Sunday , November 19 2017
Home / مضامین / برسلز پر حملہ ، انسانیت کو تارتار کرنے کی کوشش

برسلز پر حملہ ، انسانیت کو تارتار کرنے کی کوشش

ظفر آغا
اُف اللہ رے یہ مسلمان! ابھی چند ماہ قبل پیرس کے جہادی حملوں نے یوروپ میں مسلمانوں اور اسلام کے خلاف جو نفرت کی آگ لگائی تھی وہ آگ پچھلے ہفتے برسلز کے دہشت گرد حملوں نے پھر بھڑکادی ۔ اس وقت پوری مغربی دنیا امریکہ سے لے کر یوروپ تک مسلمانوں کا نام سننا گوارا نہیں کررہی ہے ۔ اسلام ایک عام یوروپی کے لئے نعوذ باللہ نفرت کا مذہب بن گیا ہے ۔ مسلمانوں کے خلاف اس خطے میں نفرت کا یہ عالم ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ جیسا گھٹیا شخص مسلمانوں کے خلاف نفرت کا زہر اگل کر امریکہ کا اگلا صدر بننے کی کوشش پر ہے ۔ ایک معمولی یوروپ ایک باریش داڑھی والے کو دیکھ کر راستہ بدل دیتا ہے ۔ یہ اہل اسلام کی درگت ہے جس کا رب خود قرآن کے مطابق رب العالمین اور جس کے رسول رحمت العالمین ہیں ۔ وہ مذہب جو امن و آشتی کا پیغام لیکر آیا اس کے ماننے والے آج خود اپنے جسم پر بم باندھ کر ایرپورٹ اور میٹرو اسٹیشن پر بے گناہوں کی جان لے رہے ہیں ؟
آخر یہ کیسے مسلمان ہیں جو قرآن کے راستے سے ہٹ کر ابوبکر البغدادی اور اسامہ بن لادن کی نفرت کی سیاست پر عمل کررہے ہیں ۔ وہ اسامہ بن لادن ہوں یا ابوبکر البغدادی دونوں ہی نفرت کی کوکھ لینے والے ہیں ۔ اسامہ کو مغرب سے اس لئے نفرت تھی کہ امریکہ نے مسلمانوں کو سابق سوویت یونین کے خلاف استعمال کیا اور پھر اپنا مقصد حاصل ہونے کے بعد افغانی مسلمانوں جن کو وہ مجاہد کہتا تھا بے یار و مددگار چھوڑ دیا تھا ۔ پھر اسامہ کو اس بات پر بھی غصہ تھا کہ 1990 کی دہائی میں جب اس وقت کے عراقی صدر صدام حسین نے کویت پر حملہ کیا ۔ بس اس بات نے اسامہ کو امریکہ کے خلاف چراغ پا کردیا اور بس انہوں نے امریکہ سے بدلہ لینے کی ٹھان لی ۔ اسی نفرت اور بدلے کی آگ نے القاعدہ کو جنم دیا جس نے 9/11 کو امریکہ پر دہشت گرد حملہ انجام دیا بس اس دن سے نفرت اور بدلے کی آگ میں جھلستے مسلم نوجوان آج تک مغرب سے بدلا لینے کے لئے خودکش و دہشت گرد حملوں میں ان معصوم امریکیوں اور یوروپیوں کی جان لے رہے ہیں جن کا وہاں کی سیاست سے کچھ لینا دینا نہیں ہے ۔
یہی حال ابوبکر البغدادی کا ہے ۔ اس نفرت نے اسکے  دل میں امریکہ کے خلاف بدلے کی آگ اس دن سے جل رہی ہے جب سے امریکہ نے عراق پر حملہ کیا ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ عراق پر امریکی حملے میں لاکھوں معصوم عراقی مارے گئے ۔ عراق تہس نہس ہوگیا ۔ وہ عراق جہاں سنی و شیعہ ہمیشہ بھائی بھائی کی طرح رہے ، وہی عراق امریکی سیاست میں جھلس کر شیعہ و سنی فساد کا شکار ہوگیا ۔ صدام حسین کو جس طرح امریکیوں نے رسوا کرکے پھانسی کے پھندے پر چڑھایا اس نے تمام مسلمانوں میں غم و غصے کی لہر اور عراقیوں میں امریکہ سے بدلہ لینے کا جذبہ پیدا کردیا ۔ عراق پر امریکی حملے نے عراقیوں کے دلوں میں امریکہ اور مغرب کی سیاست کے خلاف جو نفرت اور بدلے کی آگ لگائی تھی اسی اگ نے ابوبکر البغدادی کو جنم دیا جس نے عراق اور شام کی سرزمین پر ایک نئی اسلامی خلافت کو جنم دیا جس سے متاثر ہو کر آج پیرس اور برسلز جیسی جگہوں پر خود ساختہ جہادی نفرت کا بازار گرم کررہے ہیں اور عراق پر ہونے والے مظالم کا بدلہ لے رہے ہیں ۔
لیکن کیا نفرت کی آگ میں جھلس کر بدلہ لینا اسلام ہے؟ ارے رسول کریم جب مکہ پہنچ گئے اور مکہ فتح ہونے والا تھا تو قریش مکہ نے حضرت محمدؐ سے دو سال کی پناہ مانگی ، تو رسول کریم مکہ فتح کرنے کے بجائے خاموشی سے مکہ سے واپس آگئے ۔ یہ  کون سا مکہ تھا ! وہی مکہ جس مکہ میں رسول پر اسلئے کوڑا پھینکا گیا کہ وہ لاالہ اللہ کا نعرہ بلند کرتے تھے ۔ اسی مکہ میں رسول کی جان لینے کی ایسی سازش ہوئی کہ رسول کو راتوں رات ہجرت کرنی پڑی ۔ ایک عام شخص کے دل میں ایسے مکہ کے لئے کتنی نفرت ہوتی ۔ لیکن پیغمبر اسلامؐ کی فوجیں جب دو سال بعد مکہ میں داخل ہوئیں تو اس حکم کے ساتھ کہ خبردار اللہ کے گھر اور شہر میں کسی معصوم کا خون نہ بہنے پائے ۔ حد یہ کہ جب فتح مکہ ہوگئی تو ابوجہل اور ہندا کو جنہوں نے رسولؐ کو سب سے زیادہ اذیت دی تھی رسول نے ان کو بھی نہ صرف معاف کردیا بلکہ داخل اسلام بھی کرلیا ۔ یہ تھی سنت رسول جس میں نفرت اور بدلے کی کوئی گنجائش ہی نہیں ہے ۔ آج کا مسلمان اس سنت رسول کو ترک کرکے رحمت کے بجائے سنت اسامہ اور سنت البغدادی پر عمل کرکے دحشت پھیلارہا ہے ۔ ظاہر ہے کہ ان حالات میں یوروپ اور امریکہ کیا دنیا بھر میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کا سمندر ابل پڑے گا ۔

افسوس یہ ہے کہ اس وقت نہ جانے کتنے مدرسے اور کتنی مساجد اسامہ اور البغدادی کی نفرت کی سنت کی تلقین کررہے ہیں ۔ اور تو اور جدید انٹرنیٹ اور ٹی وی کی ٹکنالوجی عام مسلمان کی فلاح اور ترقی کے لئے نہیں استعمال ہورہی ہے ۔ بلکہ اسکا استعمال نفرت کا پیغام پھیلانے کے لئے ہورہا ہے اور ان دنوں جدید ٹکنالوجی کے ذریعہ مبلغ اسلام مغرب کے خلاف نفرت کا بازار گرم کررہے ہیں جن کے نفرت آمیز تقاریر اور خطبے سن کر نوجوان برسلز جیسے شہروں کو دہشت کا اڈہ بنارہے ہیں ۔ بے شک امریکہ اور یوروپ نے مسلمانوں کے ساتھ پچھلی دو تین صدیوں سے دشمنی کی ہے ۔ 1857 میں ہندوستان میں مغل سلطنت  کو کچلنے سے لے کر ترکی خلافت کے زوال ، فلسطین کی تباہی اور حال میں افغانستان اور عراق پر ہونے والے حملے تک ہر جگہ مسلمانوں کی تباہی و بربادی کے پیچھے یوروپ اور امریکہ رہا ہے ۔ لیکن اس مسلم زوال کی داستان میں خود مسلمانوں کی ذمہ داری کم نہیں ہے ۔ ہر مسلم شکست کے پیچھے ایک میر قاسم اور میر جعفر نظر آتا ہے ۔ پھر یوروپ نے جب سائنس کے ذریعہ انڈسٹریل انقلاب اور جمہوریت جیسے نئے سیاسی ادارے اور نئی معیشت کو جنم دیا تو مسلمان یوروپ کی ہر ترقی کو غیر اسلامی سمجھ کر اس سے منہ موڑ لیا ۔ یوروپ نے اپنی سرزمین پر شاہی اور زمیندارانہ نظام کے خلاف جنگ لڑ کر تقریباً 250 برس قبل جو جمہوریت کی جنگ جیت کر اپنے یہاں ترقی کے نئے راستے کھول لئے ، مسلمان آج بھی وہ جنگ اپنے ممالک میں نہیں جیت سکا ہے ۔ ہم مسلمان سائنس کے کسی میدان میں ایک نوبل لاریٹ نہیں پیدا کرپائے ہیں ۔ جدید دنیا کے ہر میدان میں مسلمان اس وقت سب سے پیچھے ہیں ۔ اور یہ حال اس مسلمان کا ہے جس کے مذہب کی بنیاد اور تلقین دونوں عالم یعنی اس دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی اور ترقی کی ہے۔

لیکن آج کے مسلمان نے اس دنیا کو اپنی غلطیوں سے جہنم بنالیا ہے ۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اب وہ ناکامی اور ناامیدی کی اس منزل پر پہنچ گیا ہے جہاں وہ خود نفرت کی آگ میں جل رہا ہے اور اس نفرت کے جذبہ نے اس کے دلوں میں اب بدلے کی آگ لگادی ہے جو کبھی پیرس اور کبھی برسلز کو جھلسادیتی ہے ۔ لیکن اس جاہل جہادی کو یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ نفرت محض نفرت پیدا کرتی ہے جو تمام مسلمانوں کے خلاف اب یوروپ و امریکہ ہی نہیں ساری دنیا میں پھیلتی جارہی ہے ۔ عالم اسلام کو اس نفرت سے اوپر اٹھ کر اور اسامہ اور البغدادی کی دہشت چھوڑ کر سنت رسول کی کرامت کو پھر سے گلے لگانا ہوگا ۔ اس میں مسلمان اور دنیا دونوں کی عاقبت ہے ۔ اگر اگر مسلمان سنت دہشت پر چلتا رہا تو خود بھی برباد ہوگا اور دنیا بھی جہنم ہوجائے گی ۔ اس لئے خدارا اب مدرسوں اور مساجد کو واپس مسلمان کو سنت رسولؐ کی طرف لے جانے کا کام کرنا چاہئے اور نفرت کا پیغام بند کرنا چاہئے ۔

TOPPOPULARRECENT