Wednesday , December 12 2018

برقی بحران پر حکومت کو بدنام کرنے کی سازش

ظہیرآباد ۔ 23 ۔ اکٹوبر ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) ٹی آر ایس انچارج حلقہ اسمبلی ظہیرآباد مسٹر کے مانک راؤ نے آج یہاں انسپکشن بنگلہ میں طلب کردہ پریس کانفرنس کو مخاطب کرتے ہوئے ریاست تلنگانہ میں برقی بحران پر واویلا مچانے والوں کو اُلٹا چور کوتوال کو ڈانٹے کے مصداق قرار دیا اور کہا کہ متحدہ آندھراپردیش پر 50 سال تک حکومت کرنے والی کانگریس او

ظہیرآباد ۔ 23 ۔ اکٹوبر ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) ٹی آر ایس انچارج حلقہ اسمبلی ظہیرآباد مسٹر کے مانک راؤ نے آج یہاں انسپکشن بنگلہ میں طلب کردہ پریس کانفرنس کو مخاطب کرتے ہوئے ریاست تلنگانہ میں برقی بحران پر واویلا مچانے والوں کو اُلٹا چور کوتوال کو ڈانٹے کے مصداق قرار دیا اور کہا کہ متحدہ آندھراپردیش پر 50 سال تک حکومت کرنے والی کانگریس اور 14 سال تک دمام اقتدار سنبھالنے والی تلگودیشم ریاست تلنگانہ میں برقی بحران کیلئے ذمہ دار ہے اور ان کے قائدین کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ برقی بحران پر کسی قسم کی لب کشائی کریں ۔ انہوں نے دوٹوک کہا کہ متحدہ آندھراپردیش کی تقسیم کے موقع پر ریاست تلنگانہ کیلئے مقررہ حصہ کی برقی کی سربراہی کو مسدود کر کے آندھرائی چیف منسٹر مسٹر چندرا بابو نائیڈو تلنگانہ عوام کو برقی بحران میں جھونک کر ریاست تلنگانہ کی پانچ ماہی ٹی آر ایس حکومت کو بدنام کرنے کی مذموم کوشش کررہے ہیں جبکہ کانگریس قائدین بھی ریاستی حکومت کو رسواء کرنے کی کوششوں پر سبقت لے جانے کیلئے سرگرداں ہوگئے ہیں ۔ انہوں نے تلنگانہ کے تلگودیشم اور کانگریس قائدین کو مشورہ دیا کہ وہ ریاست تلنگانہ کی نئی نویلی حکومت کو برقی بحران کیلئے آڑے ہاتھوں لینے کے بجائے ان آندھرائی حکمرانوں کے خلاف صدائے احتجاج بلند کریں جن کی علاقہ تلنگانہ کیلئے اختیار کی گئی مجہول پالیسیوں کی بدولت تلنگانہ شاید بحران سے دوچار ہوگیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ ریاست کی تقسیم سے وجود میں آنے والی دو ریاستوں میں برقی صورتحال کا جائزہ لیں تو یہ حقیقت آشکار ہوجائے گی کہ نئی ریاست تلنگانہ میں برقی بحران کیلئے کون ذمہ دار ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت برقی بحران پر قابو پانے کیلئے پڑوسی ریاست چھیتس گڑھ سے معاہدہ کررہی ہے جبکہ اندرون تین سال ایک جامع منصوبہ بندی کے ذریعہ ریاست کو بحران سے پاک کرنے کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں ۔ انہوں نے کانگریس اور تلگودیشم قائدین کو خبردار کیا کہ وہ ریاستی حکومت کو بدنام کرنے کی اپنی مذموم کوششوں سے باز آجائیں ورنہ ٹی آر ایس بھی جوابی اقدام کرنے سے گریز نہیں کرے گی ۔ اس موقع پر ٹی آر ایس کے دیگر سرکردہ قائدین مسرز جی وجئے کمار ، مانکیماں ، محمد یعقوب ، محمد اکبر الدین ، نامہ روی کرن ، بنڈی موہن ، راملونیتا ، نوین کمار ، سید علی اکبر ، سید معزالدین اور دیگر موجود تھے ۔

TOPPOPULARRECENT