Saturday , December 15 2018

برسر اقتدار پارٹی اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان محاذ آرائی

ایک دوسرے کے انتخابی منشور کو اجاگر کرنے اور تنقید کا نشانہ بنانے کا فیصلہ
حیدرآباد ۔ 8 ۔ جنوری : ( ایجنسیز ) : مستقبل قریب میں عام انتخابات کے پیش نظر تلنگانہ ریاست میں سیاسی پارٹیاں ایک دوسرے کی مخالفت میں اپنے محاذ کو کھولنے کا منصوبہ تیار کیا ۔ ایک طرف اپوزیشن پارٹی کانگریس برسر اقتدار ٹی آر ایس پارٹی کو نشانہ اور تنقید کا نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کیا تو دوسری طرف برسر اقتدار پارٹی ماضی کی حکمرانی کے دوران عوامی مسائل کی یکسوئی میں ناکامیوں کو اجاگر کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ دونوں پارٹیاں سال 2004 تا 2009 کے انتخابات کے دوران انتخابی منشور پر کس حد تک عمل کیا گیا اس کا احاطہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اپوزیشن جماعتیں موجودہ حکومت کے دور میں ریت مافیا کی سرگرمیوں کے خلاف احتجاج اور دھرنا پروگرام کا منصوبہ بنانے کے علاوہ ایس سی طبقہ کے مسائل کی یکسوئی میں ناکامی کے ساتھ کسانوں کے مسائل کو نظر انداز کرنا جیسے مسائل کا احاطہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جب کہ برسر اقتدار پارٹی کے قائدین نے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کو اس بات کا مشورہ دے رہے ہیں کہ وہ اپوزیشن کے تنقیدوں کا مدلل جواب دینے کی منصوبہ بندی کو قطعیت دیں ۔ کانگریس پارٹی نے ہفتہ کو آرمور میں منعقدہ جلسہ عام میں اس بات کا اعلان کیا کہ وہ برسر اقتدار آنے پر کسانوں کی بھر پور مدد کرے گی اور فلاحی اقدامات پر توجہ دے گی ۔ اس کے جواب میں ٹی آر ایس پارٹی کے رکن کونسل بھانو پرساد نے ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کانگریس کے بیانات مضحکہ خیز قرار دیا اور اس طرح کے الزامات محض سستی شہرت اور ووٹ بینک کے لیے کرنے کا الزام عائد کیا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ کانگریس دور حکومت 2004 تا 2009 کے انتخابی منشور کے دوران وہ کس طرح کسانوں کے ساتھ وعدے کر کے مکر گئی اور دھوکہ دیا ہے جس کو وہ تمام ثبوت کے ساتھ اجاگر کریں گے ۔ انہوں نے اس بات کا دعویٰ کیا کہ چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر عوامی فلاحی اقدامات کے تحت کئی ایک اسکیمات کو متعارف کر کے سارے ملک میں سرفہرست درجہ حاصل کیا اور کسانوں کی بھلائی کے لیے بھی متعدد فیصلے کر کے انہیں فائدہ پہونچایا جارہا ہے ۔ ٹی آر ایس حکومت کسانوں کو 24 گھنٹے برقی سربراہ کرنے کا ایک نیا ریکارڈ قائم کیا ہے ۔ اس کے علاوہ ہر ایک زرعی خاندان کو سیزن کے اعتبار سے 4 ہزار روپئے دینے کا بھی فیصلہ کیا ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT