Friday , January 19 2018
Home / کھیل کی خبریں / برازیل ورلڈ کپ 2014ء کیلئے سب سے پسندیدہ ٹیم

برازیل ورلڈ کپ 2014ء کیلئے سب سے پسندیدہ ٹیم

سائوپالو ۔ 13 مئی (سیاست ڈاٹ کام) میزبان برازیل فٹبال ورلڈ کپ کے افتتاحی میچ میں 12 جون کو کروشیا کے خلاف اپنی مہم شروع کرے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مرتبہ عالمی چمپیئن ٹیم کا تعلق یورپ سے بھی ہوسکتا ہے ۔ دفاعی چمپیئن اسپین کے ہمراہ اٹلی اور برازیل کو پسندیدہ ٹیموں میں شمار کیا جارہا ہے لیکن میگا ایونٹ کی تاریخ اور حالات برازیل کے حق میں سب سے زیادہ آگے دکھائی دے رہے ہیں۔ ورلڈ کپ سے قبل برازیل عالمی درجہ بندی میں ترقی کرتے ہوئے چوتھے مقام پر پہنچ گیا ہے جبکہ موسم اور حالات سے اس کے کھلاڑی پوری طرح واقف ہوں گے جبکہ آب و ہوا یورپ سے آنے والی ٹیموں کے لئے اجنبی ثابت ہوں گے۔ جنوبی امریکی خطے میں اب تک کسی یورپی ٹیم نے عالمی کپ نہیں جیتا ہے جبکہ 1986 کے بعد سے بر اعظم امریکہ سے باہر ارجنٹینا نے دو اور برازیل نے ایک مرتبہ ورلڈ کپ اپنے نام کیا ہے۔

یہ ریکارڈ علاقائی ٹیموں اور شائقین کیلئے باعث تقویت ہوگا۔ جنوبی امریکہ میں اب تک چار مرتبہ ورلڈ کپ ٹورنمنٹ کھیلا جاچکا ہے اور ہر مرتبہ مقامی ٹیم نے ہی چمپیئن ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔ 1930 کا پہلا ورلڈ کپ یوروگوائے میں ہوا اور یہی ملک چمپیئن بنا۔ 20 برس بعد 1950 میں برازیل میزبان تھا تاہم کامیابی کا اعزاز یوروگوائے کو حاصل ہوا۔1962 میں چلی میں منعقدہ ٹورنمنٹ میں جیت کا سہرا برازیل کے سر رہا جبکہ ارجنٹینا نے1978 میں اپنے گھریلو میدانوں پر فائنل میں نیدرلینڈ کو شکست دیکر ٹورنمنٹ جیتا۔ یہ بھی دلچسپ ہیکہ اب تک کھیلے گئے 19 ورلڈ کپ ٹورنمنٹس میں چھ مرتبہ فتح کا تاج میزبان ٹیم کے سر سجا ہے۔ ان اعداد وشمار نے برازیل فٹبال شائقین کا جوش و خروش بام عروج پر پہنچا دیا ہے۔ دوسری جانب ماہرین ماحولیات نے کہا ہیکہ برازیل میں فٹبال ورلڈ کپ کے دوران گرم موسم یورپی ممالک کی ٹیموں کیلئے مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔ محققین کے مطابق یہ 60 فیصد امکانات ہیں کہ ورلڈ کپ کے دوران ’ایل نینو‘ برازیل کو متاثر کرے گا۔ ایل نینو ایسا موسمیاتی نظام ہے جو ہر دو سے پانچ برس کے بعد پیدا ہوتا ہے اور اس کا تعلق وسطی اور مشرقی بحرالکاہل میں سمندر کے بڑھتے درجہ حرارت سے ہوتا ہے۔ سائنسدانوں کا اندازہ ہے کہ یہ پیچیدہ موسمیاتی نظام جون اور جولائی کے مہینوں میں برازیل میں شدید خشک اور گرم موسم کی وجہ بنے گا۔ سائنسدانوں کے بموجب برازیل میں خشک اور گرم موسم کی پیش قیاسی برطانوی کھلاڑیوں کیلئے اچھی خبر نہیں جو برطانوی موسمِ گرما میں بارش اور نمی کے عادی ہیں۔ محققین کا کہنا ہے کہ اگر ایسا ہوتا ہے تو برازیل میں جون اور جولائی کا موسم کھلاڑیوں کیلئے بے چینی کا باعث ہوگا۔ برطانیہ سے تعلق رکھنے والی ٹیمیں روایتی طور پر اس قسم کے موسمی حالات میں اپنا بہترین کھیل پیش کرنے میں ناکام رہیں اور 1994 میں میکسیکو میں فٹبال ورلڈ کپ کے دوران آئرلینڈ کی کارکردگی اس کا ثبوت ہے۔
انگلش فٹبال ٹیم 2014 کے ورلڈ کپ میں اپنا پہلا میچ مناس میں اٹلی کے خلاف کھیلے گی اور شمالی برازیل میں ہونے کی وجہ سے وہاں سخت گرمی کا امکان نہیں تاہم دسمبر 2013 میں ورلڈ کپ ڈراز کے بعد انگلش کوچ روئے ہاجسن نے اس پر بھی تشویش ظاہر کی تھی۔ ورلڈ کپ میں اپنا دوسرا اور تیسرا میچ کھیلنے کیلئے انگلش ٹیم کو جنوبی اور مشرقی برازیل کا رخ کرنا ہوگا اور ان علاقوں کے گرم موسم سے متاثر ہونے کے امکانات بہت زیادہ ہیں انھوں نے اندازہ ظاہر کیا کہ ایل نینو کی وجہ سے ریو اور گردو نواح کے درجہ حرارت میں بھی اوسطاً ایک ڈگری سنٹی گریڈ کا اضافہ ہو سکتا ہے۔ اوسطاً ایک ڈگری کا اضافہ معمولی لگتا ہے لیکن ہر روز یہ اضافہ صرف ایک ہی ڈگری کا نہیں ہوگا۔

TOPPOPULARRECENT