Tuesday , November 21 2017
Home / Top Stories / برطانوی اتھلیٹ محمد فرح کو دوڑ میں 2 گولڈ میڈلس

برطانوی اتھلیٹ محمد فرح کو دوڑ میں 2 گولڈ میڈلس

جنوبی افریقہ کی کاسٹر سمینیا نے ملک کو پہلا گولڈ میڈل دلایا ، ویٹز نے 1908 ء کے بعد امریکہ کو کامیابی دلائی
ریوڈی جنیرو ۔ 21اگسٹ ۔(سیاست ڈاٹ کام) برطانیہ کے محمد فرح نے اپنے دونوں پیر تھکن سے چور ہونے کے باوجود تیز دوڑ کے فائنل مقابلہ میں غیرمعمولی مظاہرہ کیا اور 40 سال میں ایسے پہلے برطانوی اتھلیٹ بن گئے جنھیں دو مقابلوں میں بھی گولڈ میڈل حاصل ہوئے ہیں۔ 33 سالہ فرح نے گزشتہ ہفتہ 10,000 میٹرس کی دوڑ میں گولڈ میڈل جیتا تھا اور ہفتہ کی شب انھوں نے 5,000 میٹرس کی دوڑ بھی جیت لی۔ فرح نے 5,000 میٹرس کی د وڑ 13 منٹ 3.30 سکنڈس میں جیتی اور فن لینڈ کے لیس ویرن کی برابری کرلی جنھوں نے 1976 ء میں دونوں مقابلوں میں اولمپکس گولڈ میڈلس جیتے تھے ۔ فرح نے کہا انھیں خود پر یقین نہیں ہورہا ہے یہ ہر اتھلیٹ کا خواب ہوتا ہے لیکن ان کے لئے ناقابل یقین ہے ۔ 10,000 میٹرس کی دوڑ کے بعد میرے پیر جواب دے چکے تھے ۔ لوگ میرے کمرہ میں غذا پہنچارہے تھے ۔ انھوں نے جملہ چار میڈلس حاصل کئے اوریہ ان کے لئے غیرمعمولی واقعہ ہیں۔ جنوبی افریقہ کی کاسٹر سمینیا نے 800 میٹرس ویمنس دوڑ مقابلوں میں کامیابی حاصل کرتے ہوئے ملک کو پہلا اولمپک گولڈ میڈل دلایا۔ 25 سالہ سیمینا جنھیں 2012 ء میں سلور میڈل حاصل ہوا تھا ، 1.55.28 وقت میں یہ دوڑ پوڑی کی ۔ برونڈی کی فرینکائن نیون صبا کو 1.56.49 وقت میں دوڑ پوری کرنے پر سلور اور کینیا کی مارگریٹ ومبوئی کو برونز میڈل ملا جنھوں نے 1.56.89 میں یہ دوڑ پوری کی ۔ سیمینا گزشتہ کئی سال سے تنازعات میں گھری رہی تھی ۔ اُن کی صحت کی وجہ سے کئی مسائل کھڑے ہوئے ۔ اس کے باوجود اُنھوں نے اس مقابلے میں شاندار مظاہرہ کیا ۔

سب سے پہلے 2009 ء میں انھوں نے برلن میں منعقدہ ورلڈ چمپیئن شپ میں گولڈ میڈل حاصل کیا تھا ، لیکن اُن کی جسمانی ساخت کے بارے میں شبہات ظاہر کئے گئے اور اُس وقت سیمینا کی عمر 18 سال تھی ۔ کافی تنازعات کے بعد آخرکار انھیں طبی معائنہ کا حکم دیا گیا جس کے ذریعہ یہ پتہ چل سکے کہ وہ خاتون ہیں۔ حریف اتھلیٹس اور کوچس کی شکایات کے بعد آخرکار ورلڈ اتھلیٹکس سربراہان نے 2011 ء میں جسم میں پائے جانے والے بعض مادوں ٹیسٹو اسٹرون کی سطح پر تحدیدات عائد کی تھیں۔ سیمینا نے 2012 ء اولمپکس میں سلور میڈل حاصل کیا تھا ۔ روسی اتھلیٹ ماریا سوینوا نے گولڈ میڈل حاصل کیا لیکن بعد میں منشیات کا انکشاف کیا گیا تھا ۔ عدالت نے گزشتہ سال انٹرنیشنل اسوسی ایشن آف فیڈریشن کی تحدیدات کو غیرقانونی قرار دیا جس کے بعد سیمینا کیلئے موجودہ حالت میں ہی مقابلے میں حصہ لینا آسان ہوگیا ۔ ہفتہ کو ہوئے ریو اولمپک مقابلے میں اُس نے بہ آسانی دوڑ پوری کرلی ۔ میتھیو سینٹرو ویٹز نے 1500 میٹر کی دوڑ میںغیرمعمولی مظاہرہ کرتے ہوئے امریکہ کو 1908 ء کے بعد اس زمرے میں پہلا گولڈ میڈل دلایا۔ چار سال قبل لندن گیمس میں وہ چوتھے نمبر پر تھے اور دو مرتبہ انھوں نے عالمی چمپیئن شپ جیتی ۔ ویٹز نے 3.50.00 وقت میں یہ دوڑ پوری کی ۔ الجییرہ کے دفاعی چمپیئن توفیق مخلوفی نے 3.50.11 منٹ کے ساتھ دوسرے مقام پر رہے اور سلور میڈل حاصل کیا جبکہ نیوزی لینڈ کے نکلولاس ویلیس نے 3.50.24 میں دوڑ پوری کرتے ہوئے برونز میڈل حاصل کیا ۔ 1908 لندن گیمس میں مل شیفرڈ 1500 میٹر کی دوڑ میں امریکہ کو کامیابی دلانے والے آخری اتھلیٹ تھے۔ اس کے بعد ویٹز نے ریو اولمپکس میں ملک کو گولڈ میڈل دلایا ۔

TOPPOPULARRECENT