Saturday , November 18 2017
Home / اداریہ / برطانوی معلق پارلیمنٹ

برطانوی معلق پارلیمنٹ

پہلے ہی سے کچھ کم نہ تھی حالات کی یورش
اب ان کی عنائت نئی یلغار کرے ہے
برطانوی معلق پارلیمنٹ
برطانیہ کے معلق پارلیمانی نتائج کے باوجود وزیراعظم تھریسامے نے حکومت سازی کا اعلان کرکے 2016ء کے یوروپی یونین سے علحدگی کیلئے برطانیہ کے فیصلہ کے بعد رونما ہونے والے حالات کا سامنا کرنے خود کو پرعزم ظاہر کیا ہے۔ برطانیہ کی 650 نشستی پارلیمنٹ کیلئے کنزرویٹو پارٹی کو 318 پر کامیابی ملی جبکہ اسے سادہ اکثریت کیلئے 8 ارکان کی ضرورت تھی۔ انتخابات میں لیبر پارٹی کو فائدہ ہوا، جس نے 261 نشستیں حاصل کی ہیں اور اسے 2015ء کے انتخابات کے مقابل 29 نشستوں کا اضافہ ہوا۔ چھوٹی پارٹیوں جیسے لبرل ڈیموکریٹس اور ڈیموکریٹک یونیسٹ پارٹی کو علی الترتیب 12 اور 10 پر کامیابی ملی ہے۔ وزیراعظم تھریسامے ان چھوٹی پارٹیوں کی تائید سے حکومت بنانے کوشاں ہیں۔ صرف دو سال کے اندر برطانوی عوام کو 3 بار پولنگ بوتھس کے سامنے قطار لگانے کا تجربہ ہوا ہے۔ اس مرتبہ انہیں ڈرامائی انتخابی نتائج دیکھنے کو ملے ہیں۔ برطانیہ میں اس وقت استحکام لانے پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت محسوس کی جارہی ہے۔ حکمراں پارٹی کا ساتھ دینے کا ارادہ رکھنے والی چھوٹی پارٹیوں نے برطانیہ اور شمالی آئرلینڈ کے مفادات کے بارے میں اپنی فکر کو ظاہر کیا ہے تو وزیراعظم تھریسامے کو اپنی حکومت سازی کی راہ ہموار ہوگی۔ لیبر پارٹی بھی اس معلق یا منقسم عوامی رائے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حکومت بنانے کا ادعا کرسکتی ہے۔ یوروپی یونین سے علحدگی کے فیصلہ کے بعد برطانیہ میں سیاسی حالات کا رخ متواتر بدلتا دیکھا جاچکا ہے۔ کسی بھی ملک کے انتخابات میں عوامی مسائل اور سرکاری منصوبوں کو اہمیت دی جاتی ہے۔ برطانیہ میں بھی ماضی کے دور میں برقی شرحوں، ریل، پانی اور انکم ٹیکس میں اضافہ یا اقل ترین اجرت کی حد میں اضافہ جیسے موضوعات پر انتخابی مقابلہ ہوتا تھا۔ معاشی مسائل پر غوروخوض ہی انتخابی مہم کا اہم حصہ ہوتا لیکن برطانیہ کی سیاسی پارٹیوں اور میڈیا دونوں نے اس اہم معاشی موضوع کو ہی کنارہ کش کردیا تھا۔ نتیجہ میں عوام کی رائے منقسم ہوئی اور ایک معلق پارلیمنٹ وجود میں آئی۔ کیا ایک معلق پارلیمنٹ یا اکثریت سے محرومی کے باوجود وزیراعظم تھریسامے اپنی حکومت سازی کے ذریعہ برطانوی عوام کے توقعات کو پورا کرسکیں گی۔ یہ آنے والے دنوں میں ان کی پالیسیوں سے واضح ہوگا اور یوروپی یونین سے علحدگی کے مسئلہ پر آئندہ چند دنوں میں شروع ہونے والے مذاکرات میں نئی حکومت کا موقف کیا ہوگا یہ بھی برطانوی عوام کیلئے قابل توجہ ہوگا۔ یوروپی یونین سے علحدگی سے برطانیہ پر جو ضرب لگی ہے اس زخم یا درد سے باہر آنے کیلئے ایک پُرعزم مساعی کی ضرورت ہوگی۔ برطانیہ نے اپنی تاریخ میں کرنے والی غلطیوں میں یوروپی یونین سے علحدگی کا فیصلہ بھی شامل ہے۔ وزیراعظم تھریسامے نے 10 ڈاوننگ اسٹریٹ لندن میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اپنے مستقبل کے منصوبوں کا اعلان کیا۔ ایک اقلیتی حکومت کی عمر ہی کتنی ہوتی ہے۔ ایسی حکومت سے بڑی توقعات وابستہ بھی نہیں کی جاسکتی۔ یوروپی یونین سے علحدگی کے بعد اس موضوع پر اصل بحث کا جائزہ لینے سے گریز کرنے کا نتیجہ یہی نکلا کہ اب بریگزٹ کو مشکل سمجھا جائے یا آسان یہ ابھی طئے ہی نہیں ہوسکا۔ برطانیہ کی اقلیتی حکومت کئی ایک موضوعات پر خود کو سمجھوتہ کے موقف میں پھانسا یا جکڑا ہوا پائے گی۔ لہٰذا برطانیہ کو اب ایک تیز دماغ والے حکمراں کی ضرورت لاحق ہوگئی ہے۔ مسز تھریسامے کی کنزرویٹیو پارٹی جب اکثریت سے محروم ہوچکی ہے تو لیبر پارٹی کو بھی تشکیل حکومت کا دعویٰ پیش کرنے کا حق ہے کیونکہ اس نے انتخابی مہم میں عوام سے وعدے کئے تھے کہ وہ برطانوی عوام کی صحت اور سماجی بہبود پر خاص توجہ دے گی اور مفت تعلیم کو ترجیح دی جائے گی۔ اسی لئے لیبر پارٹی کو سابق کے برعکس 29 نشستیں زائد پر کامیابی ملی ہے۔ یوروپی یونین سے علحدگی کے مسئلہ پر لیبر پارٹی کو بھی غوروخوض کرنا ہے کیونکہ اس وقت برطانوی حکومت کا موقف بہت کمزور ہوچکا ہے اور یوروپی یونین کے ہاتھ پہلے سے زیادہ مضبوط ہوئے ہیں۔
آدھار کارڈ اور پیان
مودی حکومت میں کالادھن اور رشوت جیسے موضوعات کو خاص اہمیت دیئے جانے کے باوجود ان دونوں پر قابو پایا نہیں جاسکا البتہ عوام کو پریشان کرنے والی شرائط عائد کی جانے لگیں۔ ایسی ہی ایک شرط یعنی آدھار کارڈ کو پیان کارڈ سے مربوط کرنے کے مسئلہ پر سپریم کورٹ نے اپنی رائے دی ہے کہ انکم ٹیکس میں آدھار کو متعارف کرانا رشوت ستانی اور کالے دھن جیسی لعنتوں سے نمٹنے کیلئے کئے جانے والے اقدامات میں سے ایک ہے لیکن حکومت پیان کی افادیت کو نظرانداز کرکے عوام کو اپنا انکم ٹیکس ریٹرن داخل کرنے سے روک دے گی تو اس سے کئی سنگینیاں پیدا ہوں گی۔ جن لوگوں کے پاس آدھار ہے وہ اپنا نمبر پیان سے مربوط کرسکتے ہیں اور جنہوں نے آدھار کیلئے اپنا نام اندراج کردیا ہے وہ اپنی انکم ظاہر کرتے ہوئے ٹیکس ریٹرنس داخل کرسکتے ہیں۔ آدھار ایک عصری اور جدید انفراسٹرکچر سے تیار کردہ ہے اسی لئے حکومت نے آدھار کے ذریعہ عوام کی سلامتی اور خوشحالی کو یقینی بنانے کا ارادہ کیا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ ایسی اسکیمات کو رضاکارانہ اختیار دیا جانا چاہئے۔ اسے لازمی قرار دینے سے عوام کو مشکلات کا شکار ہونا پڑے گا۔ پیان۔ آدھار منسلک کرنے کو لازمی بنانے سے حکومت کو بدعنوانیوں پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ بہرحال اس موضوع پر سپریم کورٹ نے جو ہدایت دی ہے تو پارلیمنٹ کو ایک ایسا قانون بنانے کا اختیار ہے جو عوام الناس کیلئے راحت کا باعث ہو۔ فی الحال آدھار اور پیان کارڈ کیلئے اس وقت لزوم نہیں ہے تاوقتیکہ سپریم کورٹ یہ فیصلہ کرے کہ دستور کے تحت آزادی کے حق سے استفادہ کرنے کا ہر شہری کا حق ہے لیکن آدھار کی افادیت سے سپریم کورٹ بنچ نے بھی انکار نہیں کیا ہے۔

 

TOPPOPULARRECENT