برطانیہ کی مشہور مسجد کو منہدم کرنے کا فیصلہ

لندن ۔ 9 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) مشرقی لندن میں واقع مسجد ’ ابے ملز‘ جو ’ مسجد الیاس‘ کے نام سے بھی جانی جاتی ہے،کو یوروپ کی سب سے بڑی مسجد بنانے کی منصوبہ بندی کی گئی۔ تاہم اب اسے انہدام کا سامناہے۔ منگل کو برطانیہ کی سپریم کورٹ نے مسجد کو مہندم کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔ اسکی وجہہ یہ ہیکہ جس زمین پر مسجد کی تعمیر کی گئی ہے وہ بلدیہ کے مطابق کسی اور مقصد کیلئے مخصوص تھی۔مشرقی لندن کے علاقہ اسٹرفورڈ میں واقع اس مسجد میں ہفتہ وار نمازیوں کی اوسط تعداد دوہزار کے قریب ہے۔ اسکی تعمیر ایک عارضی اسلامی مرکز کے طو رپر جس اراضی پر ہوئی اسے 1992میں تبلیغی جماعت سے وابستہ کارکنا ن نے خریدا تھا۔اس سے قبل یہاں ایک کمیکل فیکٹری قائم تھی۔ مسجد کے انہدام کے تعلق سے عدالتی حکم کی خبر کو متعد د مقامی ذرائع ابلاغ نے شائع کیا۔ ان میں’ دی ٹائمز‘ اخبار نے بتایا کہ تبلیغی جماعت نے مسجد کی تعمیرکے وقت ہی اسکی توسیع کی منصوبہ بندی کرلی تھی تاکہ یہاں ہزاروں افراد نماز ادا کرسکیں۔ آخر کار برطانیہ کی سپریم کورٹ نے مسجد کے انہدام کا فیصلہ جاری کیااور اس پر عمل درآمد کا اختیار بلدیاتی کونسل کو مل گیا۔

TOPPOPULARRECENT