Thursday , November 23 2017
Home / دنیا / برطانیہ ہزاروں شامی پناہ گزینوں کو قبول کرنے آمادہ، بچہ کی نعش کی تصویر پر یوروپ سے عطیوں کی بوچھار

برطانیہ ہزاروں شامی پناہ گزینوں کو قبول کرنے آمادہ، بچہ کی نعش کی تصویر پر یوروپ سے عطیوں کی بوچھار

اقوام متحدہ ۔ 4 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) اقوامِ متحدہ نے یورپی یونین کے تمام رکن ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ ’بڑے پیمانے پر رہائش کی تبدیلی کے پروگرام‘ کے تحت دو لاکھ سے زائد تارکین وطن کو اپنے ممالک میں جگہ دیں۔ اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین اینٹونیو گوٹیرس کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ یورپ میں تارکین وطن کی آمد پر انھیں مناسب سہولیات دی جانی چاہیں۔ انہوں نے مہاجرین کے مسئلہ سے نمٹنے کے لیے ایک مشترکہ حکمت عملی اپنانے پر زور دیا ہے۔ ہنگری کی ایک ٹرین میں محصور تارکین وطن اور پولیس کے درمیان کشیدگی دوسرے دن بھی برقرار ہے جبکہ اسی مسئلہ پر بات کرنے کے لیے ہنگری کے وزیراعظم تین یورپی ممالک کے حکام سے آج پراگ میں ملاقات کر رہے ہیں۔ خیال رہے کہ جمعرات کو ہنگری کے دارالحکومت بوڈاپیسٹ کے ریلوے سٹیشن کو دو دن بند رکھنے کے بعد تارکین وطن کے لیے کھول دیا گیا تھا تاہم وہاں سے تارکین وطن کو لے کر روانہ ہونے والی ایک ٹرین کو بوڈاپیسٹ سے تقریباً 40 کلومیٹر دور مغرب میں بسکے کے مقام روک دیا گیا جہاں پر تارکین وطن کا سینٹر قائم کیا گیا ہے۔ ’تارکین وطن کا بحران دراصل جرمنی کا مسئلہ ہے‘ ٹرین میں موجود تارکینِ ٹرین چھوڑنے سے انکار کررہے ہیں

 

اور انھیں امید ہے کہ حکام انھیں آسٹریلیا کی سرحد تک پہنچا دیں گے۔ادھر برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کی جانب سے شامی تارکین وطن کو پناہ دیے جانے کا اعلان آج متوقع ہے جبکہ آسٹریلیا کے وزیراعظم ٹونی ایبٹ کا کہنا ہیکہ تارکین وطن کی اموات روکنے کا واحد طریقہ کشتیوں کو روکنا ہی ہے۔برطانوی وزیراعظم جمعہ کو اسپین اور پرتگال میں ہونے والے مذاکرات میں شرکت کر رہے ہیں جس میں تارکین وطن کا معاملہ بھی زیر غور آئے گا۔ لندن سے موصولہ اطلاع کے بموجب وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے آج اعلان کیا کہ برطانیہ مزید ہزاروں شامی پناہ گزینوں کو سرزمین برطانیہ پر پناہ دینے آمادہ ہے۔ انہوں نے انسانی بنیاد پر ہنگامی حالات پیدا ہوجانے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ برطانیہ تہہ دل سے شامی پناہ گزینوں کا اپنی سرزمین پر استقبال کرے گا۔ دریں اثناء ڈی ہیگ سے موصولہ اطلاع کے بموجب کرد بچہ کی ترکی کے ساحل پر نعش ابتر حالت میں دستیاب ہونے کے بعد پورے یوروپی ممالک میں پناہ گزینوں سے ہمدردی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ چنانچہ برطانیہ سے 15 کروڑ 30 لاکھ امریکی ڈالر، بین الاقوامی اولمپک کمیٹی کی جانب سے 20 لاکھ یورو، نیدرلینڈس کی جانب سے بھی عطیے روانہ کرنے کا اعلان کیا جاچکا ہے۔ ایلان اور اس کے 4 سالہ بھائی غالب کے علاوہ ان کی والدہ ریحانہ کی تصویریں جو ترکی کے ساحل کے قریب غرقاب ہوگئی ہیں، تصویریں دیکھ کر پورے یورپ میں ہمدردی کی لہر دوڑ گئی ہے۔

TOPPOPULARRECENT