Friday , January 19 2018
Home / Top Stories / بردوان دھماکہ ‘ ملزمین اور ساتھی جماعت المجاہدین بنگلہ دیش کے ارکان

بردوان دھماکہ ‘ ملزمین اور ساتھی جماعت المجاہدین بنگلہ دیش کے ارکان

نئی دہلی / کولکتہ 24 اکٹوبر ( سیاست ڈاٹ کام ) قومی تحقیقاتی ایجنسی نے آج کہا کہ بردوان دھماکہ کیس میںجن افراد کو گرفتار کیا گیا ہے وہ اور ان کے ساتھی دہشت گرد گروپ جماعت المجاہدین بنگلہ دیش کے ارکان تھے اور وہ یہاں عصری دھماکو مادے تیار کرکے بنگلہ دیش روان ہکرنا چاہتے تھے تاکہ وہاں امکانی دہشت گرد حملے کرسکیں۔ آج رات جاری کردہ ایک بیان

نئی دہلی / کولکتہ 24 اکٹوبر ( سیاست ڈاٹ کام ) قومی تحقیقاتی ایجنسی نے آج کہا کہ بردوان دھماکہ کیس میںجن افراد کو گرفتار کیا گیا ہے وہ اور ان کے ساتھی دہشت گرد گروپ جماعت المجاہدین بنگلہ دیش کے ارکان تھے اور وہ یہاں عصری دھماکو مادے تیار کرکے بنگلہ دیش روان ہکرنا چاہتے تھے تاکہ وہاں امکانی دہشت گرد حملے کرسکیں۔ آج رات جاری کردہ ایک بیان میں قومی تحقیقاتی ایجنسی نے کہا کہ اس نے بردوان بم دھماکہ کی ابتدائی تحقیقات کو مکمل کرلیا ہے جس سے اشارہ ملتا ہے کہ جماعت المجاہدین بنگلہ دیش ملوث رہی ہے ۔ دو افراد شکیل احمد اور سوان منڈل عرف سبحان بردوان میں عصری دھماکو مادہ تیار کرتے ہوئے دھماکہ کی وجہ سے ہلاک ہوگئے تھے ۔ کہا گیا ہے کہ یہ دونوں بنگلہ دیش کے شہری تھے ۔

اس کے علاوہ عبدالحکیم عرف حسن اس دھماکہ میں زخمی ہوا تھا ۔ اس شخص کو اور دو خواتین کے بشمول مزید تین افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے ۔ این آئی اے نے اپنے بیان میں کہا کہ اب تک کی تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ ملزمین اور ان کے ساتھی جماعت المجاہدین بنگلہ دیش کے ارکان تھے جو بنگلہ دیش میں ایک دہشت گرد گروپ ہے اور یہ خیال ہے کہ یہ افراد یہاں دھماکو مادے تیار کرکے بنگلہد یش منتقل کرنا چاہتے تھے ۔ تحقیقاتی ایجنسی نے کہا کہ وہ جماعت المجاہدین بنگلہ دیش کی سرگرمیوں کا تمام پہلووں بشمول دہشت گردی کو فنڈنگ کے پہلو سے بھی جائزہ لے رہی ہے ۔ این آئی اے نے کہا کہ اوہ اس کیس کے مفرور ملزمین بشمول جماعت المجاہدین بنگلہ دیش کے ارکان کی گرفتاری میں معاون ہونے والی اطلاع کی فراہمی پر نقد انعام کے اعلان پر بھی غور کر رہی ہے ۔ این آئی اے کے سربراہ شرد کمار نے آج بردوان کا دورہ کیا اور انہوں نے دھماکہ کے مقام کا جائزہ لیا ۔ انہوں نے ایجنسی کی جانب سے اب تک کی گئی تحقیقات کا جائزہ بھی لیا ۔ انہوں نے اس مکان کا معائنہ کیا جہاں یہ دھماکہ ہوا تھا ۔

اس مکان کے کمروں اور چھت وغیرہ کا بھی انہوں نے جائزہ لیا ہے ۔ یہاں تقریبا نصف گھنٹہ گذارنے کے بعد وہ قریبی متھ پارا میں ایک اور مکان کا جائزہ لینے بھی گئے جہاں 40 عصری دستی بم دستیاب ہوئے تھے ۔ این آئی اے کے ڈائرکٹر جنرل نے اس مکان کا بھی معائنہ کیا جو اس دھماکہ کے مشتبہ دہشت گرد ملزم شکیل احمد نے مرشد آباد میں کرایہ پر حاصل کیا تھا ۔ شرد کمار نے ایک برقعہ گھر کا بھی دورہ کیا جو ایک برقعہ تیار کرنے کی یونٹ ہے تاہم شبہ ہے کہ شکیل احمد اس مقام کو دوسرے ملزمین سے ملاقات کیلئے استعمال کرتا تھا ۔ شرد کمار نے این آئی اے کے عہدیداروں کے ساتھ مفرور ملزمین کا پتہ چلانے اور انہیں گرفتار کرنے کی حکمت عملی پر غور کرنے کے علاوہ تحقیقاتی ٹیم کے عہدیداروں سے بھی بات چیت کی ۔ اس کے بعد انہوں نے کہا کہ مفرو ملزمین کو گرفتار کرنے حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے ۔ دو اکٹوبر کو ہوئے اس دھماکہ کی تحقیقات دو ہفتے قبل این آئی اے کے سپرد کردی گئی تھیں۔ شرد کمار نے کولکتہ واپسی کے بعد اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس کیس کی تحقیقات کا جائزہ لینے کولکتہ پہونچے تھے ۔

انہوں نے بردوان اور مرشد آباد کا دورہ کیا ہے ۔ عہدیداروں کے ساتھ تفصیلی بات چیت کی ہے اور مفرو ملزمین کی گرفتاری کو یقینی بنانے ایک حکمت عملی تیار کی گئی ہے ۔ وہ اس کیس میں مزید کچھ بھی نہیں کہہ سکتے کیونکہ اس سے تحقیقات متاثر ہوسکتی ہیں۔ این آئی اے کے عہدیداروں کو بردوان ضلع پولیس کے ستاھ ایک مکان سے عصری دھماکو مادے دستیاب ہوئے تھے ۔ یہ مکان رضا الکریم نامی شخص کا بتایا گیا ہے ۔ این آئی اے کی جانب سے تین افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جن میں مہلوک دہشت گرد شکیل احمد کی بیوہ کے بشمول دو خواتین بھی شامل ہیں۔ ان سے پوچھ تاچھ کی جا رہی ہے ۔ پولیس کو تحقیقات کے دوران ایک مدرسہ کی بھی تلاشی لینی پڑی تھی اور پولیس نے وہاں سے ایک کار بھی ضبط کی تھی ۔ مرکزی حکومت نے بنگال حکومت سے مشاورت کے بغیر یہ کیس این آئی اے کے سپرد کردیا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT