Saturday , November 18 2017
Home / دنیا / برطانیہ کی یمن آپریشن میں سعودی فوج کی معاونت

برطانیہ کی یمن آپریشن میں سعودی فوج کی معاونت

لندن ۔ 14 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) برطانوی وزیرخارجہ فیلپ ہمونڈ نے انکشاف کیا ہے کہ ان کی مسلح افواج یمن میں باغیوں کے خلاف جاری آپریشن میں سعودی عرب کے ساتھ مکمل تعاون کر رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ برطانوی فوجی یمن میں اہداف کی تعین میں سعودی فورسز کی مدد کر رہے ہیں۔ برطانوی وزیرخارجہ نے دارالعوام کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یمن میں سعودی عرب کی قیادت میں جاری آپریشن میں اتحادی ممالک کے ساتھ معاونت عالمی بین الاقوامی انسانی حقوق اور عالمی قوانین کی رو سے درست ہے۔ اس لیے برطانیہ یمن میں عسکری اہداف پر حملوں کے حوالے سے دانستہ طور پر غیر جانب دار نہیں رہ سکتا ہے۔ برطانوی وزیرخارجہ نے یمن میں اتحادیوں کی عسکری مدد کا اعتراف کیا ہے تاہم انہوں نے یہ وضاحت نہیں کی کہ آیا برطانیہ کے کتنے فوجی اس آپریشن میں حصہ لے رہے ہیں۔ مسٹر ہیمونڈ کا کہنا تھا کہ یمن میں آپریشن میں مصروف عرب اتحادی ممالک کے ساتھ معاونت کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دینے کا کوئی ثبوت موجود نہیں۔ انہوں نے کہا کہ یمن میں سعودی عرب کی قیادت میں باغیوں کے خلاف جاری آپریشن عالمی قوانین کے مطابق ہے۔ اس لیے برطانوی فوج کی جانب سے یمن میں اہداف کی نشاندہی میں سعودی فوج کی مدد عالمی قانون کے تحت درست ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ برطانیہ یمن میں مستحکم حکومت کے قیام، امن وامان اور بنیادی شہری حقوق کو یقینی بنانے کی حمایت جاری رکھے گا۔

اس موقع پر ایک برطانوی رکن پارلیمنٹ نے پوچھا کہ آیا سعودی عرب کی قیادت میں یمن میں جاری آپریشن کے دوران انسانی حقوق کی پامالیاں کی جا رہیں تو برطانوی وزیرخارجہ نے جواب دیا کہ ان کے پاس سعودی فوج کے ہاتھوں انسانی حقوق کی پامالی کا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔ خیال رہے کہ سعودی عرب کی قیادت میں پچھلے سال سے یمن میں آئینی حکومت کی بحالی کے لیے جاری آپریشن میں شہری تنصیبات کے بجائے صرف باغیوں کے فوجی مراکز کو نشانہ بنایا گیا ہے،مگر باغیوں کی جانب سے اتحادی ممالک کو بدنام کرنے کے لیے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی جعلی خبریں پھیلا کر آپریشن کو متنازع بنانے کی سازشیں کی جا رہی ہیں۔ البتہ اس جنگ میں باغیوں کی جانب سے انسانی حقوق کی سنگین پامالی کی جا رہی ہے۔ باغیوں کی جانب سے عام شہری آبادی پر گولہ باری کی جاتی ہے جس کے نتیجے میں اب تک سیکڑوں شہری جن میں بیشتر خواتین اور بچے شامل ہیں جاں بحق ہو چکے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT