Saturday , November 18 2017
Home / اضلاع کی خبریں / برما میں جارحیت کے خلاف سنگاریڈی میں زبردست احتجاج

برما میں جارحیت کے خلاف سنگاریڈی میں زبردست احتجاج

سنگاریڈی10 ؍ستمبر (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز)کل جماعتی تحفظ شریعت محمدی ؐ کمیٹی سنگاریڈی کی جانب سے ما ئنمار برما کے روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام اور نسل کشی کے خلاف سنگاریڈی کے محلہ نعل صاحب گڈہ چوراہا پر ایک احتجاجی جلسہ کا انعقاد عمل میں آیا۔ جلسہ کا آغاز کمسن نعت خاں محمد نظام الدین کی نعت پاک سے ہوا ۔الحاج محمد خواجہ صدر مرکزی میلاد کمیٹی نے نظامت کے فرائض انجام دیتے ہوئے کہا کہ برما میں مسلمانوں پر ہو نے والے ظلم و ستم کے خلاف آج کا یہ احتجاج جلسہ و احتجا جی ریا لی انتہائی پر امن طور پر منظم کی جارہی ہے ۔ما ینمار میں مسلمانوں پر مظالم کے دوران اچا نک وزیر اعظم ہند نریندر مودی اچا نک ما ینمار پہنچے اور وہا ں کی سربراہ آنگ سان سو چی سے ملاقات میں مسلمانوں پر مظالم پر مسئلہ نہیں چھیڑا جس سے ان کی ذہنیت کا بخوبی اندازہ لگا یا جا سکتا ہے ۔ مولانا محمد طاہر علی شاہ نوری کنوینر نے کہا کہ آج برما کے مسلمانوں پر ظلم وستم ڈھا یا جا رہا ہے ۔ جس کا سو شل میڈیا پر تصو یروں کے ذریعہ مشا ہدہ کر تے ہوئے دل دہل جا رہے ہیں دن رات مسلمانوں کے مکا نات پر حملے آتشز دگی‘ عصمت ریزی ‘ دلخراش و اقعات پیش آر ہے ہیں اور تقریباً 2 لاکھ سے زیادہ مسلمان ما ینمار سے بنگلہ دیش کی سرحد پہنچ رہے ہیں ۔بے یارو مد گار ہیں موجودہ حالات کے با وجود مسلمانوں کو اللہ کی رحمت سے مایوس ہونے کی چنداں ضرورت نہیں ہے مسلمان اللہ تبارک تعالی کے احکامات اور حضور ؐ کی سنتوں پر عمل پیرا ہو جائیں تو مسلمان دین و دنیا دونوں جہانوں میں کامیاب و سر خرو ہو نگے۔ سوپر پاور اللہ تعالی ہے وہ ظالموں کو معاف نہیں کر یگا مسلمانان سنگاریڈی کی جانب سے روہنگیا ئی مسلمانوں سے اظہار ہمدردی کیلئے آج کا یہ احتجا جی جلسہ و ریالی منظم کی جا رہی ہے ضرورت پڑ نے پر ما ینمار کے تباہ حال مسلما نوں کیلئے مالی امداد پہنچا نے کی کوئی سہولت ہو تومسلمانان سنگاریڈی کی جانب سے ضرور تعاون کیا جائیگا ۔ مفتی محمد اسلم سلطان قا سمی نے کہا کہ آج اگر ملکوں کی سر حدیں نہیں ہو تی تو یہ نوجو ان بر ما ما ینمار کے تباہ حال مسلمانوں کے چھو ٹے چھوٹے معصوم بچوں کے آنسوپو چھنے کیلئے ما ینمار کی سرحدوں پر پہنچ چکے ہو تے‘ انہوں نے کہا کہ تباہ حال ظلم و بر بریت کا شکار مسلمانوں سے اظہار ہمدردی و اظہار یگا نگت کیلئے جمع ہوئے ہیں انشاء اللہ ما ینمار کے مظلوم و ستم رسیدہ مسلما نوں کی اللہ تعالی مدد و نصرت فر ما ئیگا جس کے لئے ہمیں انفرادی و اجتما عی دعائوں کااور قنوت نازلہ کا اہتمام کرنا چا ہیے۔انہوں نے کہا کہ قومی انگریزی نیوز چیانل ٹائمس نائو کے مبا حثے میں سابق را آفیسر آر ایس این سنگھ نے شا ن رسالت مآب ﷺ میں گستاخانہ کلمات استعمال کیا جس پر کل جماعتی تحفظ شریعت محمد ی ؐ کمیٹی سنگاریڈی نے شدید غم و غصہ اور نا را ضگی کا اظہار کیا ۔مسلمان سب کچھ بر داشت کر سکتا ہے لیکن حضور نبی کریم ﷺ کی شان اقدس میں گستا خی ہر گز برداشت نہیں کر سکتا۔محمد اطہر محی الدین شا ہد نے کہا کہ ما ینمار میں ایک انسان کا قتل ساری انسانیت کے قتل کے مترادف ہے مسلمان جو 1823 سے ما ینمار میں موجود ہیں برمی مسلمانوں کو وہاں کی شہریت نہیں دی جا رہی ہے ۔اور انسانیت سوز مظالم ڈھائے جا رہے ہیں۔کتنے مسلمان ایسے ہیں جو برمی مسلمانوں پر ظلم و ستم کے خلاف اپنا اپنا احتجاج درج کروائیں ہیںیہ انسانیت کا معاملہ ہے یہ میرا یا آپ کا معاملہ نہیں ہے۔برما جو مسلمان شہید ہو گئے ہیں اللہ تعالی ان کے درجات کو بلند فرمائے۔انہوں نے عالمی طا قتوں سے گذارش کی کہ ما ینمار روہنگیائی مسلمانوں کو قانونی? موقف دینے کے اقدامات کئے جائیں۔محمد خواجہ نظام الدین ایڈو کیٹ نے کہا کہ مسلمانوں کو ہی مسلسل نشانہ بنا کر نسل کشی کی جا رہی ہے اور 50 سے زائد مسلم مما لک ہونے کے با وجود خاموش ہیں مسلمانوں پر ظلم ہو تو تمام مسلم مما لک کو بھی متحد ہو نے کی ضرورت ہے ضیاء الدین محمد ی نے کہاکہ تقریباً ایک ہزار سال سے مسلمان برما میں موجود ہیں اور 300 سال تک حکومت کر چکے ہیں وزیر اعظم ہند کے پاس برمی مسلمانوںکے قتل عام کو روکنے کیلئے وقت نہیں ہے ۔ انہوں نے اپنے انداز میں اس شعر پر اپنی تقریر ختم کی عزت سے جینے دیا جائے تو جی لینگے ۔۔۔۔۔ نہیں تو جام شہادت پی لینگے۔مولانا سید فصیح الدین نے برما میں ہونے والے ظلم و تشد د کو انسا نی تاریخ کا بد ترین سا نحہ قرار دیا اور اقوام متحدہ سے اپیل کی کہ وہ فوری طور پر اس وحشیانہ قتل اور ظلم و ستم و بر بریت پر روک لگا ئے۔آج ساری عالمی طاقتیں اس خصو ص میں خاموش تماشائی رول ادا کر رہی ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ۔خواجہ ارشد الدین ایڈ وکیٹ نے آج کے اس احتجاجی ریالی کا مقصد برما ‘ما ینمار کے مسلمانوں پر ہو رہے ظلم و ستم کے خلاف احتجاج اور وہاں کے مسلمانوں سے اظہار ہمدردی و اظہار یگا نگت کیلئے منظم کی گئی ہے انہوں نے کہا کہ اس خصوص میں ایک تحریری یادداشت بنام وزیر اعظم ہند کو بذریعہ فیاکس اور ای میل روانہ کی جائیگی۔مولانا سید ذاکر حسین ‘ مولانا محمد عبد الرحیم غنی نوری ‘ شیخ عارف الدین شجاع ‘ محمد لیاقت علی قائد ٹی آر ایس ‘ کونا وینو گوپال یوتھ اسٹو ڈنس لیڈر اور دلت قائد کپا رام پر کاش نے بھی اپنے اپنے خطاب میں ما ینمار میں مسلمانوں میں نسل کشی اور ظلم و بر بریت کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور آنگ سونگ سو چی کے نوبل انعام کو واپس لینے کا مطالبہ کیا ۔مولانا عارف احمد عزیزی نوری کی دعا پر احتجاجی جلسہ کا اختتام عمل میں آیا ۔ اس موقع پر ایم جی انور ‘ مولانا محمد کریم الدین غو ثوی ‘ ایم اے سمیع ‘ شیخ ابو بکر ‘ شیخ عارف‘ محمد یعقو ب علی ‘محمد اعجاز احمد ‘ محمد فاضل ‘ یوسف بن عمر ( مجیب ) ‘ سید غوث محی الدین ‘معراج خان ہا شمی ‘ قمرالدین بخاری و دیگر کثیر تعداد میں نوجوان موجود تھے بعد ازاں سنگاریڈی نعل صاحب گڈہ چوارہا سے قدیم بس اسٹانڈ تا آئی بی گیسٹ ہائوز تک ایک زبردست احتجاجی ریالی منظم کی گئی جہاں پر سربراہ ما ینمار آنگ سانگ سو چی اور بد ھسٹ لیڈ ر کے پتلوں کو نذر آتش کیا گیا ۔

TOPPOPULARRECENT