Monday , September 24 2018
Home / شہر کی خبریں / برقی صورتحال پر مباحث کیلئے جانا ریڈی اور اتم کمار ریڈی کی حاضری پر زور

برقی صورتحال پر مباحث کیلئے جانا ریڈی اور اتم کمار ریڈی کی حاضری پر زور

دوسرے قائدین کی شرکت ناقابل قبول ، ٹی آر ایس ایم پی بی سمن اپنے چیلنج پر برقرار
حیدرآباد۔ 12 جنوری (سیاست نیوز) ٹی آر ایس کے رکن پارلیمنٹ بی سمن اور ارکان مقننہ پی راجیشور ریڈی اور بھانو پرساد نے برقی صورتحال پر مباحث کے لیے شرط رکھی ہے کہ اگر سی ایل پی قائد جانا ریڈی اور پردیش کانگریس کے صدر اتم کمار ریڈی مباحث کے لیے حاضر ہوں تو ٹی آر ایس حصہ لے گی۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ٹی آر ایس قائدین نے کہا کہ وہ ایسے قائدین سے مباحث کرنا نہیں چاہتے جن پر اعتبار نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ رکن اسمبلی ریونت ریڈی پر کئی الزامات ہیں لہٰذا ٹی آر ایس پارٹی ان سے مباحث میں حصہ نہیں لے گی۔ سمن نے کہا کہ ریاست میں برقی کی صورتحال کے سلسلہ میں حکومت نے جو اعداد و شمار پیش کیے ہیں کانگریس پارٹی انہیں قبول کرنے تیار نہیں۔ لہٰذا انہوں نے کانگریس کو کھلے مباحث کا چیلنج کیا تھا۔ ریونت ریڈی نے اس چیلنج کو قبول کیا جبکہ ٹی آر ایس صرف ان قائدین سے مباحث کے حق میں ہے جن پر بھروسہ کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس سے کانگریس میں شمولیت اختیار کرنے والے ڈی شراون، کانگریس میں بے اثر رکن اسمبلی سمپت کمار اور ریونت ریڈی قائدین سے مباحث کے لیے تیار نہیں ہے۔ تلنگانہ عوام ریونت ریڈی کے بارے میں اچھی طرح سے واقف ہیں، ان کی سرگرمیاں اور ان پر جاری مقدمات کسی سے مخفی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کے سی آر، ان کے افراد خاندان، وزراء اور ٹی آر ایس قائدین پر بے بنیاد الزامات کے ذریعہ ریونت ریڈی عوام میں اپنا مقام کھوچکے ہیں۔ ایسے قائد سے بحث کرنا فائدہ مند نہیں۔ سستی شہرت کے لیے ریونت ریڈی نے مباحث کا چیلنج قبول کیا ہے اور وہ بے بنیاد الزامات عائد کررہے ہیں۔ سمن نے کہا کہ کانگریس پارٹی برقی کی صورتحال پر حکومت کے خلاف بے بنیاد الزامات عائد کررہی ہے تاکہ عوام کو الجھن میں مبتلا کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ تین برسوں میں ٹی آر ایس حکومت نے نہ صرف برقی بحران پر قابو پالیا بلکہ یکم جنوری سے کسانوں کو 24 گھنٹے مفت برقی سربراہ کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مفت برقی سربراہی اسکیم کو کانگریس پارٹی ہضم نہیں کرپارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلگودیشم اور کانگریس دور حکومت میں زرعی شعبہ کو نظرانداز کردیا گیا تھا۔ کسان برقی کی عدم سربراہی سے پریشان تھے۔ ٹی آر ایس قائدین نے کہا کہ گزشتہ تین برسوں میں ٹی آر ایس نے جو کارنامہ انجام دیا ہے اس کی مثال ملک کی کوئی ریاست پیش نہیں کرسکتی۔

TOPPOPULARRECENT