Wednesday , September 19 2018
Home / شہر کی خبریں / برسراقتدار ٹی آر ایس حکومت کی کارروائی سے کانگریس نہیں گھبرائے گی

برسراقتدار ٹی آر ایس حکومت کی کارروائی سے کانگریس نہیں گھبرائے گی

اپوزیشن کو گورنر کے خطبہ پر اعتراض کا بھی حق نہیں کیا، محمد علی شبیر کا استفسار
حیدرآباد ۔ 12 مارچ (سیاست نیوز) قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل محمد علی شبیر نے ایوان اسمبلی کو پولیس چھاؤنی میں تبدیل کرتے ہوئے گورنر سے خطبہ پڑھانے کانگریس کو احتجاج درج کرنے کی بھی اجازت نہ دینے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس پارٹی کارروائی سے ڈرنے گھبرانے والی نہیں ہے بلکہ عوامی مسائل کو بدستور اٹھاتے رہے گی۔ اسمبلی کے میڈیا پوائنٹ پر اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے محمد علی شبیر نے کہا کہ ریاستی وزیراسمبلی امور ہریش راؤ کے علاوہ ٹی آر ایس کے دوسرے وزراء اور ارکان اسمبلی کو ایوان اور گورنر کے احترام کے بارے میں بات کرنے کا بھی اخلاقی حق نہیں ہے کیونکہ اسی گورنر پر کانگریس کے دورحکومت میں موجودہ وزیر اسمبلی امور ہریش راؤ نے گورنر کا خطبہ پھاڑ کر پھینک تھا۔ تب ٹی آر ایس کو اسمبلی کا احترام یاد نہیں آیا۔ آج کانگریس کے خلاف الزامات عائد کئے جارہے ہیں۔ اگر ویڈیو کلپنگ کا جائزہ لینا ہے تو آج کے اور تب کے ویڈیو کلپنگ کا جائزہ لیں اور کارروائی کرنا ہے تو دونوں کے خلاف کارروائی کریں۔ کانگریس پارٹی دھمکیوں سے نہ ڈری ہے اور نہ ہی مستقبل میں ڈرے گی بلکہ عوامی مسائل پر اپنی جدوجہد کو جاری رکھے گی اور اپنا مدعا عوام کی اسمبلی میں رکھے گی۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ حکومت نے آج ایوان کا آغاز ہوتے ہی ہمارے اسمبلی میں پہنچنے سے قبل 200 پولیس ملازمین کو ایوان میں طلب کرلیا جو غیرجمہوری اقدام ہے۔ اسمبلی کے بھی قاعدے قانون ہوتے ہیں۔ اسمبلی میں نعرے لگانے اور پوڈیم کے قریب پہنچ کر احتجاج کرنے کی ارکان کو مکمل آزادی ہے۔ احتجاج کرنے والے ارکان اسمبلی کو معطل کرنے کی قرارداد منظور ہونے کے بعد ہی مارشلس کو ایوان میں طلب کیا جاتا ہے مگر حکومت نے روایت کو ہی تبدیل کرتے ہوئے پہلے سے پولیس کو طلب کرلیا۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ ٹی آر ایس کے ارکان پارلیمنٹ گذشتہ ایک ہفتہ سے پارلیمنٹ میں پوڈیم کے قریب پہنچ کر احتجاج کررہے ہیں وہی احتجاج ہم اسمبلی میں کررہے ہیں۔ ٹی آر ایس نے اپنے انتخابی منشور میں مسلمانوں اور قبائلوں کو 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے، بے گھر افراد کو ڈبل بیڈروم مکانات فراہم کرنے، کے جی تا پی جی مفت تعلیم اور دلتوں میں 3 ایکر اراضی تقسیم کرنے جیسے ڈھیر سارے وعدے کئے جس پر عمل آوری نہیں کی۔

TOPPOPULARRECENT