Sunday , April 22 2018
Home / Top Stories / برطانیہ میں 1.5 ملین ہندوستانیوں کا ملک کی ترقی میں اہم کردار

برطانیہ میں 1.5 ملین ہندوستانیوں کا ملک کی ترقی میں اہم کردار

سائبر سیکوریٹی رابطہ کو وسیع تر کرنے میں کوئی رکاوٹ نہیں
باہمی اور عالمی تعلقات کا جائزہ اندیشوں کی بجائے امکانات کو سامنے رکھ کر لیا جائے
آئندہ ماہ دولت مشترکہ کانفرنس سے قبل برطانیہ کے تاثرات

لندن 27 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) برطانیہ میں 1.5 ملین ہندستانی جہاں ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں وہیں، برطانیہ بھی ہندستان میں G-20 ملکوں میں سب سے بڑا سرمایہ کار ہے ۔ یہاں جنوب ایشیائی محکمے کے سربراہ فرگس اولڈ اور ایشیائی، پیسفک اور باہمی امور کے وزیر مملکت مارک فیلڈ نے آئندہ ماہ کے شروع میں دولت مشترکہ کانفرنس سے قبل اس کی تیاریوں کے رخ پر ہندستانی صحافیوں سے بات چیت میں کہا کہ ہند برطانیہ باہمی اشتراک عمل کا دائرہ جاریہ دہائی میں تجارتی، تعلیمی اور ادارہ جاتی رابطوں کے محاذ پر وسیع تر ہوا ہے ۔اس تمہید کے ساتھ کہ مشترکہ اقدار کی بنیاد پر دونوں ملکوں کے ایک ہمہ جہت رشتے کو کثیر جہت بنانے میں ہندستانی وزیر اعظم نریندر مودی کے دورہ برطانیہ کا اہم کردار رہا مسٹر فرگس نے دولت مشترکہ کے ڈھانچے میں ہند برطانیہ تعلقات کی باہمی پہچان کو نمایاں کرنے کی کوشش کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ “ہم درپیش چیلنجوں کا مل کر مقابلہ کر رہے ہیں”۔مسٹر مارک فیلڈ نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ سائبر سیکورٹی کو کسی رکاوٹ کی شکل میں نہیں دیکھا جانا چاہئے یہ رابطے کو صحتمند طریقے سے وسیع کرنے میں معاونت کرتی ہے اور اس کا ایک مقصد معیشت کو نقصان سے بچانا ہے جو انسانی وسائل کے مجموعی فروغ کے ڈھانچے کو قائم رکھنے میں ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کرتی ہے ۔ایک دوسرے سوال کے جواب میں ان برطانوی ذمہ داروں نے کہا کہ ہند برطانیہ تجارتی توازن بھی بدل رہاہے ۔ 30 فیصد ہندستانی سرمایہ کاری کا دائرہ بھی وسیع تر ہوا ہے اور اس کا رخ ہمہ جہتی ہے جس سے دولت مشترکہ کے دوسرے ارکان کو بھی تحریک ملے گی۔مسٹر فرگس نے نقص امن کے حوالے سے کہا کہ وقت آگیا ہے کہ اب باہمی اور عالمی تعلقات کا جائزہ اندیشوں کے بجائے امکانات کو سامنے رکھ کر لیا جائے ۔ دولت مشترکہ کے بڑے جمہوری ممالک کے طور پر ہندستان اور برطانیہ اس محاذ پر سرگرم اشتراک کر رہے ہیں جس میں ویزا اور مائیگریشن ریلیشن شپ کو بامعنی بنایا جارہا ہے اور یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ ہندوستانی شہری برطانوی پروفیشنل ویزا سے موثر استفادہ کر رہے ہیں اور برطانوی کمپنیوں نے بھی سرزمین ہند پر روزگار کے مواقع وسیع کئے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT