Wednesday , January 24 2018
Home / شہر کی خبریں / برقی ملازمین کو ہڑتال سے دستبردارہونے کی اپیل

برقی ملازمین کو ہڑتال سے دستبردارہونے کی اپیل

چیف سکریٹری ڈاکٹر پی کے موہنتی کی برقی شعبہ کے عہدیداروں کے ساتھ بات چیت

چیف سکریٹری ڈاکٹر پی کے موہنتی کی برقی شعبہ کے عہدیداروں کے ساتھ بات چیت

حیدرآباد 25 مئی (سیاست نیوز) ریاستی حکومت نے ہڑتالی برقی ملازمین سے عوامی مفادات کو پیش نظر رکھتے ہوئے اپنی ہڑتال کو جاری نہ رکھنے اور ہڑتال سے دستبرداری اختیار کرنے ریاستی برقی ملازمین کی مشترکہ مجلس عمل (برقی ملازمین کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی) سے پرزور اپیل کی اور کہاکہ برقی ملازمین کے لئے پے ریویژن کمیٹی کی سفارشات پر بہرصورت عمل آوری ہوگی لہذا برقی ملازمین سے صرف چند دن انتظار کرنے کی پرزور خواہش کی۔ آج یہاں برقی شعبہ کے اعلیٰ عہدیداروں مسرس وجیانند، ایس کے جوشی، سریش چندا اور ایس ایم رضوی کے ہمراہ سکریٹریٹ میں اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ڈاکٹر پی کے موہنتی ریاستی چیف سکریٹری نے مذکورہ اظہار خیال کیا اور بتایا کہ چونکہ ریاست میں عام انتخابات کے بعد ریاست آندھراپردیش اور ریاست تلنگانہ کے لئے واضح اکثریت کے ساتھ دو حکومتیں منتخب ہوچکی ہیں، جس کے پیش نظر آئندہ ایک ہفتہ میں دونوں ریاستوں کے چیف منسٹرس بھی اپنی حلف برداری کے بعد اپنی اپنی ریاستوں کے حکومتیں سنبھال لیں گے اور دونوں ہی چیف منسٹرس اس اہم ترین مسئلہ پر قطعی فیصلہ کریں گے۔ اُنھوں نے کہاکہ اب چونکہ صرف چند دن باقی رہ گئے اور ان چند دنوں کے لئے حکومت کی جانب سے کوئی پالیسی فیصلہ کرنا مناسب بات نہیں ہوگی جس کے پیش نظر ہی حکومت نے برقی ملازمین کے پے ریویژن کمیٹی رپورٹ پر عمل آوری سے گریز کرتے ہوئے نئی حکومتوں کو پے ریویژن کمیٹی سفارشات سے متعلق فائیل پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ڈاکٹر پی کے موہنتی نے مزید کہاکہ ریاستی حکومت میں ملازمین سرکار کیلئے پانچ سال میں ایک مرتبہ پے ریویژن کمیشن کا قیام عمل میں لایا جاتا ہے اور مرکزی ملازمین کیلئے دس سال میں ایک مرتبہ پے ریویژن کمیشن کا تقرر کیا جاتا ہے لیکن ریاست میں برقی شعبہ کے ملازمین کیلئے چار سال میں ایک مرتبہ پے ریویژن کمیشن کا تقرر کیا جاتا ہے اور اسی طریقہ کار کے مطابق حکومت نے ماہ اپریل 2010 ء میں پے ریویژن کمیشن کا تقرر کرنے پی آر سی کمیٹی کی سفارشات پر عمل آوری کی گئی تھی اور اس چار سالہ مدت کے ختم ہونے پر دوبارہ جاریہ سال پے ریویژن کمیٹی کا تقرر کئے جانے کو پیش نظر رکھتے ہوئے ماہ فروری 2014 ء میں برقی ملازمین کیلئے پے ریویژن کمیٹی کا تقرر عمل میں لایا گیا اور اس کمیٹی نے اپنی رپورٹ بھی ماہ مارچ 2014 ء میں ہی پیش کردی تھی۔ لیکن محض انتخابات کے پیش نظر انتخابی ضابطہ اخلاق پر عمل آوری کی وجہ سے فوری طور پر پی آر سی پر عمل آوری نہیں کی جاسکی لیکن بعدازاں ریاستی حکومت نے مرکزی الیکشن کمیشن سے باقاعدہ طور پر اجازت حاصل کرکے انتخابی ضابطہ اخلاق کی عمل آوری کے باوجود برقی ملازمین جے اے سی قائدین کے ساتھ بہت ہی خوشگوار انداز میں بات چیت کا آغاز کیا اور 17 مئی تک برقی ملازمین جے اے سی قائدین سے بات چیت کا سلسلہ جاری رہا اور بات چیت کا اختتام عمل میں آنے کے بعد 20 مئی کو پے ریویژن کمیشن کی رپورٹ حکومت کو روانہ کی گئی اور رپورٹ کی وصولی کے فوری بعد 21 مئی کو فائیل مرتب کرکے ریاستی گورنر کو فائیل روانہ کردی گئی لیکن ریاستی گورنر نے محض نئی حکومتوں کی آئندہ صرف چند دنوں میں تشکیل پائی جانے والی حکومت کو فائیل پیش کرکے باقاعدہ منظوری حاصل کرنے کا حکومت نے فیصلہ کیا۔

ڈاکٹر پی کے موہنتی نے مزید کہاکہ برقی ملازمین کو نئے پے ریویژن کمیٹی کی سفارشات پر عمل کرنے کی صورت میں صرف حکومتوں پر 1250 کروڑ روپیوں کے زائد مصارف عائد ہوں گے۔ ریاستی چیف سکریٹری نے مزید کہاکہ اگر برقی ملازمین کیلئے پے ریویژن کمیٹی کی سفارشات پر عمل آوری میں کوئی تاخیر ہونے کی صورت میں بھی پے ریویژن کمیٹی کی سفارشات پر یکم اپریل 2014 ء سے ہی عمل آوری کو یقینی بنانے کے اقدامات کئے جارہے ہیں اور اس بات کا واضح تیقن دیا کہ برقی ملازمین یونینوں کی مشترکہ مجلس عمل قائدین کے ساتھ حکومت کے طے پائے معاہدات کے مطابق ہی پے ریویژن کمیشن سفارشات پر عمل آوری کی جائے گی۔ لہذا ان تمام حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے اور عوامی مفادات بالخصوص ہاسپٹلس، ریلوے سرویسس کے علاوہ شدید گرما کو پیش نظر رکھنے عوام کو مشکلات پیدا نہ کرنے کیلئے ہڑتالی برقی ملازمین سے صرف چند دن صبر کرتے ہوئے اپنی ہڑتال کو ختم کرنے کی پرزور اپیل کی۔

TOPPOPULARRECENT