Tuesday , November 21 2017
Home / شہر کی خبریں / برقی شرحوں میں اضافہ کی تجویز سے دستبرداری کا مطالبہ، محمد علی شبیر کا ردعمل

برقی شرحوں میں اضافہ کی تجویز سے دستبرداری کا مطالبہ، محمد علی شبیر کا ردعمل

حیدرآباد ۔ 9 ۔ مارچ : ( سیاست نیوز ) : قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل مسٹر محمد علی شبیر نے برقی شرحوں میں اضافہ کرنے کی تجویز سے فوری دستبرداری اختیار کرنے کا تلنگانہ حکومت سے مطالبہ کیا ۔ صارفین پر 2 ہزار کروڑ روپئے کا زائد مالی بوجھ عائد کرنے کی کوشش کرنے کا حکومت پر الزام عائد کیا ۔ آج اسمبلی کے احاطے میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر محمد علی شبیر نے کہا کہ تلنگانہ ڈسکام نے تلنگانہ اسٹیٹ الیکٹریسٹی ریگولیٹری کمیشن کو برقی کی شرحوں میں 9.14 فیصد اضافہ کرنے کی تجویز پیش کی ہے ۔ جس کی وہ سخت مذمت کرتے ہیں اور حکومت تلنگانہ سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ تلنگانہ ڈسکام کو ہدایت دے کے وہ تلنگانہ اسٹیٹ الیکٹریسٹی ریگولیٹری کمیشن کو برقی شرحوں میں اضافہ کی جو تجویز پیش کی ہے ۔ اس سے دستبرداری اختیار کرلیں اگر برقی کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا تو صارفین پر 2 ہزار کروڑ روپئے کا زیادہ مالی بوجھ عائد ہوگا ۔ قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل نے کہا کہ ٹی آر ایس نے اپنے انتخابی منشور میں آئندہ پانچ سال تک برقی کی شرحوں میں کوئی اضافہ نہ کرنے کا تلنگانہ کے عوام سے وعدہ کیا تھا ۔ تاہم صرف 2 سال میں تلنگانہ حکومت اپنے وعدے سے منحرف ہوگئی ہے ۔ انتخابات میں فائدہ اٹھانے کے بعد حکومت نے اچانک برقی صارفین پر زیادہ مالی بوجھ عائد کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے سب کو حیرت زدہ کردیا ہے ۔ کانگریس کے دور حکومت میں پہلے 5 سال تک برقی کی شرحوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا ۔ جس میں وہ بحیثیت وزیر برقی خدمات انجام دے چکے ہیں ۔ برقی کی قلت کے باوجود کانگریس حکومت نے کسانوں کو مفت برقی سربراہ کرنے کے باوجود قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا اور مسلسل 7 گھنٹے تک معیاری برقی سربراہ کی ٹی آر ایس حکومت کسانوں کو برقی سربراہ کرنے میں ناکام ہے اور برقی صارفین سے جو وعدے کئے گئے اس کو انجام دینے میں کامیاب ہے باوجود اس کے برقی کی قیمتوں میں اضافہ کرنے کی تجویز تیار کی گئی ہے ۔ مسٹر محمد علی شبیر نے چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر پر شاہی طرز کی حکمرانی کرنے اور اپنے قیام کے لیے 30 کروڑ روپئے کا گھر تعمیر کرنے کا الزام عائد کیا ۔ ساتھ ہی سکریٹریٹ اور اسمبلی کی نئی عمارتوں کی تعمیرات پر عوام کے کروڑہا روپئے ضائع کرنے کا الزام عائد کیا ۔ نظام کے دور کا احیاء کرنے کا اعلان کرنے والے چیف منسٹر نظام کے دور حکومت میں تعمیر کردہ تاریخی عمارتوں سکریٹریٹ ، اسمبلی ، عثمانیہ ہاسپٹل اور چیسٹ ہاسپٹل کو منہدم کرنے کی کوشش کررہے ہیں جس کی کانگریس پارٹی سخت مذمت کرتی ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT