Monday , June 25 2018
Home / ہندوستان / بدعنوان وزیر کے غیرمحسوبہ اثاثہ جات پر لوک آیوکت تحقیقات

بدعنوان وزیر کے غیرمحسوبہ اثاثہ جات پر لوک آیوکت تحقیقات

جبلپور ۔ 20 جون (سیاست ڈاٹ کام) مدھیہ پردیش ہائیکورٹ نے ریاستی وزیر برائے بہبودی کسان و زرعی ترقیات گوری شنکر بیسن کے خلاف لوک آیوکت تحقیقات کا حکم جاری کیا ہے۔ ان کے خلاف مفادعامہ کی ایک درخواست کا ادخال عمل میں آیا تھا جہاں پر بدعنوانیوں میں ملوث ہونے کے الزامات عائد کئے گئے ہیں جس کے مطابق 1994ء میں جب بیسن کے پاس معمولی جائیداد تھی،

جبلپور ۔ 20 جون (سیاست ڈاٹ کام) مدھیہ پردیش ہائیکورٹ نے ریاستی وزیر برائے بہبودی کسان و زرعی ترقیات گوری شنکر بیسن کے خلاف لوک آیوکت تحقیقات کا حکم جاری کیا ہے۔ ان کے خلاف مفادعامہ کی ایک درخواست کا ادخال عمل میں آیا تھا جہاں پر بدعنوانیوں میں ملوث ہونے کے الزامات عائد کئے گئے ہیں جس کے مطابق 1994ء میں جب بیسن کے پاس معمولی جائیداد تھی، نے دیکھتے ہی دیکھتے بالاگھاٹ، پونے اور بھوپال میں خود اپنے اور اپنے ارکان خاندان کے نام کئی جائیدادیں خریدیں۔ مفاد عامہ کی درخواست میں مزید کہا گیا ہیکہ کسی بھی فرد کے لئے انتہائی قلیل عرصہ میں بڑی بڑی جائیدادیں خریدنا اس وقت تک ممکن نہیں ہوسکتا جب تک وہ بدعنوانیوں میں ملوث نہ ہو۔ درخواست میں 2003-11ء کے دوران بیسن کے ذریعہ خریدی گئی جائیدادوں کی جو تفصیل انہوں نے الیکشن کمیشن کو اپنے حلف نامہ میں دکھائی ہیں، اس کی تفصیلات بھی پیش کی گئی ہے۔

درخواست کی سماعت کے وقت جب بیسن کی جانب سے عدالت میں کسی نے نمائندگی نہیں کی تو عدالت نے اس معاملہ کو سنگین قرار دیتے ہوئے دو وکلاء نمن ناگرتھ اور اے پی شیروہٹا کو مقرر کیا تاکہ وہ اپنی جانب سے عدالت کے ساتھ تعاون کرسکیں۔ عدالت نے اس سلسلہ میں معتمد داخلہ کو بھی ایک نوٹس جاری کی ہے۔ درخواست گذار کا ادعا ہیکہ مسٹر بیسن نے پونے میں اپنی بیٹی کے نام لاکھوں روپئے کی مالیت کا ایک فلیٹ خریدا ہے۔ یہی نہیں بلکہ بالا گھاٹ کلکٹر کی رہائش گاہ کے روبرو 2.5 کروڑ روپئے کی اراضیات فرضی ناموں سے خریدی ہے جبکہ بالاگھٹ میں ہی ایک اور اراضی 91 لاکھ روپئے میں اپنی بیوی کے نام پر اور ایک سینیٹری پائپ فیکٹری اور زرعی اراضی جس کی قیمت 7 کروڑ روپئے بتائی گئی ہے، خریدی ہے۔ اس کے علاوہ بھوپال میں بھی مسٹر بیسن کی جانب سے کروڑہا روپئے کی اراضیات خریدنے کا الزام عائدکیا گیا ہے۔ چیف جسٹس اے ایم خانویلکر اور جسٹس الوک ارادھے پر مشتمل ایک بنچ نے سابق ایم یل اے کشورسمرتیے کی جانب سے داخل کردہ مفاد عامہ کی درخواست پر لوک آیوکت تحقیقات کا حکم جاری کیا۔

TOPPOPULARRECENT