Tuesday , October 23 2018
Home / شہر کی خبریں / برطرف آئی پی ایس عہدیدار سنجیو بھٹ کی سوشیل میڈیا پر شہرت

برطرف آئی پی ایس عہدیدار سنجیو بھٹ کی سوشیل میڈیا پر شہرت

وزیراعظم کی تقاریر کے دوران آنسو بہانے کی دلچسپ عکاسی : بی جے پی اصل نشانہ
حیدرآباد۔11 ڈسمبر(سیاست نیوز) گجرات انتخابات میں برطرف کردہ آئی پی ایس عہدیدار سنجیو بھٹ کو ذرائع ابلاغ میں تشہیر حاصل ہو یا نہ ہو ان کے سوشل میڈیا کے ذریعہ کہی جانے والی باتوں کو خوب پذیرائی حاصل ہونے لگی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ سنجیو بھٹ اپنی رائے کے ذریعہ نوجوان نسل کو نریندر مودی کے متعلق واقف کروانے کی بھر پور کوشش کر رہے ہیں ۔ سنجیو بھٹ نے وزیر اعظم کے تقریر کے دوران آنسو بہانے کے مسئلہ کو دلچسپ انداز میں پیش کرتے ہوئے کہا کہ مودی منترا یہ ہے کہ ’’اگر تم کامیاب نہ ہوسکو تو رو‘ رو اور روتے رہو‘‘ ان کے اس ٹوئیٹ کو کافی پسند کیا جانے لگا ہے ۔ ٹوئیٹر استعمال کرنے والوں کا کہنا ہے کہ سنجیو بھٹ بھارتیہ جنتا پارٹی کو منہ توڑ جواب ٹوئیٹر کے ذریعہ دے رہے ہیں اور کانگریس کی جانب سے ایسا کوئی سخت جواب نہیں دیا جا رہاہے اور نہ ہی سنجیو بھٹ کے ٹوئیٹ کو کانگریس کی جانب سے استعمال کیا جا رہاہے جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ سنجیو بھٹ تنہاء بھارتیہ جنتا پارٹی کو نشانہ بنا رہے ہیں۔انہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی قائدین اور وزیر اعظم کی تقاریر کے موضوعات کا مضحکہ اڑاتے ہوئے کہا کہ کو ن کہتا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے پاس انتخابی منشور نہیں ہے؟ بھارتیہ جنتا پارٹی کے انتخابی منشور کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے انتخابی منشور کے موضوعات میں ’داڑھی ٹوپی‘ شہزادہ‘ اورنگ زیب‘ بابر‘ لو جہاد‘ پپو‘ بابری مسجد‘ کانگریس ‘ مجھے نیچ کہا‘ گجرات کا بیٹا شامل ہیں اور ان پر ہی بھارتیہ جنتا پارٹی انتخابات میں حصہ لے رہی ہے اور اب ان سب موضوعات سے دال گلتی نظر نہیں آرہی ہے تو ایسی صورت میں رو‘ رو اور روتے ہوئے برا حال کرلو کی پالیسی اختیار کی جانے لگی ہے۔ان کے ٹوئیٹر کے ذریعہ کئے جانے والے ان تبصروں کو عوامی تائیدحاصل ہو رہی ہے اور ان کے اس فن کی بھی ستائش کی جا رہی ہے۔ سوشل میڈیا پر گجرات انتخابات کے دوران انتخابی مہم میں بھارتیہ جنتا پارٹی قائدین کی تقاریر کا سوشل میڈیا پر سنجیو بھٹ کے علاوہ عام آدمی پارٹی قائد و ہندی شاعر کمار وشواس خوب تنقید کر رہے ہیں اور ایسا محسوس ہورہا ہے کہ کمار وشواس خود بھی انتخابی میدان میں ہیں اور نریندر مودی کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ کمار وشواس نے نریندر مودی کی جانب سے کانگریس پر پاکستانی افواج سے ملاقات اور ان کے قتل کی سازش کے الزام پر حیرت و استعجاب کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب حکومت کو اس بات کا علم ہے کہ کانگریس نے دشمن ملک کی افواج سے خفیہ ملاقات کرتے ہوئے یہ سازش کی ہے تو وہ خود اقتدار میں ہیں ملک دشمنی کا مقدمہ درج کرواتے ہوئے ان قائدین کو گرفتار کرتے اور تحقیقات کے ذریعہ حقائق کو سامنے لایا جاتالیکن انتخابی مہم کے دوران اس طرح کے الزامات کے ذریعہ خود کی مظلومیت کو ثابت کرنا انتخابی حربہ ہی کہا جا سکتا ہے اور معصوم عوام کو گمراہ کرنے کی سازش ہی ہو سکتی ہے جو برسراقتدار جماعت کو زیب نہیں دیتی۔

TOPPOPULARRECENT