Saturday , December 15 2018

برطانوی اسکول بچوں کیلئے روزوں و حجاب پر امتناع کا خواہاں

والدین کی ناراضگی سے بچنے حکومت سے سخت موقف اختیار کرنے کی خواہش
لندن 14 جنوری ( سیاست ڈاٹ کام ) برطانیہ میں سرکاری فنڈنگ سے چلنے والے ایک بڑے اسکول نے حکومت سے کہا ہے کہ وہ بچوں کے حجاب استعمال کرنے اور رمضان میں روزہ رکھنے کے خلاف سخت موقف اختیار کرے ۔ سینٹ اسٹیفنس اسکول نیو ہیم ایسٹ لندن ‘ ملک میں وہ پہلا اسکول بن گیا تھا جب اس نے 2016 میں آٹھ سال سے کم عمر کی لڑکیوں کیلئے حجاب پر امتناع عائد کیا تھا ۔ وہ اب ستمبر 2018 سے 11 سال سے کم عمر کی لڑکیوں کیلئے حجاب پر امتناع کا منصوبہ رکھتا ہے ۔ اس اسکول میں رمضان میں روزہ رکھنے کے تعلق سے بھی سخت قوانین ہیں۔ اس اسکول میں ہندوستانی ‘ پاکستانی اور بنگلہ دیشی پس منظر سے تعلق رکھنے والے طلبا کی اکثریت ہے اور اس کی سربراہ ہندوستانی نژاد پرنسپل نینا لال ہیں۔ یہ اسکول چاہتا ہے کہ حکومت برطانیہ کی جانب سے والدین کی ناراضگی کے ازالہ کیلئے واضح رہنما خطوط جاری کئے جائیں۔ اسٹیفنس اسکول کے صدر نشین گورنرس عارف قوی نے کہا کہ ان کا محکمہ چاہتا ہے کہ حکومت اس معاملہ کو اسکول انتظامیہ کے ہاتھ سے لے لے اورہر اسکول پر واضح کردے کہ روزے کس طرح ہونے چاہئیں اور یہی کام حجاب کے معاملہ میں بھی ہونا چاہئے ۔ ایسا فیصلہ ہمارا نہیں ہونا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ ٹیچرس کو ایسے فیصلے کرنے پر مجبور کرنا غیر واجبی ہوگا اور گورنرس کیلئے اور بھی غیر واجبی ہوگا کیونکہ انہیں کوئی تنخواہ نہیں ملتی ۔ جب تنخواہ نہیں ملتی تو انہیں اولیائے طلبا کی ناراضگی بھی نہیں مول لینی چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ کچھ خاندانوں کی جانب سے اسکول کے منصوبوں پر تنقید کے باوجود کچھ والدین روزوں کے تعلق سے اسکول کے موقف سے خوش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے روزوں پر مکمل امتناع عائد نہیں کیا ہے لیکن ہم چاہتے ہیں کہ بچے تعطیلات میں اور ہفتہ کے ختم پر روزے رکھیں اور اسکول کیمپس میں نہ رکھیں۔ ہم ان کی صحت اور تحفظ کے ذمہ دار ہیں اور اگر یہ لوگ کیمپس میں متاثر ہوجاتے ہیں تو یہ ہمارے لئے ٹھیک نہیں ہوگا ۔ عارف قوی نے برطانیہ میں کئی مسلم علما پر زور دیا تھا کہ وہ یہ اعلان کریں کہ روزے رکھنے کی عمر بلوغت سے شروع ہوتی ہے ۔ سنٹ اسٹیفنس اسکول کو انگلینڈ میں اسکولس گائیڈ 2018 میں سب سے بہترین اسکول قرار دیا گیا تھا ۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT