۔ انہوں نے اپوزیشن جماعتوں پر ‘ جو نوٹ بندی کے مسئلہ پر حکومت کو تنقیدوں کا نشانہ بنا رہے ہیں ‘ نشانہ بناتے ہوئے حالیہ سشن کے دوران پارلیمنٹ کارروائی میں خلل پیدا کرنے کو پاکستان کی جانب سے در اندازوں کو تحفظ فراہم کرنے سرحد پار سے کی جانے والی فائرنگ سے تشبیہہ دی ۔ انہوں نے سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ اور کانگریس قائدین راہول گاندھی و پی چدمبرم پر بھی تنقید کی اور کہا کہ یہ لوگ کہتے ہیں کہ کیش لیس معیشت کو فروغ دیا جانا مناسب نہیں ہے کیونکہ ملک میں غربت ہے ‘ ناخواندگی ہے اور گاووںمیں برقی نہیں پہونچ پا رہی ہے ۔

یہ اظہار خیال خود ان کے رپورٹ کارڈ کو ظاہر کرتا ہے ۔ مودی نے کہا کہ غربت در اصل منموہن سنگھ سے ملا ورثہ ہے اور سابق وزیر اعظم کا امیج بہت صاف ہے لیکن ان کے دور اقتدار ہی میں کئی اسکامس ہوئے ہیں۔ منموہن سنگھ نے پارلیمنٹ میں کہا تھا کہ ایک ایسے ملک میں کیش لیس معیشت مناسب نہیں ہوسکتی جہاں 50 فیصد کے قریب لوگ غریب ہیں نریندر مودی نے کہا کہ انہیں حیرت ہے کہ آیا منموہن سنگھ خود اپنا رپورٹ کارڈ دے رہے تھے اور یہ اعتراف کر رہے تھے کہ ملک میں صورتحال ابتر ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ منموہن سنگھ صرف دو معیادوں کیلئے وزیر اعظم نہیں رہے بلکہ وہ اس سے قبل وزیر فینانس رہے ۔ اس کے علاوہ 1970 سے وہ کئی اہم عہدوں پر فائز رہے تھے ۔ سابق وزیر فینانس پی چدمبرم کے اس بیان پر کہ ہندوستان میں آن لائین معاملتیں نہیں چل سکتیں کیونکہ یہاں تقریبا نصف گاووں میں برقی تک نہیں ہے نریندر مودی نے کہا کہ چدمبرم آخر کس کی غلطی کو اجاگر کر رہے تھے ۔ کیا میں ( مودی ) نے برقی پولس اکھاڑ دئے ہیں یا تار توڑ دئے ہیں جہاں برقی پہلے سے موجود تھی ؟ ۔ انہوں نے راہول گاندھی پر بھی تنقید کی جنہوں نے کہا تھا کہ ایسے ملک میں جہاں خواندگی کی شرح کم ہے کارڈز کے ذریعہ ادائیگی اور آن لائین منتقلی مشکلات کا شکار ہوسکتی ہے ۔

مودی نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ راہول یہ نہیں کہیں گے کہ میں ( مودی ) نے کوئی کالا جادو کیا ہے تاکہ جو لوگ پہلے سے لکھنا پڑھنا جانتے تھے انہیں ناخواندہ بنادیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ راہول گاندھی اظہار خیال کرنے سے پہلے نہیں سوچتے۔ انہیں یہ احساس نہیں ہوا ہوگا کہ اس طرح کے ریمارکس سے انہوں نے خود اپنی پارٹی کے طویل اقتدار کی ناکامیوں کو آشکار کردیا ہے ۔ نوٹ بندی سے ہونے والی مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے صبر و تحمل سے کام لینے کی عوام کو تلقین کرتے ہوئے مودی نے کہا کہ کسی کچرے کے ڈھیر کی بدبو اس وقت ناقابل برداشت ہوتی ہے جب ہم صفائی کی مہم شروع کرتے ہیں لیکن اگر ہم ہر گندی چیز کو نکال کر پھینک دیں تو پھر ہم ایک خوبصورت باغیچہ بناسکتے ہیں۔ کیش لیس معیشت کی سمت کام کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے مودی نے کہا کہ جیسے ہی کالا دھن سماج سے ختم ہوجائیگا اس بات کو یقینی بنانا ضروری ہے کہ تازہ کالا دھن پیدا نہ ہوجائے ۔ نیٹ بینکنگ ‘ موبائیل بینکنگ اور کارڈز کے ذریعہ ادائیگیاں آگے بڑھنے کا راستہ ہیں۔ قبل ازیں وزیر اعظم نے ایک کینسر ریسرچ سنٹر کا سنگ بنیاد رکھا اور ایک سوپر اسپیشالیٹی دواخانہ کا بھی سنگ بنیاد رکھا ۔ مودی نے یہاں چانکیہ ڈرامہ پیش کرنے والے فنکاروں سے تبادلہ خیال بھی کیا ۔

TOPPOPULARRECENT