Saturday , January 20 2018
Home / کھیل کی خبریں / براعظم انٹارٹکا کی دریافت

براعظم انٹارٹکا کی دریافت

یہ ساتواں براعظم ہے جو قطب جنوبی کو گھیرے ہوئے ہے ۔ بیسویں صدی میں اس کی دریافت کیلئے جو ٹیمیں بھیجی گئیں ان سے انداز ہوتا ہے کہ یہ براعظم رقبے میں کم از کم 50لاکھ مربع میل ہوگا ۔ یاد رہے کہ یورپ کا رقبہ صرف ساڑھے 37 لاکھ مربع میل ہے ۔گویا دریافت ہونے والا نیا براعظم ایشیاء ‘ امریکہ اور افریقہ کے بعد رقبے میں چوتھے درجے پر تھا ۔ یہ بھی م

یہ ساتواں براعظم ہے جو قطب جنوبی کو گھیرے ہوئے ہے ۔ بیسویں صدی میں اس کی دریافت کیلئے جو ٹیمیں بھیجی گئیں ان سے انداز ہوتا ہے کہ یہ براعظم رقبے میں کم از کم 50لاکھ مربع میل ہوگا ۔ یاد رہے کہ یورپ کا رقبہ صرف ساڑھے 37 لاکھ مربع میل ہے ۔گویا دریافت ہونے والا نیا براعظم ایشیاء ‘ امریکہ اور افریقہ کے بعد رقبے میں چوتھے درجے پر تھا ۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اس کے تمام حصوں کا پتہ لگالیا جائے تو یہ 50 لاکھ مربع میل سے بھی زیادہ نکلے ۔ 1947ء تک امریکہ نے اس کی صرف 4لاکھ 60 ہزار مربع میل زمین کا نقشہ تیار کیا تھا۔ اس براعظم کی دریافت کا سلسلہ 18ویں صدی ہی میں شروع ہوگیا تھا لیکن باقاعدہ ٹیمیں 1901ء سے جانے لگیں ۔ جنوری 1912ء میں اسکاٹ قطب جنوبی پر جاپہنچا لیکن یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ اس سے بیشتر ناروے کا ایک آدمی وہاں اپنے ملک کا جھنڈا گاڑ چکا تھا ۔ واپسی میں اسکاٹ اور اس کے ساتھی برفیلی ہوا میں ایسے پھنسے کہ ایک رات خیموں میں لیٹے لیٹے ان کے جسم اکڑ گئے ۔ اسی طرح اور لوگوں نے بھی جانیں دیں ‘ مگر مہموں کا سلسلہ سلسلہ نہ رکا ۔ دنیا میں سب سے زیادہ برف براعظم انٹارٹکا میں پائی جاتی ہے ۔ انٹارٹکا کی راتیں بہت طویل ہوتی ہیں ‘اس براعظم میںانسانی آبادی نہیں ہے ۔

TOPPOPULARRECENT