Tuesday , January 16 2018
Home / شہر کی خبریں / برطانیہ میں حیدرآبادی اثاثہ جات پر پاکستان کو ایک اور ہتک کا سامنا

برطانیہ میں حیدرآبادی اثاثہ جات پر پاکستان کو ایک اور ہتک کا سامنا

نظام کی دولت کو ہندوستان واپس لانے کی راہ ہموار، حکومت تلنگانہ وارث، اثاثوں سے خطہ کی بے مثال ترقی ممکن

نظام کی دولت کو ہندوستان واپس لانے کی راہ ہموار، حکومت تلنگانہ وارث، اثاثوں سے خطہ کی بے مثال ترقی ممکن

حیدرآباد 22 مارچ (سیاست نیوز) برطانیہ میں موجود حیدرآباد کے اثاثہ جات کے مقدمہ میں پاکستان کو برطانیہ کی عدالت میں ایک اور ہتک اُٹھانی پڑی۔ گزشتہ دنوں لندن ہائی کورٹ نے اس مقدمہ میں جوکہ سہ فریقی تھا اس سے پاکستان کے ادعا کو خارج کرتے ہوئے اس کو دو فریقین کے درمیان برقرار رکھا تھا۔ لندن ہائی کورٹ نے گزشتہ یوم 67 سالہ قدیم اس مقدمہ میں ایک اور فیصلہ صادر کرتے ہوئے پاکستان کو حکم دیا ہے کہ وہ قانونی رسہ کشی کی فیس کے طور پر ہندوستان کو ایک لاکھ 50 ہزار پاؤنڈس ادا کرے۔ پاکستانی ہائی کمشنر لندن کو دیئے گئے احکامات میں لندن کی عدالت نے مقدمہ کے اخراجات ہندوستان کو ادا کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔ برطانیہ کی ویسٹ منسٹر بینک میں جمع اس رقم کے معاملہ میں گزشتہ 67 برسوں سے عدالت میں مقدمہ زیردوران ہے اور اس مقدمہ میں نظام کے ورثہ کی حیثیت سے آصف ثامن نواب میر برکت علی خان مکرم جاہ بہادر اور نواب میر کرامت علی خان مفخم جاہ بہادر نے بھی اس دولت پر اپنے ادعا پیش کئے ہیں۔ اسی طرح حکومت ہند ویسٹ منسٹر بینک میں جمع تقریباً 35 لاکھ پاؤنڈس کے حصول کے لئے قانونی کارروائی کا حصہ بنی ہوئی ہے اور حکومت کا استدلال ہے کہ ریاست حیدرآباد دکن کے ہندوستان میں انضمام سے یہ دولت ہندوستان کی سرکاری دولت ہوجاتی ہے۔ اس رسہ کشی میں پاکستان نے بھی اس دولت پر اپنا ادعا پیش کیا تھا لیکن گزشتہ دنوں لندن ہائی کورٹ نے اس ادعا کو مسترد کرتے ہوئے یہ حکم دیا کہ وہ اس دولت پر اپنا حق جتانے کا اختیار نہیں رکھتا۔ ان احکامات کے فوری بعد جاری کئے گئے احکامات میں عدالت نے پاکستان کو مقدمہ کے اخراجات ادا کرنے کی ہدایت جاری کرتے ہوئے ہندوستان کے موقف کو مستحکم کردیا ہے۔ برطانیہ میں موجود نظام حیدرآباد کی دولت کے حصول کے لئے سابقہ حکومت نے عدالت کے باہر تصفیہ کی راہ پر بھی غور کیا تھا اور اس سلسلہ میں پاکستان و نظام کے ورثاء سے مشاورت کے لئے کابینہ کی منظوری بھی حاصل کی گئی تھی لیکن اس میں کوئی پیشرفت نہیں ہوئی لیکن حکومت ہند کا موقف اب مزید مستحکم ہوچکا ہے اور حکومت اس مستحکم موقف کے ذریعہ برطانیہ میں موجود نظام کی اس دولت کو قانونی طور پر ملک واپس لانے کی راہ ہموار کرسکتی ہے۔ حکومت ہند کو اگر یہ 35 لاکھ پاؤنڈ حاصل ہوتے ہیں تو ایسی صورت میں ریاست تلنگانہ اس دولت پر اپنا ادعا پیش کرسکتی ہے چونکہ نظام دکن کی ریاست میں حکمرانی کی اب وارث تلنگانہ حکومت ہی ہے اور حکومت تلنگانہ نظام دکن کی دولت کو حکومت ہند سے حاصل کرتے ہوئے ریاست کی ترقی میں اس کو خرچ کرسکتی ہے۔ برطانیہ میں جمع اس دولت کے تنازعہ میں آصف سابع نواب میر عثمان علی خاں کے ورثاء کے علاوہ حکومت ہند اور پاکستان فریق تھے اور اب پاکستان کے ادعا کو خارج کردیئے جانے کے بعد صرف خاندان آصفیہ کے ورثاء اور حکومت ہند کے درمیان یہ معاملہ رہ گیا ہے۔ اس معاملہ کو حل کرتے ہوئے باہمی رضامندی کے ساتھ برطانیہ میں موجود دولت کو ہندوستان واپس لانے کی راہیں بھی ہموار ہوسکتی ہیں۔ باوثوق ذرائع کے بموجب نظام کے ورثاء لندن کی عدالت کے اس فیصلہ کے بعد مستقبل کی حکمت عملی تیار کرنے میں مصروف ہوچکے ہیں۔ جبکہ حکومت ہند فیصلہ کا جائزہ لینے کے بعد ہی کوئی نتیجہ اخذ کرے گی۔ چونکہ یہ معاملہ بیرون ملک عدالت میں دو ممالک کے درمیان جاری مقدمہ کا ہے اور اس مقدمہ میں ہندوستانی ورثاء بھی فریق ہیں۔

TOPPOPULARRECENT