Monday , November 20 2017
Home / شہر کی خبریں / برقی اور پانی کی موثر عدم سربراہی پر عوام کی برہمی

برقی اور پانی کی موثر عدم سربراہی پر عوام کی برہمی

حکومت کی حلیف جماعت احتجاج کے نام پر عوام کی برہمی کو کم کرنے کوشاں
حیدرآباد۔20مئی (سیاست نیوز) ہم نے مسائل کے حل کیلئے نمائندے منتخب کئے تھے لیکن اس بار بھی ہمیشہ کی طرح ہمیں مایوسی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ احتجاج وہ جماعتیں کرتی ہیں جو اپوزیشن میں ہوتی ہیں لیکن حلیف جماعت احتجاج کے نام پر عوامی برہمی کو کم کرنے کی کوشش میں مصروف ہے۔پرانے شہر کے کئی علاقوں میں برقی سربراہی میں خلل اور ناکافی پینے کے پانی کی سربراہی سے عوام میں شدید برہمی پائی جاتی ہے اور اس برہمی کو کم کرنے کیلئے اب سیاسی قائدین کی نمائندگیوں کا موسم شروع ہو چکا ہے۔ بہادر پورہ ‘ تاڑبن ‘ کالا پتھر ‘ انجن باؤلی‘ ستار باغ ‘ کشن باغ ‘ رنمست پورہ ‘ دودھ باؤلی ‘ علی آباد ‘ سلطان شاہی ‘ مغلپورہ ‘ شاہ علی بنڈہ ‘ تالاب کٹہ ‘ نشیمن نگر ‘ بلال نگر کے علاوہ کئی علاقوں میں گزشتہ ایک ماہ سے برقی سربراہی میں پیدا ہو رہے خلل پر عوام کی متعدد شکایات کے باوجود ہدایت کے منتظر منتخبہ عوامی نمائندے خاموش تماشائی بنے رہے اور موسم گرما کے اختتام پر محکمہ برقی سے بلا وقفہ و بہتر برقی سربراہی کا مطالبہ کرتے ہوئے نمائندگی کی گئی جس پر عہدیداروں نے واضح کردیا کہ موسم باراں کے اختتام کے بعد ہی نئے سب اسٹیشن کی تعمیر کا آغاز ممکن ہے ۔ عوام کا کہنا ہے کہ اگر ہدایت دینے والے موسم گرما کے آغاز سے قبل ہدایت دے چکے ہوتے تو شائد موسم گرما کے دوران بھی عوام کو کوئی تکلیف نہیں ہوتی یا پھر کم از کم موسم گرما کے دوران محکمہ برقی کی جانب سے کام مکمل کرلئے جاتے لیکن نہ ہدایت کے منتظر نمائندوں نے نمائندگی کی جرأت کی اور نہ ہی ہدایت دینے والوں کو ان عوامی مسائل کی فکر لاحق رہی۔ محکمہ برقی کی جانب سے پرانے شہر کے متعلق اختیار کردہ سوتیلے سلوک پر عوامی نمائندوں کی جانب سے نمائندگیوں پر اکتفاء کیا جانا اور کام میں تاخیر کا جواب سننے کے باوجود خاموشی اختیار کر لینا یہ ثابت کرتا ہے کہ عوام کو درپیش مسائل کے حل سے زیادہ ارباب اقتدار سے تعلقات عزیز ہیں اور حکومت و محکمہ جات کی سہولت کو دیکھتے ہوئے ہی نمائندگیاں کی جا رہی ہیں۔ ایک ہفتہ قبل پرانے شہر کے علاقہ میں ایک نمائندے نے رات بھر برقی سربراہی بند رہنے کے بعد جمعہ کے دن دوپہر میںہدایت موصول ہونے کے بعد علامتی احتجاج کرتے ہوئے بلا وقفہ برقی سربراہی کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔ جناب سید حسین ساکن نور خان بازار نے زائد از 14گھنٹے برقی سربراہی بند رہنے اور 12گھنٹے بعد منتخبہ نمائندوں کی جانب سے نمائندگی کئے جانے پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت سے اختلاف یا اپوزیشن میں رہتے ہوئے مسائل حل نہ ہوں تو بات سمجھ میں آتی ہے لیکن جب نمائندے حکومت کے حلیف ہونے کا دعوے کرتے ہیں اس کے باوجود مسائل حل نہ ہوں تو اسے نا اہلی ہی کہا جائے گا۔ گزشتہ دنوں حلقہ اسمبلی بہادر پورہ کے علاقوں میں پانی کی سربراہی پر احتجاج کیا گیا جس سے ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ منتخبہ عوامی نمائندوں کی نمائندگیوں کا کوئی اثر عہدیداروں پر نہیں ہو رہا ہے جس کا خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ محکمہ آبرسانی کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ سیاسی تعلقات رکھتے ہوئے واٹر مافیا چلا رہے افراد اور ان کیلئے کی جانے والی نمائندگیاں محکمہ کیلئے درد سر بنی ہوئی ہیں۔ پانی کی عدم سربراہی کی شکایات کرنے والے شہریوں کو پانی خرید کر پینے کا مشورہ دیا جا رہا ہے جبکہ احتجاج کے ذریعہ مگرمچھ کے آنسو بہاتے ہوئے یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ حکومت نمائندگیوں پر رد عمل ظاہر نہیں کر رہی ہے۔ شہر کے کئی علاقوں میں جو صورتحال ہے عوام اس کیلئے منتخبہ نمائندوں کو ذمہ دار تصور کر رہے ہیں اور یہ کہہ رہے ہیں کہ منتخبہ نمائندے اپنے افراد خاندان کے ساتھ بیرون ملک گرمائی تعطیلات گزار لیتے ہیں اسی لئے ان میں اس بات کا قطعی احساس نہیں ہے کہ عوام کو کس حد تک برقی و پانی کیلئے دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT